Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر 20 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: سترہواں)

(ایران ~ حصہ سترہواں)
(ساسانی خاندان ~ حصہ دہم)
(ساسانی خاندان کی حکومت کا آغاز ~ حصہ ششم)

احتیاط کا یہ عالم تھا کہ بادشاہ کے مخصوص کمرے میں اس کی اجازت کے بغیر اس کا اپنا بیٹا بھی داخل نہیں ہو سکتا تھا جاحظ نے اس بارے میں ایک دلچسپ حکایت بیان کی ہے۔ یزدگرد اول نے ایک دن اپنے بیٹے بہرام کو جو اس وقت تیرہ سال کا تھا ایسی جگہ پر دیکھا جہاں اس کو آنے کا حق نہ تھا اس نے اس سے پوچھا کہ آیا دربان نے تمہیں یہاں آتے دیکھا تھا بہرام نے کہا ہاں ! بادشاہ نے کہا اچھا جاؤ اسے تیس کوڑے مارو اور نکال دو۔اور اس کی جگہ آزاد مرد کو دربان مقرر کرو، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا کچھ مدت بعد ایک دن پھر بہرام نے وہاں آنا چاہا لیکن آزاد مرد نے اس کے سینے پر زور کا مکا مارا اور کہا اگر میں نے پھر تجھے یہاں دیکھا تو تجھے ساٹھ کوڑے لگاؤں گا۔تیس اس بات کے کہ تو نے پہلے دربان پر ظلم کیا اور تیس اس بات کے کہ وہی ظلم تو مجھ پر نہ کرے۔بادشاہ کو جب اس بات کی اطلاع ملی تو اس نے آزاد مرد کو بلوا کر خلعت اور انعام دیا۔ (ایران بعہد ساسانیاں ،صفحہ ۵۴۲)

جب بادشاہی، آمریت اور مطلق العنانی کا روپ اختیار کر لیتی ہے تو پھر ملکی خزانے بادشاہ کی ذاتی ملکیت بن جاتے ہیں اور اس کی عیش پرستی پر خرچ ہونے لگتے ہیں مثال کے طور پر صرف خسرو پرویز کے بارے میں سنیئے اس کی عیش کوشی اور شاہانہ جاہ و جلال کے اظہار پر عوام کے گاڑھے پیسنے کی کمائی کس بے دردی سے خرچ کی جاتی تھی اور کسی کی مجال نہ تھی کہ اس کے بارے میں باز پرس کر سکے یا اپنی ناراضگی کا اظہار ہی کر سکے علامہ طبری رحمۃ اللہ علیہ اپنی شہرہ آفاق کتاب “تاریخ الامم والملوک” میں لکھتے ہیں۔ خسرو کے حرم میں تین ہزار بیویاں تھیں علاوہ ان ہزار ہا لونڈیوں کے جو اس کی خدمت کرتی تھیں اور رقص و سرور کی محفلوں کو زینت بخشتیں ان کے علاوہ تین ہزار خدمت گار تھے آٹھ ہزار پانچ سو سواری کے گھوڑے سات سو ساٹھ ہاتھی اور بارہ ہزار بار برداری کے خچر تھے ۔اور جواہرات، سونے کے قیمتی ظروف کا اس سے بڑھ کر اور کوئی شوقین نہ تھا۔
(تاریخ الطبری ،کتاب تاریخ الامم والملوک ،جلد اول، جز دوم، صفحہ 158، مجموعہ)

علامہ ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ “الکامل” میں علامہ ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ کی تصدیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
“وَقِيْلَ ثَلَاثَةُ اٰلَافِ امْرَاَةٍ يَّطَاُهُنَّ وَاٰلَافُ جَوَارٍ وَّكَانَ لَهٗ خَمْسُوْنَ اَلْفَ دَآبَّةٍ وَّكَانَ اَرْغَبَ النَّاسِ فِي الْجَوَاهِرِ وَ الْاَغَانِيْ وَغَيْرِ ذٰلِكَ”
ترجمہ: کہا گیا ہے کہ اس کی تین ہزار بیویاں تھیں اور کئی ہزار کنیزیں اس کے پاس پچاس ہزار گھوڑے تھے جواہرات اور موسیقی وغیرہ کا وہ از حد شوقین تھا۔
(الکامل، صفحہ ۴۹۲ ،جلد اول)

پروفیسر آرتھر نے اس روایت کو اپنی کتاب “ایران بعہد ساسانیاں” میں نقل کیا ہے۔ان بادشاہوں کے شاہانہ تکلفات اور فضول خرچیوں کا صحیح اندازہ لگانا آسان نہیں ان کے آخری بادشاہ یزدگرد جس کو مسلمانوں نے شکست دی تھی۔ جب گرفتار ہونے کے خوف سے طیغون (جو ان کا پایہ تخت تھا) سے بھاگا تو اپنے ہمراہ ایک ہزار باورچی، ایک ہزار گوئیے ایک ہزار چیتوں کے محافظ ایک ہزار باز دار بہت سے دوسرے لوگ لیتا گیا یہ تعداد اس کے نزدیک ابھی کم تھی۔ بادشاہوں کی دولت و ثروت عیش و عشرت اور اسراف و فضول خرچی کا یہ عالم تھا۔ اب ان کے ایک گورنر کی دولت و ثروت کا قصہ بھی سن لیجئے۔ خسرو نے اپنے درباریوں اور موبدوں سے پوچھا کہ حاکم آذربائیجان کے پاس زر نقد کس قدر ہے؟ انہوں نے کہا کہ بیس لاکھ دینار جن کی اسے کچھ ضرورت نہیں۔
اور مال و اسباب کس قدر ہے؟ پانچ لاکھ دینار کا سامان سونے و چاندی کا ہے۔
جواہرات کتنے ہیں؟ چھ لاکھ دینار کی قیمت کے۔
زمین اور جاگیر کتنی ہے؟ خراسان ، عراق ، فارس، آذربائیجان کا کوئی ضلع اور شہر ایسا نہیں جہاں اس کے مکان، سرائیں اور زمینیں نہ ہوں۔
گھوڑے اور خچر کتنے ہیں؟ تیں ہزار۔ بھیڑیں کتنی ہیں؟ دولاکھ۔
کتنے غلام اور لونڈیاں ہیں جن کو اس نے قیمت دے کر خریدا ہے؟ سترہ سو ترک، یونانی اور حبشی غلام اور چودہ سو لونڈیاں ۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ 503-504)

اس سے دوسرے گورنروں اور امراء کی دولت و ثروت کا کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔جب ملکی دولت بادشاہوں ، شہزادوں ، شاہی خاندان کے دیگر افراد صوبوں کے گورنروں اور امراء کے پاس سمٹ کر آجائے تو عوام کی غربت و افلاس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس آمرانہ ملوکیت کے باعث ایران کے حکمرانوں سے اخلاقی طور پر ایسی گھٹیا حرکتیں سرزد ہوتی تھیں جنہیں پڑھ کر آج بھی شرافت سر جھکا لیتی ہے اور عرقِ انفعال میں ڈوب ڈوب جاتی ہے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top