Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
پلیٹ فارم: سیرت النبی ﷺ انٹرنیشنل فورم {SIF} عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 68 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: پینسٹھ) {ہندوستان : حصہ پندرہواں} (بدھ مت اور جین مت : حصہ اول)

بدھ مت اور جین مت: ہندو مت نے ہندی معاشرہ کو چار طبقات میں تقسیم کر دیا تھا اور ان کے درمیان امتیازات کے ایسے پہاڑ کھڑے کر دیے تھے جن کو عبور کرنا ممکن نہ تھا۔ بعض طبقات عزت و احترام کے انتہائی بلند مراتب پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ مالی اور مادی مراعات سے بھی سرفراز تھے اور بعض طبقات ذلت و رسوائی کی گہرائیوں میں پھینکے جانے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی محرومیوں سے بھی دو چار تھے محروم طبقوں کے افراد کی تعداد مراعات یافتہ طبقات کی تعداد سے بہت زیادہ تھی۔ یہ لوگ صدیوں ان نا گفتہ بہ حالات میں صبر کا دامن مضبوطی سے پکڑے رہے کیونکہ انہیں یہ باور کرا دیا گیا تھا کہ انسانی معاشرہ کی یہ تقسیم کسی انسان نے نہیں کی بلکہ یہ ان کے دیوتاؤں کا عمل ہے اور کون ہے جب تک وہ دیوتاؤں کو اپنا دیوتا یقین کرتا ہے ان کے فیصلہ سے سرتابی کی جسارت کر سکے۔ لیکن جب تذلیل و رسوائی کی حد ہو گئی تو ان کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑا انہوں نے اس غیر فطری، انسانیت سوز طرز معاشرت کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اس کے علاوہ ہندو مت کی پوجا پاٹ کی رسمیں اس قدر سخت اور کرخت تھیں کہ ان کے ساتھ ہمیشہ کے لئے نباہ ممکن نہ تھا۔ انصاف کے نام پر جو بے انصافیاں ہو رہی تھیں۔ عدل کی قربان گاہ پر انسانی حقوق کو جس بے دردی سے ذبح کیا جا رہا تھا۔ اسے دیکھ کر سلیم الطبع لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے وہ یقیناً یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہوں گے کہ کیا یہ ظلم ، یہ بے انصافی ، یہ برہمن پروری اور شودر کشی کی تعلیمات اس خدا کی ہو سکتی ہے جو اس کائنات کا خالق بھی ہے اور مالک بھی۔ جو رحیم بھی ہے اور کریم بھی جو عادل بھی ہیں اور قادر بھی۔ یقینا وہ برملا یہ اعلان کرنے پر مجبور ہوتے ہوں گے کہ یہ مذہب مراعات یافتہ طبقات کا گھڑا ہوا مذہب تو ہو سکتا ہے لیکن یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ رحیم و کریم خدا نے اپنے بندوں کی اصلاح اور راہنمائی کے لئے ایسا ظالمانہ اور آمرانہ نظام مقرر فرمایا ہو۔

برہمنوں اور کھشتریوں کے گٹھ جوڑ سے یہ گاڑی صدیوں رینگتی رہی برہمنوں نے کھشتریوں کو تاج و تخت کا مالک تسلیم کر لیا۔ برہمنوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ہندی اذہان یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کھشتریوں کے علاوہ کوئی اور آدمی سربراہ مملکت بن سکتا ہے۔ خواہ وہ علم و فضل میں، عقل و دانش میں، سیرت کی پختگی اور اخلاق کی بلندی میں اپنی نظیر نہ رکھتا ہو جب برہمن طبقہ نے کھشتریوں کو کاروبار حکومت کا بلا شرکت غیرے مالک بنا دیا تو انہوں نے اس کے عوض برہمنوں کی مذہبی اجارہ داری کو برقرار رکھنے کا ذمہ لے لیا۔ کیونکہ ان کی اپنی بہتری اور بھلائی اسی میں تھی کہ برہمنوں کا مذہبی اقتدار اتنا اعلیٰ و ارفع رہے کہ کوئی ان پر زبان طعن دراز نہ کر سکے، کوئی ان کی مذہبی اجارہ داری کو چیلنج نہ کر سکے۔ لیکن کہاں تک؟ آخر چھٹی صدی قبل مسیح میں ایسے جرأت مند لوگ میدان میں نکل آئے جنہوں نے ان انسانیت سوز حالات کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا۔ ان میں سے اگرچہ بعض تحریکیں وقتی جوش و خروش کا نتیجہ تھیں اس لئے دیر پا ثابت نہ ہو سکیں لیکن دو تحریکیں ایسی تھیں جنہیں محض جذبات پر نہیں بلکہ عقلی اور فلسفیانہ بنیادوں پر استوار کیا گیا تھا۔ وہ ایسی طوفانی قوت سے میدان میں نکلیں۔ کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ برہمنی سامراج کو مع ان کے جملہ معاشرتی اور معاشی امتیازات کے خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گئیں۔ ان میں سے ایک تحریک کا علمبردار “گوتما” تھا جو بدھا (روشن ضمیر) کے لقب سے مشہور ہوا اور دوسری تحرک کا قائد “مہاویر” تھا۔ ان دونوں میں کئی قدریں مشترک تھیں ۔ دونوں کا تعلق مشرقی ہند کے اس خطہ سے تھا۔ جو دریائے گنگا کے شمال میں واقع ہے دونوں کھشتری خاندانوں کے چشم و چراغ تھے۔ دونوں ویدوں کی حاکمانہ حیثیت اور برہمنوں کی مذہبی اجارہ داری کو ختم کرنے کے لئے میدان عمل میں نکلے تھے۔ یہ دونوں مصلح چاہتے تھے کہ ہندی معاشرہ کی مذہبی بنیادوں کو منہدم کر کے فلسفہ کی اساس پر اس کی از سر نو تشکیل کی جائے۔ بایں ہمہ یہ دونوں تحریکیں اخلاقی اور اصلاحی تحریکیں تھیں۔ اور اپنے ماننے والوں کو قلبی اطمینان سے بہرہ ور کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ حالات کی ستم ظریفی ملاحظہ ہو ۔ کہ کچھ عرصہ بعد ان دونوں تحریکوں نے فلسفی نظریہ کے بجائے مذہب کا روپ اختیار کر لیا۔ جین مت، ہندومت کا حصہ بن کر رہ گیا۔ بدھ مت، اگرچہ اپنی انفرادیت کو بچانے میں کامیاب ہو گیا۔ لیکن یہ بھی ایک مذہب بن گیا۔ بدھ مت میں بھی ہندو دھرم کے متعدد نظریات منتقل ہو گئے۔ علاوہ ازیں بدھ مت کو اپنی جنم بھومی (بھارت ) سے بوریا بستر لپیٹنا پڑا۔ اسے اگر پنپنے کا موقع ملا تو اجنبی ممالک میں جیسے چین، جاپان، دیگر ایشیائی ممالک۔

جین مت: جین مت کا اولین پرچارک ”مہاویر ” تھا۔ اس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان، حیوان، شجر، حجر، ہر چیز ذی روح ہے۔ اور روح جب بدن کے قفس میں مقید کر دی جائے تو اس کی نجات کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ اس قفس کو توڑ کر اس سے آزاد ہو جائے اس کے نزدیک دعائیں اور پوجا پاٹ محض بے سود ہیں اس نے اخلاقی اور ذہنی نظم و ضبط کی اہمیت پر بڑا زور دیا۔ بدن کے سارے تقاضوں کو نظر انداز کرنے میں نجات کا راز بتایا۔ جین مت کے مذہبی پیشوا ترک ذات بلکہ فنائے ذات پر اتنا زور دیتے کہ کھانے پینے سے بھی دست کش ہو جاتے یہاں تک کہ وہ بھوک اور پیاس کی شدت سے دم توڑ دیتے۔ ایسی موت کو بڑی شاندار موت کہا جاتا ان کا دوسرا اصول “اہنسا ” ( عدم تشدد ) تھا۔ وہ کسی انسان یا حیوان کی جان لینا تو کجا، کیڑوں مکوڑوں ، جڑی بوٹیوں کو تلف کرنا بھی گناہ کبیرہ سمجھتے تھے۔ ان کے ہاں کھیتی باڑی بھی ممنوع تھی کیونکہ اس سے بھی کیڑے مکوڑے اور جڑی بوٹیاں تلف ہو جاتی ہیں ان کا پسندیده پیشہ صرف تجارت تھا۔ آہستہ آہستہ جین مت، ہندو دھرم کے نظریات سے متاثر ہونے لگا مذہبی لوگوں کی طرح انہوں نے بھی کئی دیوتاؤں کی حمد کے گیت گانے شروع کر دیئے اور خود مہاویر کو بھی ایک دیوتا سمجھ لیا گیا۔ اور اس کی پوجاپاٹ شروع کر دی۔ یہ لوگ ضرورت مند طبقہ کو بھاری شرح سود پر قرضے دیا کرتے۔ اس وجہ سے جین مت کے پیرو کاروں کا طبقہ ایک دولت مند طبقہ بن گیا۔ اب ان کی تعداد دس لاکھ کے لگ بھگ ہے ان میں افراط و تفریط کا آپ اندازہ لگائیں ادھر تو نرمی اور عدم تشدد کی یہ کیفیت کہ کیڑوں مکوڑوں اور جڑی بوٹیوں کو بھی تلف کرنا مہا پاپ (گناہ کبیرہ ) سمجھتے ہیں اور دوسری طرف غریب اور ضرورت مند افراد سے بھاری شرح پر سود لے کر ان کا خون چوستے ہیں۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top