Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر 30 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: ستائیسواں)

(ایران ~ ستائیسواں ~ آخری حصہ)
(ایران کا نظام عدل ~ حصہ دوئم ~ آخری حصہ)

جو لوگ عیسائی مذہب قبول کرتے ان پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی جاتی ۔ اور انہیں ایسی سنگین نوعیت کی سزائیں دی جاتیں جن کے ذکر سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کبھی کانوں اور آنکھوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا جاتا تھا۔ اور کبھی زبان کھینچ کر نکال لی جاتی تھی۔ زخموں پر لیموں ، سرکہ اور نمک چھڑکے جاتے تھے ۔ ان بدنصیبوں کے جسم کے اعضا ایک ایک کر کے کاٹے اور مروڑے جاتے تھے، بعض وقت پیشانی سے ٹھوڑی تک چہرے کی کھال اتار لی جاتی تھی۔ ان کی آنکھوں اور باقی تمام جسم میں سلاخیں پھیری جاتی تھیں اور جب تک وہ مر نہ جائیں ان کے منہ آنکھیں اور نتھنوں میں سرکہ، رائی برابر ڈالتے رہتے تھے۔ ایک آلہ تعذیب جو اکثر استعمال کیا جاتا تھا، وہ لوہے کی ایک کنگھی تھی جس سے مجرم کی کھال اُدھیڑی جاتی تھی۔ اور درد کی شدت میں اضافہ کرنے کے لئے ہڈیوں پر جو نظر آنے لگتی تھیں نفت (آتش گیر تیل) ڈال کر آگ لگا دی جاتی تھی۔ سب سے زیادہ دہشت ناک عذاب وہ تھا جس کا نام ” نو موتیں” تھا جس کی صورت یہ تھی کہ جلاد سب سے پہلے ہاتھوں کی انگلیاں کاٹتا تھا اس کے بعد پاؤں کی پھر کلائیوں تک ہاتھ کاٹ ڈالتا تھا اور ٹخنوں تک پاؤں۔ اس کے بعد پھر کہنیوں تک بانہیں کاٹتا تھا۔ اور گھٹنوں تک پنڈلیاں ، پھر ناک اور کان کاٹتا تھا اور سب سے آخر میں سر۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ ۴۰۸)

اپنے سیاسی اور مذہبی مخالفین کو اس قسم کی لرزہ خیز سزائیں دینا وہاں آئے دن کا معمول تھا جس پر کسی قسم کا تعجب اور حیرت کا اظہار نہ کیا جاتا۔ اور نہ ان ظالمانہ اذیت رسانیوں کے خلاف عوام میں کوئی ردِعمل پیدا ہوتا۔ ول ڈیورانٹ اپنی مشہور کتاب “دی ایج آف فیتھ” (THE AGE OF FAITH) میں اس موضوع پر اپنی تحقیق کا یوں اظہار کرتا ہے۔ بادشاہ اس کے مشیر اور مذہبی علماء قانون مرتب کرتے اور ان کی بنیاد قدیم اوستا پر ہوتی ۔ ان کی تشریح اور ان کی تنفیذ مذہبی پروہتوں کے سپرد تھی۔ جرائم کا سراغ لگانے کے لئے جسمانی اذیت سے کام لیا جاتا مشکوک لوگوں کو کہا جاتا کہ وہ آگ میں گرم کئے ہوئے سرخ لوہے پر چلیں۔ یا بھڑکتی ہوئی آگ میں سے چل کر گزریں یا زہریلی خوراک کھائیں۔ اگر اس آزمائش میں وہ سلامت بچ جاتے تو انہیں بے گناہ قرار دے دیا جاتا اور اگر وہ اس آزمائش میں پورے نہ اترتے تو انہیں مجرم یقین کر لیا جاتا۔ اور انہیں سزا دی جاتی۔
(دی ایج آف فیتھ، صفحہ ۱۴۱)

ایران میں عدل و انصاف کی جو حالت تھی اس کو آشکارا کرنے کے لئے ہم قارئین کی توجہ ایک بار پھر اس واقعہ کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں جس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔ خسرو نے زرعی پیداوار پر لگانوں کی جب نئی شرح مقرر کی تو اس نے ایک مجلس مشاورت طلب کی جس میں ایران کے سر بر آوردہ امراء، علماء، فضلاء اور فوجی سپہ سالار شریک ہوئے۔ لگان کی نئی شرحوں کا اعلان کرنے کے بعد جب خسرو نے حاضرین سے پوچھا کہ ان شرحوں پر کسی کو کوئی اعتراض ہے تو محفل میں سناٹا چھایا رہا۔ اس نے پھر یہ سوال دہرایا پھر بھی سکوت طاری رہا۔ تیسری مرتبہ پھر اس نے یہی سوال حاضرین سے پوچھا تو ایک دبیر نے بڑے ادب و احترام کے ساتھ اس پر اعتراض کیا اور جب بادشاہ کو معلوم ہوا کہ اس معترض کا تعلق دبیروں کے حلقہ سے ہے تو حکم دیا کہ ہر دبیر اپنے قلمدان سے اس کو زد و کوب کرے۔ چنانچہ فرمان شاہی کی تعمیل کرتے ہوئے ہر دبیر نے اپنے بد قسمت ساتھی پر قلمدانوں سے ضربات کی بارش شروع کر دی یہاں تک کہ اس نے وہیں دم توڑ دیا اور تمام حاضرین نے بآواز بلند یہ کہا ہمیں بادشاہ کے نئے لگانوں کی شرحوں پر قطعا کوئی اعتراض نہیں۔ نوشیرواں جس کا عدل و انصاف ضرب المثل ہے جس نے اپنے محل کے صحن کو ٹیڑھا رکھنا تو گوارا کر لیا لیکن غریب عورت کی جھونپڑی کو اس کی مرضی کے خلاف وہاں سے اٹھانا گوارا نہ کیا۔ عدل و انصاف کے اس پیکر نوشیرواں نے اپنے تمام سگے بھائیوں کو اس لئے تہ تیغ کر دیا۔ کہ مبادا ان میں سے کوئی اس کے خلاف علم بغاوت بلند کر دے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top