قسط نمبر33 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: تیسواں) (یونان ~ حصہ سوئم) (اہل یونان کے معاشرتی حالات)
قدیم یونان کا معاشرہ تین طبقوں میں منقسم تھا۔
بادشاه: سیاسی اختیارات کے ساتھ ساتھ اسے سب سے بڑا مذہبی پیشوا بھی مانا جاتا تھا۔ اور وہ اپنے امراء کی مدد اور مشوروں سے اپنی حکومت کا کاروبار چلاتا۔ بادشاہ اور اس کی ملکہ عام لوگوں کی طرح خود بھی کام کرتے تھے اوڈیسوس نامی بادشاہ کو بھی اس بات پر فخر تھا کہ وہ اپنے کھیتوں میں کام کرتا ہے اور اس نے اپنا پلنگ خود بنایا ہے اور اس کی ملکہ پینی لوپی سوت کاتتی اور کپڑا بُنتی ہے۔
امراء: ان کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ دیویوں اور دیوتاؤں سے پیدا ہوئے ہیں اور ان کا نسب زیوس دیوتا سے ملتا ہے جو کوہ اوپس کے دیوتاؤں کے خاندان کا حاکم اعلیٰ ہے اسی دعوی کی بناء پر انہوں نے اپنے معاشرہ میں دیگر طبقات اور قبائل پر فوقیت حاصل کر لی۔
عوام: جنہیں جنگ سے کوئی واسطہ نہ تھا ان کا معاشی نظام غارت گری اور بحری قزاقی کے علاوہ تجارت اور کاشتکاری پر مبنی تھا، وہ مویشی پالتے اور غلے اگاتے۔ خاص چیزوں کی کاشت کرتے مثلاً زیتون اور انگور ۔ ان کے کاریگر جنگی رتھ اور رزم و پیکار کے لئے اسلحہ تیار کرنے میں ماہر تھے۔
آباد کاری: جیسے آپ پڑھ چکے ہیں کہ کھیتی باڑی کے لئے یہاں اراضی بہت محدود تھی جو دو پہاڑوں کے درمیان وادی میں پائی جاتی تھی نیز باہمی جنگوں کا طویل سلسلہ داخلی طور پر فتنہ و فساد کی آگ ہر وقت بھڑکاتا رہتا ان امور نے اہل یونان کو اپنے ملک سے باہر آبادیاں قائم کرنے پر مجبور کر دیا وہ غیر مطلوب بچوں کی پیدائش روکنے کے لئے ہر ممکن طبی وسائل کام میں لاتے اور کثرت اولاد سے بچنے کے لئے لوگوں کو ترغیب دی جاتی کہ وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے عورتوں کے بجائے اپنے ہم جنسوں کو ترجیح دیں ان غیر فطری کوششوں کے باوجود وہاں کی آبادی بڑھتی رہی یہاں تک کہ انکے وطن کی سرزمین ان کے لئے تنگ ہو گئی اور وہ بیرون ممالک میں نو آبادیاں قائم کرنے پر مجبور ہو گئے۔
(تاریخ تہذیب ،صفحہ 76)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲