Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر 29 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: چھبیسواں)

(ایران ~ چھبیسواں)
(ایران کا نظام عدل ~ حصہ اول)

ایران کی وسیع اور عظیم الشان مملکت نیز وہاں کے باشندوں کی معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں آپ نے مندرجہ بالا مختصر جائزہ کا مطالعہ فرما لیا۔ آخر میں ہم وہاں کے نظام عدل و انصاف کے بارے میں کچھ عرض کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔ پروفیسر آرتھر نے اس موضوع پر بڑی شرح و بسط سے لکھا ہے اس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ اوستا اور اس کی تفسیریں اور اجماع نیکاں (فقہاء کے فتاوے) قانون کے ماخذ تھے، مجموعہ قوانین کی کوئی خاص کتاب موجود نہ تھی۔ علم فقہ کی تمام تفصیلات بیشتر مفسرین کے اقوال پر مبنی تھیں۔ اور عہد ساسانی کے ضابطہ عدالت کا پتہ دیتی تھیں قانون کی کتاب ” مادیگان ہزار داستان ” جس کو فرخ مرد نامی نے تالیف کیا اس کے چند اجزا کا واحد قلمی نسخہ جس میں پچپن ورق ہیں کتب خانہ مانک جی لم جی ہوشنگ “ہاتر یا ” میں محفوظ ہے اس کے متن کو جیون جی جمشید مودی نے مع مقدمہ بمبئی سے ۱۹۰۱ء میں شائع کیا۔ اور ابھی انیس ورق اور ہیں جو طبع نہیں ہوئے۔ “مادیگان ” میں عہد ساسانی کے چند ایسے قانون دانوں کے نام محفوظ رہ گئے ہیں جن کے فتوے اس میں درج کئے گئے ہیں اس کتاب میں مصنف نے ایک موقع پر ایک کتاب ” دستوراں ” کا نام لیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی قانون کی کوئی کتاب تھی۔
(ایران بعہد ساسانیاں، خلاصہ از صفحہ 26-27 اور صفحہ 398)

اس کتاب کے مصنف نے بیان کیا ہے۔ قانونی امور میں موبدانِ موبد (آتش پرستوں کا پیشوا) کی رائے کو فوقیت دی جاتی تھی۔ موبدان موبد (آتش پرستوں کا پیشوا) کا فیصلہ سوگند (قسم) سے بھی زیادہ موثر ہوتا۔ اور اس کو بے خطا سمجھا جاتا تھا اس میں ایسی عدالتوں کا بھی ذکر ہے جن میں مختلف درجوں کے جج مل کر بیٹھتے تھے قانون کی طرف سے ججوں کو گواہوں کو بلانے کے لئے مہلت ملتی تھی مقدمہ کی ساری کارروائی کے لئے ایک خاص مدت معین تھی ضابطہ میں ایسے قانون بھی موجود تھے جن کی رو سے جھگڑالو دعویداروں کی لاطائل تقریروں کو روک دیا جاتا تھا کیونکہ ایسی تقریروں سے معاملہ خواہ مخواہ لمبا اور پیچیدہ ہو جاتا تھا۔ ایسے ججوں پر مقدمہ چلانا ممکن ہوتا تھا، جو کسی غرض کے تحت ایک مشکوک امر کو یقینی اور یقینی کو مشکوک بنا دیں۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ 399)

شک کی صورت میں ملزم کے گناہ یا بے گناہی کو بطریق امتحان ثابت کیا جاتا تھا۔ وہ امتحان دو طرح کا ہوتا ایک کو گرم امتحان اور دوسرے کو سرد امتحان کہتے ۔ گرم امتحان کی صورت میں ملزم کو آگ میں سے گزرنے کے لئے کہا جاتا تھا۔ اس طریقہ امتحان میں جو لکڑی جلائی جاتی تھی اس کے انتخاب کے لئے خاص قواعد مقرر تھے اور دوران امتحان بعض مذہبی رسمیں ادا کی جاتی تھیں اس کی ایک اور مثال جس کی روایت یہ ہے کہ شاہ پور دوم کے زمانہ میں آذربذ، پسر مہر سپند نے اپنے مذہبی عقیدہ کی سچائی کو ثابت کرنے کے لئے اپنے آپ کو اس بات کے لئے پیش کیا کہ پگھلی ہوئی دھات اس کے سینہ پر انڈیل دی جائے امتحان کا ایک طریقہ اور بھی تھا۔ جو بہت قدیم زمانہ سے چلا آتا تھا۔ کہ جب ایک شخص حلف اٹھاتا تھا تو اسے گندھک ملا پانی پینے کو دیا جاتا تھا۔قانون میں تین قسم کے افعال کو جرم قرار دیا گیا تھا۔

ا ۔ وہ جرم جو خدا کے خلاف ہوں یعنی جب کہ ایک شخص مذہب سے برگشتہ ہو جائے یا عقائد میں بدعت پیدا کرے ۔
۲۔ وہ جرم جو بادشاہ کے خلاف ہوں ۔ جب کہ ایک شخص بغاوت یا غداری کرے یا لڑائی میں میدان جنگ سے بھاگ نکلے۔
۳ ۔ وہ جرم جو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ہوں ۔

پہلی اور دوسری قسم کے جرائم یعنی الحاد ، بغاوت ، غداری اور میدان جنگ سے فرار کی سزا فوری موت تھی اور تیسری قسم کے جرائم مثلا چوری، راہزنی، اور ہتک ناموس کی سزا بعض صورتوں میں جسمانی عقوبت اور بعض میں موت ہوتی تھی۔امیاں مار سیلنوس لکھتا ہے کہ بعض سزائیں بہت ظالمانہ اور نہایت قابل نفرت تھیں ۔مثلا یہ کہ ایک شخص کے جرم کے بدلے میں اس کے تمام رشتہ داروں کو قتل کر دیا جاتاتھا۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ ۴۰۱ – ۴۰۰)

“نکازم نسک ” کی رو سے مجرموں کو خاص طور پر ناخوشگوار جگہوں میں بند کیا جاتا تھا اور حسب جرم اس جگہ میں موذی جانور چھوڑ دیئے جاتے تھے۔ تھیوڈور جو شہر صور کا بشپ تھا۔ وہ لکھتا ہے عیسائی قیدیوں کو بعض اوقات تاریک کنوؤں میں بند کر دیا جاتا تھا اور ان میں چوہے چھوڑ دیئے جاتے تھے قیدیوں کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے جاتے تھے تاکہ وہ ان سے اپنے آپ کو بچا نہ سکیں اور یہ جانور بھوک کے مارے ایک طویل اور ظالمانہ عذاب کے ساتھ ان کو کاٹ کاٹ کر کھاتے رہتے تھے اس کے علاوہ جیل کو بطور ایک ایسی جگہ کے بھی استعمال کیا جاتا تھا جہاں ذی رتبہ اشخاص کو جن کا وجود سلطنت اور بادشاہ کے لئے خطرہ کا باعث ہوتا تھا۔ چپکے سے غائب کر دیا جاتا تھا۔ خوزستان میں ایک مضبوط قلعہ تھا۔ جس کا نام “گیل گرد ” یا “اندمیشن” تھا جہاں اس قسم کے سیاسی قیدیوں کو محبوس رکھا جاتا تھا۔ اس کو “انوش برد ” بھی کہتے تھے جس کے معنی قلعہ فراموش کے ہیں اس لئے کہ جو لوگ وہاں قید ہوتے تھے ان کا نام لینا بلکہ خود قلعہ کا نام لینا بھی ممنوع تھا۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ 406)

ایک نہایت عام سزا جو خصوصاً باغی شہزادوں کو دی جاتی تھی۔ یہ تھی کہ آنکھوں میں گرم سلائی پھروا کر یا کھولتا ہوا تیل ڈلوا کر اندھا کر دیتے تھے زندہ آدمیوں کی ساری یا آدھی کھال کھچوا دینے کا دستور تھا۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ ۴۰۶)

عیسائیوں پر جور و تعدی کے زمانہ میں شہداء کو کبھی کبھی سنگسار بھی کیا جاتا تھا۔ یزدگرد دوم کے زمانہ میں دو عیسائی راہبہ عورتوں کو سولی پر چڑھا کر سنگسار کیا گیا۔ اور چند شہداء کو زندہ دیوار میں چنوایا گیا۔ ہاتھیوں کے پاؤں تلے روند ڈالنے کی سزا ساسانیوں کے عہد میں عام طور رائج تھی۔
(ایران بعہد ساسانیاں ،صفحہ ۴۰۷)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top