قسط نمبر 27 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: چوبیسواں)
(ایران ~ چوبیسواں)
(ایران کی اخلاقی حالت ~ حصہ اول)
ایران کے معاشرتی اور معاشی حالات کا جائزہ آپ پڑھ چکے ہیں۔ اخلاقی لحاظ سے بھی ایرانی معاشرہ زوال و انحطاط کی گہری پستیوں میں گر چکا تھا۔ جس معاشرہ میں بیٹی اور بہن کو اپنی منکوحہ بنانا گوارا کر لیا جاتا ہو بلکہ اسے باعث رحمت آسمانی خیال کیا جاتا ہو اور جس معاشرہ میں اپنی بیوی کو عاریتاً اپنے کسی دوست کے حوالے کر دینا ایک پسندیدہ اور قابل تعریف فعل ہو وہاں ضبطِ نفس کے بارے میں سوچنا اور جنسی بے راہ روی پر کوئی قدغن لگنا کیونکر ممکن ہو سکتا ہے اس لئے زنا، بدکاری کا عام رواج تھا۔ شراب کھلے بندوں پی جاتی تھی بلکہ مذہبی تقریبات میں اس کو بڑے اہتمام سے حاضرین کی تواضع کے لئے پیش کیا جاتا تھا۔ ان معاشی ناہمواریوں اور معاشرتی بے راہ رویوں کے باعث مزدک کو اپنا فلسفہ پیش کرنے کی جسارت بھی ہوئی اور اسے ناقابل تصور کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ ماحول پہلے ہی متعفن تھا ذرا سی ہوشیاری اور عیاری کی ضروت تھی جو اس معاشرے کو ہمیشہ کے لئے پیوند خاک کرنے کے لئے کافی تھی چنانچہ مزدک نے جو مورخ طبری کے قول کے مطابق نیشا پور کا رہنے والا تھا۔ یہ اعلان کر دیا کہ تمام انسان مساوی ہیں کسی کو کسی پر کوئی فوقیت اور امتیاز حاصل نہیں۔ ہر وہ چیز جو ایک انسان کو دوسرے انسان سے بالا تر کر دے وہ اس قابل ہے کہ اسے مٹا کر رکھ دیا جائے، اس دعوت میں ایک تلخ حقیقت تھی اور وہاں کی مظلوم و محروم اور بے بس آبادی بڑی بے تابی سے اس دعوت کو قبول کرنے کے لئے تیار تھی۔ مزدک نے کہا صرف دو چیزیں ایسی ہیں جو انسانوں کو مختلف طبقات میں تقسیم کرتی ہیں۔ اور ان کے درمیان ناجائز امتیازات کی دیواریں چن دیتی ہیں۔ وہ ہیں جائیداد اور عورت۔ کیونکہ سب انسان مساوی ہیں اس لئے کسی شخص کو کسی جائیداد پر خصوصی حقوق ملکیت حاصل نہیں۔ اور کوئی عورت کسی ایک شخص کی منکوحہ بن کر نہیں رہ سکتی۔
انسانی مساوات کا یہ بنیادی تقاضا ہے کہ نہ کوئی جائیداد کسی کی ملکیت ہو اور نہ کوئی عورت کسی ایک شخص کی مخصوص بیوی بنے بلکہ ہر قسم کی جائیداد بھی سب کے لئے مشترک ہے اور ہر ایک اس سے استفادہ کر سکتا ہے اور ہر عورت بھی سب کے لئے مشترک ہے ہر شخص اس سے تمتع اور لذت اندوزی کر سکتا ہے یہ دونوں باتیں ایسی تھیں جنہیں اس عریاں بے باکی کے ساتھ بیان کرنے کی آج تک کسی کو جرأت نہ ہوئی تھی لیکن مزدک زمانہ شناس تھا معاشرہ جن مصائب و آلام میں جکڑا ہوا تھا۔ اور صدیوں سے کراہ رہا تھا۔ اس نے ان کا صحیح اندازہ لگایا۔ اور ان دو چیزوں کے تقدس کو پارہ پارہ کر کے ان سب کو ایک متاع مشترک بنا دیا۔ ایران کے مفلس عوام جو امراء، رؤساء اور شہزادگان کے فلک بوس اور شاندار محلات کو دیکھتے اور دل مسوس کر رہ جاتے۔ ہر رات وہاں جو بزم عیش و طرب سجائی جاتی ان کے بارے میں وہ سنتے اور حسرت کی آہ بھر کر رہ جاتے۔ زر و جواہر اور اشرفیوں کے ڈھیر دیکھ کر ان کی آنکھوں میں یاس کے آنسو بھر آتے ان مفلوک الحال لوگوں کے لئے اس دعوت میں بلا کی کشش تھی۔
اور جب اس کے ساتھ جنسی زندگی کی ساری پابندیاں بالائے طاق رکھ دی گئی ہوں اور ہر شخص ہر عورت کو اپنی ہوس کا شکار بنانے کا قانونا حق دار بنا دیا گیا ہو ان چیزوں نے اس دعوت کی کشش کو دو آتشہ بنا دیا۔ اور لوگ جوق در جوق اس ننگ انسانیت تحریک میں شامل ہونے لگے۔اپنی اس تحریک کو کامیاب بنانے اور بڑی بڑی مقتدر ہستیوں کو اپنے دام تزویر (آراستہ جال) میں پھنسانے کے لئے مزدک نے ہر قسم کی فریب کاری کو روا رکھا۔ چنانچہ اس نے اس مرکزی قربان گاہ کے نیچے جہاں مذہبی رسوم بڑی عقیدت سے ادا کی جاتی تھیں۔ ایک غار بنائی اور اس غار میں اپنے ایک شریک کار کے تعاون سے یہ چکر چلایا کہ اس کو وہاں چھپا دیا اور ایک ٹیوب کے ذریعہ اس کا رابطہ حاضرین سے قائم کر دیا اب وہ لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرتا کہ وہ اپنے معبود سے سوال کر رہا ہے۔ اور اس کا معبود اس کے سوالوں کا جواب دے رہا ہے۔ بڑے بڑے دانشور اور سر بر آوردہ لوگ اس کے اس مکر میں گرفتار ہو جاتے۔ اور اس کے ان باطل نظریات کو صدق دل سے قبول کر لیتے۔ یہاں تک کہ کیقباد کسری ایران جب اس قربان گاہ پر رسوم عبادات انجام دینے کے لئے حاضر ہوا تو مزدک نے بڑی ہوشیاری اور مہارت کے ساتھ اس کے سامنے یہی ڈرامہ کیا۔ بادشاہ اتنا متاثر ہوا کہ اس کو خدا کا فرستادہ سمجھ کر اس کی بیعت کر لی۔ اور اس کے معتقدین میں شامل ہو گیا۔
(ہسٹری آف پرشیا، صفحہ ۴۴۲)
کیقباد نے اپنی مملکت کے تمام وسائل مزدک کے مذہب کو فروغ دینے کے لئے وقف کر دیئے مورخ شہیر علامہ ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی “کتاب الکامل “میں مزدک کا حال ذرا تفصیل سے تحریر کیا ہے ان کی عربی عبارت کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔ شاه ایران قباذ بن فیروز کے عہد حکومت میں مزدک ظاہر ہوا اور اپنی بدعتوں کا پرچار شروع کیا۔ اس نے بعض امور میں زرتشت کی پیروی کی اور بعض امور کا اپنی طرف سے اضافہ کیا۔ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کی طرف دعوت دے رہا ہے۔ جس طرح زرتشت نے اس کی طرف دعوت دی تھی۔ اس نے محرمات اور بری چیزوں کو حلال کر دیا۔
اموال و املاک ،عورتوں، غلاموں اور کنیزوں میں تمام لوگوں کو مساوی حقوق دے دیئے تاکہ کسی کو کسی پر کسی چیز میں فضیلت و برتری نہ رہے۔ کمینہ خصلت اور رذیل لوگوں کی ایک کثیر تعداد اس کی پیروی کرنے لگی ان کی تعداد ہزار ہا ہزار تک پہنچ گئی مزدک ایک آدمی کی بیوی کو لیتا اور دوسرے کے حوالے کر دیتا۔ اس طرح لوگوں کے اموال ، کنیزوں ، غلاموں اور زرعی زمینوں میں سے جس کو چاہتا ان میں سے کسی کا مالک بنا دیتا۔ چنانچہ اس کو بڑا غلبہ نصیب ہوا اس کی شان بلند ہوئی یہاں تک کہ بادشاہ کیقباد بھی اس کے پیرو کاروں میں شامل ہو گیا۔ مزدک اس حد تک بے حیاء اور بے باک ہو گیا کہ اس نے ایک دن کیقباد کو کہا کہ آج تیری بیوی جو نوشیروان کی ماں تھی میرے پاس رات بسر کرے گی۔ کیقباد بھی اس کی صحبت کی نحوست سے بے غیرتی کی انتہائی منزل کو پہنچ چکا تھا اس نے اس کی حیا سوز تجویز پر نہ صرف یہ کہ غیظ و غضب یا کسی ناپسندیدگی کا اظہار نہ کیا بلکہ اس کی اس تجویز کو قبول کر لیا۔
نوشیرواں کو پتہ چلا تو وہ اپنی ماں کی اس بے عزتی پر بے چین ہو گیا اور انتہائی نیاز مندی کے ساتھ مزدک کی خدمت میں گیا اپنے ہاتھوں سے اس کے جوتے اتارے اس کے پاؤں کو بوسے دیئے اور بڑی لجاجت سے عرض کی کہ وہ اس کی ماں کی آبرو ریزی نہ کرے۔ اس کو اس مہربانی کے عوض جو کچھ اس کے پاس ہے وہ اس کے سپرد کر دے گا۔ تب جاکر مزدک اس حرکت سے باز آیا اور اس کی ماں ، تمام اہل ایران کی مادر ملکہ کو چھوڑ دیا۔ مزدک نے اس کے علاوہ حیوان کے ذبیحہ کو حرام قرار دے دیا اور کہا کہ انسان کو اپنی خوراک کے لئے انہیں چیزوں پر اکتفا کرنا چاہئے جو زمین اگاتی ہے یا حیوانات سے حاصل کی جاتی ہیں۔ مثلاً انڈے، دودھ، گھی، پنیر وغیرہ اس کی پیدا کردہ اس مصیبت نے ملک گیر وبا کی صورت اختیار کرلی۔ اور لوگ اس کا شکار ہو گئے۔ کچھ عرصہ بعد حالت یہ ہو گئی کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کو اور کوئی باپ اپنے بیٹے کو نہیں پہچان سکتا تھا۔
(الکامل فی التاریخ لابن اثیر، صفحہ ۴۱۴ – ۴۱۳ ،جلد اول)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲