Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
پلیٹ فارم: سیرت النبی ﷺ انٹرنیشنل فورم {SIF} عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر70 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: ستاسٹھ) {ہندوستان : حصہ سترہواں} (بدھ مت اور جین مت : حصہ سوم)

ان کے لٹریچر کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس معنی میں کسی کو خدا نہیں مانتے تھے کہ وہ اس کائنات کا خالق و مالک اور شئون کائنات نیک و بد کی تدبیر فرما رہا ہے لیکن دیوتاؤں کے وجود سے انہیں بھی انکار نہیں۔ ہندوؤں کے کئی دیوتاؤں کو بھی مانتے تھے۔ اور انہوں نے اپنے مخصوص دیوتا بھی مقرر کئے ہوئے تھے۔ جنگ کا دیوتا جس کو برہمن اندرا کہتے تھے اس کو بدھ مت میں سَکّہ (SAKKA) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے صحیح بات یہ ہے کہ نہ وہ خدا کے وجود پر ایمان لانے کو ضروری سمجھتے تھے اور نہ کسی کو خدا، نہ ماننے کو وہ ضروری سمجھتے تھے۔ ان کا تعلق لا ادری فرقہ سے تھا۔ جن سے جو بات پوچھی جائے ان کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ میں نہیں جانتا۔ خدا کے وجود اور عدم وجود دونوں کے بارے میں ان کا یہی جواب تھا کہ ہم نہیں جانتے گوتم نے جو فلسفہ پیش کیا اس کا اہم نکتہ یہ تھا کہ روح کا کوئی وجود نہیں۔ جس چیز کا وجود ہے وہ مادہ ہے جو ہر لحظہ اپنی شکل بدلتا رہتا ہے پھلنے پھولنے، مرجھا جانے اور پھر کِھل اٹھنے کا عمل اس میں جاری رہتا ہے اس کے نزدیک کسی شخص کی ذات کا بھی کوئی وجود نہیں چند صفات اور خصوصیات جب جمع ہو جاتی ہیں تو ایک ذات بن جاتی ہے جب وہ صفات بکھر جاتی ہیں تو وہ ذات بھی فنا ہو جاتی ہے لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ گوتم ایک طرف تو روح کے وجود کا انکار کرتا ہے اور ساتھ ہی تاریخ کے نظریہ کا قائل بھی ہے حالانکہ اس نظریہ کے ماننے والوں کے نزدیک موت کے وقت جسم فنا ہو جاتا ہے اور روح باقی رہتی ہے۔ پھر یہ روح کسی دوسرے قالب میں منتقل ہو جاتی ہے موت کے ہاتھوں جب یہ دوسرا قالب ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے تو وہی روح اپنے ظہور کے لئے کسی اور قالب کا لباس پہن لیتی ہے ہندوؤں کے نزدیک تو تناسخ کا چکر لامتناہی ہے لیکن گوتم بتاتا ہے کہ اگر انسان اپنے جنم میں میرے بتائے ہوئے راستہ پر عمل کرتے ہوئے نروان حاصل کر لے تو اس کو تناسخ کے چکر سے نجات مل جاتی ہے اسے ہر نئی ولادت کے وقت جس دردِ زِہ سے دو چار ہونا پڑتا ہے اس سے وہ ہمیشہ کے لئے چھٹکارا پا لیتا ہے۔ گوتم کے نزدیک خواہش اور طلب تمام برائیوں کی جڑیں ان کو کلیۃ ترک کر دینے سے اطمینان حاصل ہوتا ہے جسے ان کی اصطلاح میں نروان کہتے ہیں تمام خواہشوں میں سے سب سے نقصان دہ اور المناک خواہش یہ ہے کہ انسان اپنے لئے بقاء دوام کا آرزو مند ہو۔ جو شخص اپنے آپ کو غیر فانی بنانے کی جستجو میں رہتا ہے وہ گویا ایک موہوم چیز کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ جو اسے کبھی حاصل نہیں ہوگی اس کے نزدیک اپنی ذات کی نفی، اپنی ذات کے اثبات سے حق کے زیادہ قریب ہے۔ گوتم نے گوشہ نشینی کی زندگی اختیار نہیں کی۔ بلکہ عالمی محبت کا مثالی نظریہ پیش کیا اور اس پر عمل کرنے کے لئے خدمت خلق اور ہر آڑے وقت میں مصیبت زدہ لوگوں کی امداد کرنے کو ضروری قرار دیا وہ ایک ماہر، قابل معلم تھا۔ اپنے مدعا کو واضح کرنے کے لئے اور اپنے سامعین کے قلوب و اذہان میں اسے نقش کرنے کے لئے اس کے پاس مثالوں اور استعاروں کی کمی نہ تھی۔ گھریلو زندگی ہو، ازدواجی مسائل ہوں، کاروباری معاملات ہوں، ان کے بارے میں اس کے پند و نصائح بڑے مفید ہوتے افراط و تفریط سے اجتناب اور میانہ روی اختیار کرنے کی وہ تلقین کرتا۔ وہ بار بار کہتا کہ قواعد و عقائد سے انسان کا عملی رویہ بہت اہم ہے وہ سوشل مصلح سے زیادہ اخلاقیات کا معلم تھا دوسروں کے عقائد پر تند و تیز تنقید کر کے ان کے جذبات کو مجروح نہیں کیا کرتا تھا اور اپنے شاگردوں کو بھی لوگوں کی دل آزاری سے روکا کرتا تھا۔ اس نے جو آخری نصیحت کی وہ یہ تھی۔

Work out your emancipation with diligence.
ترجمہ: یعنی محنت اور جدوجہد سے ہر قسم کی محکومی اور قیود سے آزادی حاصل کرو۔

ہر بدھا کی زندگی میں اس کی تعلیمات میں مذہبیت کا کوئی عنصر نہ تھا اس کے مرنے کے بعد ایک صدی یا دو صدیوں کے اندر اندر بدھ مت کے پیروکاروں نے اپنی مخصوص مذہبی رسوم راہبانہ علامات ما فوق الفطرت عناصر وضع کر لیں رفتہ رفتہ ہندوستان میں بدھ مت راہبوں اور راہبات کے طبقہ کا نام بن گیا اس طبقہ میں ہر کس و ناکس کو شریک نہیں کر لیا جاتا تھا۔ بلکہ داخلہ کے امیداروں کو پہلے طویل ریاضتیں کرنا پڑتیں تربیت کی تکمیل کے بعد امیدوار اپنا سر منڈوا دیتا زرد رنگ کا لباس پہنتا اور قسم کھا کر یہ وعدہ کرتا کہ وہ افلاس اور پاکیزگی کی زندگی بسر کرے گا بدھ راہب موسم برسات کے تین ماہ اپنی اپنی خانقاہوں میں بسر کرتے باقی نو ماہ وہ شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں گھومتے رہتے۔ لوگوں سے بھیک مانگتے اور اس سے اپنا پیٹ بھرتے۔
(ہسٹری آف ریلیجن خلاصہ، از صفحہ 83 تا 97)

اہل ہند برہمنوں کی مذہبی اجارہ داری سے تنگ آچکے تھے اور معاشرہ کی طبقاتی تقسیم کے باعث ظلم و ستم کا جو بازار گرم ہو گیا تھا اس سے وہ دل برداشتہ ہو چکے تھے ان کے لئے بدھ مت، رحمت کا ایک پیغام ثابت ہوا۔ “انسائیکلو پیڈیا آف بریٹانیکا” کا مقالہ نگار لکھتا ہے بدھ مت، ہندوستان میں پھیلے ہوئے رسم و رواج کے خلاف ایک صدائے احتجاج تھی جس نے ویدوں کو مسترد کر دیا طبقاتی تقسیم کو ماننے سے انکار کر دیا، ویدوں میں مذکور سارے دیوتاؤں کی خدائی کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور اس سے نجات کا ایک آزادانہ طریقہ لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ (انسائیکلو پیڈیا آف بریٹانیکا، ایڈیشن 1762ء ،جلد 4، صفحہ 273)

ہندوستان کی آبادی کی اکثریت نے بدھ مذہب کو قبول کر لیا چند سال قبل جہاں ہندو مت اور برہمنوں کی برتری کا طوطی بول رہا تھا اب وہاں بدھ مت کے چرچے ہونے لگے ۔ اس مذہب کی خوش قسمتی تھی کہ اسے اشوک، کنشک اور ہرش جیسے عالی ہمت مہاراجوں کی سرپرستی حاصل ہو گئی انہوں نے اس مذہب کو پھیلانے کے لئے ہر ممکن طریقہ اختیار کیا۔ ہندوستان کے طول و عرض میں ایسی چٹانیں اور فولادی ستون پائے جاتے ہیں جن پر بدھ مت کے بنیادی اصول کندہ ہیں۔ جو شخص بھی ان چٹانوں یا ان فولادی لاٹوں کے پاس سے گزرتا وہ بدھ کی تعلیمات کا مطالعہ کرتا ان سے متاثر ہوتا اور اس کا مذہب قبول کر لیتا۔ اشوکا نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے مختلف ممالک میں تبلیغی وفود بھیجے۔
(ہسٹری آف ریلیجن، صفحہ 138)

لنکا میں جو وفد اس مقصد کے لئے بھیجا گیا اس کا سربراہ اشوکا کا لڑکا تھا۔ اس وفد نے وہاں کے بادشاہ کو بدھ مت قبول کرنے کی دعوت دی بادشاہ اس وفد کی تبلیغ سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے بدھ مت قبول کر لیا۔ اپنے بادشاہ کی پیروی کرتے ہوئے لنکا کے بیشمار لوگ اس مذہب میں داخل ہو گئے اسی طرح کشمیر، گندھارا، ہمالیہ کے علاقوں میں بھی تبلیغی وفود بھیجے گئے مغربی ہند، جنوبی ہند، برما، ملایا سماٹرا تک ایسے مبلغین کی جماعتیں بدھ مت کے پرچار کے لئے بھیجی گئیں اور اکثر علاقوں میں انہیں شاندار کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں۔
(ہسٹری آف ریلیجن ،صفحہ 138)

اشوکا نے خود تخت شاہی پر بیٹھنے کے چھ سال بعد بدھ کی تعلیمات سے متاثر ہو کر بدھ مت کو قبول کیا۔ وہ اس سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے شاہی خزانوں کے منہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کھول دیئے اس وجہ سے اس مذہب کو ہندوستان میں مزید مقبولیت حاصل ہوئی حتی کہ کئی برہمنوں نے بھی بدھ مت کو بطور مذہب قبول کر لیا۔ اس مذہب سے ان مہاراجوں کو یہ فائدہ ہوا کہ ان کے ملک میں جہاں ہر وقت بغاوتوں اور شورشوں کی آگ بھڑکتی رہتی تھی وہاں امن و امان قائم ہو گیا لوگ آرام سے اپنی زندگیاں بسر کرنے لگے ۔ تجارت پیشہ طبقہ کی مالی حالت بہت بہتر ہو گئی ہندوستان کا وسیع و عریض ملک جو پہلے سینکڑوں چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ ہر راجہ دوسرے راجہ سے بر سر پیکار رہتا تھا۔ اب وہاں ایک بہت وسیع اور طاقتور حکومت قائم ہو گئی جس کی مغربی سرحد افغانستان سے شروع ہوتی تھی اور مشرقی سرحد کامروپ ( آسام ) تک چلی گئی تھی۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top