*قسط نمبر5 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ :دوم)*
(ایران ~ حصہ دوئم)
(ایران کے مذہبی عقائد ~ حصہ اول)
ایران کے جس تاریخی عہد سے ہم بحث کرنا چاہتے ہیں وہ ساسانی خاندان کی حکمرانی کا عہد ہے اس خاندان کی شہنشاہیت کا مؤسس اول ارد شیر تھا۔ اس نے 28 اپریل 224ء میں طیسفون کو فتح کیا اور جب وہ اس شہر میں فاتحانہ شان و شوکت سے داخل ہوا تو اس نے آشکانی خاندان کے جانشین ہونے کا دعوی کیا اس طرح ساسانی خاندان کی حکمرانی کا آغاز ہوا۔
(ایران بعد ساسانیاں ،صفحہ 112، مطبوعہ انجمن ترقی اردو دہلی 1948ء)
اہل ایران کے عقائد کے بارے میں بریگیڈیئر جنرل سر پرسی سائیکس( SIR. PERCYSYKES )نے اپنی کتاب ہسٹری آف پرشیا میں لکھا ہے۔ آریہ قوم مظاہر پرستی کا شکار تھی۔ روشنی ، شفاف آسمان ، آگ، ہوائیں، حیات بخش بارشیں ان سب کی مقدس معبودوں کی طرح پرستش کی جاتی تھی۔ جب کہ ظلمت اور قحط سالی کو ملعون دیو تصور کیا جاتا تھا۔اس مشرکانہ نظام میں آسمانوں کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی سورج کو آسمان کی آنکھ کہا جاتا اور روشنی کو آسمان کا فرزند، آسمانی دیوتا وارونا (VARUNA) جسے یونانی یورانس (OURANOS) کہتے تھے اس کو سب سے بڑے خدا کی حیثیت سےپوجا جاتا تھا، اس کے علاوہ متھرا (MITHERE) جو روشنی کا دیوتا تھا اس کی بھی پوجا کی جاتی وارونا اور متھرا کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ وہ انسانوں کے دلوں کے حالات اور ان کے اعمال کا مشاہدہ کرتے اور پھر وہ دونوں سب کچھ دیکھنے والے ہیں۔
(دی ہسٹری آف پرشیا ،صفحہ 100، جلد اول ،مطبوعہ 1949ء لندن)
اس مظاہر پرستی کے دور میں زرتشت کا ظہور ہوا یہ ایران کے قدیم مذہب کا بانی ہے کچھ عرصہ قبل اسے ایک فرضی شخص سمجھا جانے لگا تھا۔ جس کا کوئی حقیقی وجود نہ تھا۔ لیکن اب ایسے دلائل و شواہد مل گئے ہیں جن کی بناء پر موجودہ دور کے مورخین اور محققین اسے ایک حقیقی شخص یقین کرنے لگے ہیں۔زرتشت آذربائیجان کے صوبہ کا باشندہ تھا۔ اس کی پیدائش یورومیا (URUMIA) جھیل کے مغربی کنارہ پر ایک قصبہ میں ہوئی اُس کا نام بھی یورومیا تھا۔ اس کا عہد شباب تنہائی اور خلوت گزینی میں بسر ہوا اس وقت وہ ہمیشہ غور و فکر میں مصروف رہتا اس اثناء میں اسے خواب میں سات مرتبہ بشارتیں ہوئیں جس کی بنا پر اسے یقین ہو گیا کہ اسے اللہ تعالی نے پیغمبری کے منصب پر فائز کیا ہے ۔ اور اس نے اس کا اعلان بھی کر دیا۔ ابتدائی طویل سالوں میں اسے بہت کم کامیابی ہوئی پہلے دس سالوں میں اس کے حلقہ عقیدت میں صرف ایک شخص داخل ہوا ۔ اپنے آبائی وطن میں اپنی دعوت کی کامیابی سے مایوس ہو کر اس نے مشرقی ایران کا سفر اختیار کیا وہاں صوبہ خراسان کے شہر کشمار (KISHMAR) میں اس کی ملاقات وستاسپ (VISTASP) سے ہوئی جو وہاں کا حکمران تھا یہ وہی شخص ہے جس کو فردوسی نے اپنے شاہنامہ میں گستاسپ کے نام سے یاد کیا ہے۔ پہلے اس بادشاہ کے وزیر کے دو لڑکے اور اس کی ملکہ اس کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئے درباری علماء کے ساتھ اس کا مناظرہ ہوا انہوں نے اپنے جادو کے زور سے اس پر غلبہ پانا چاہا۔ لیکن سب کو رسوا کن شکست کا سامنا کرنا پڑا آخر کار بادشاہ بھی اس کے عقیدت مندوں میں شامل ہو گیا۔ گستاسپ اس کا دست راست ثابت ہوا اس کی وجہ سے اس مذہب کو ترقی اور عروج نصیب ہوا اسی اثناء میں وسط ایشیا کے تورانیوں نے ایران پر حملے شروع کر دیئے ایک روایت کے مطابق تورانیوں اور زرتشتیوں کے درمیان فیصلہ کن جنگ، جدید سبزوار کے قصبہ کے مغرب کی طرف ایک میدان میں لڑی گئی تورانیوں نے جب دوسری مرتبہ حملہ کیا تو زرتشت جو اپنی عزت و ناموری کے عروج پر تھا بلخ کے مقام پر قتل کر دیا گیا ایک روایت یہ بتاتی ہے کہ زرتشت قربان گاہ پر اس وقت مارا گیا جب اس کے گرد اس کے عقیدت مندوں اور اُمتیوں کا ایک انبوہ کثیر تھا۔یہی مصنف زرتشت کی پیدائش اور وفات کے بارے میں لکھتا ہے۔بعض مورخین کی رائے میں وہ ایک ہزار سال قبل مسیح پیدا ہوا اور بعض نے چھ سو ساٹھ قبل مسیح اس کا سال پیدائش متعین کیا ہے۔ اور یہی قول زیادہ صحیح ہے۔ اس کی وفات پانچ سو تراسی قبل مسیح میں ہوئی اس کی کتاب کا نام ژند ہے اس کی شرح اوستا کے نام سے مشہور ہے اس کے بارے میں کتب تاریخ میں ہے کہ ہخامنشیوں کے عہد میں اسے مرتب کیا گیا اور بیل کی بارہ ہزار ہڈیوں کے ٹکڑوں پر یہ سنہری حروف سے لکھی ہوئی تھی ہخامنشیوں کے زوال کے بعد اس کا بہت ساحصہ ضائع ہو گیا اور بہت کم حصہ محفوظ رہا۔
بعض علماء کے نزدیک وولا گاس اول جو پہلی صدی عیسوی میں پارتھیوں کا بادشاہ تھا اس نے اور بعض کے نزدیک اردشیر جو ساسانی خاندان کا بانی تھا اس نے تلاش بسیار کے بعد اس کتاب کے چند حصے دریافت کئے اور ان کو مدون کیا۔جس طرح پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ زرتشت سے پہلے آرین مظاہر فطرت کی پرستش کیا کرتے تھے لیکن زرتشت نے خدائے وحدہ لا شریک پر ایمان لانے کی لوگوں کو دعوت دی جسے ان کی زبان میں اهورامزدا (AHURAMAZDA) یا آرمزد (ARMOZD) کہا جاتا تھا۔ اس کا معنی ہے سب کچھ جاننے والا خداوند برتر اور ساری دنیا کا پیدا کرنے والا ۔اس حقیقت کا علم اس گفتگو سے ہوتا ہے جو اهورامزدا نے زرتشت سے کی اس نے کہا کہ آسمان کو میں بلندیوں پر سلامت رکھتا ہوں جو چمکتا ہے اور دور تک نظر آتا ہے اور زمین کو چاروں طرف سے گھیرےہوئے ہے۔
(ہسٹری آف پرشیا خلاصہ، صفحہ 103 تا 106، از بریگیڈیئر پرسی)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲