Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر36 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: تنتیسواں) (یونان ~ حصہ ششم ~ آخری حصہ) (یونان کے حکماء و فلاسفر ~ حصہ دوئم ~ آخری حصہ)

افلاطون کے بعد اس کا شاگرد ارسطو، یونان کے افق پر حکمت و فلسفہ کا آفتاب بن کر طلوع ہوتا ہے اور اپنے استاد کے نظریات کی پر زور تردید کرتا ہے وہ لکھتا ہے:
فَقَدْ ظَنَّ اَفْلَاطُوْنُ اَنَّ شُيُوْعِيَةَ الْاَطْفَالِ تُوَسِّعُ دَائِرَةَ التَّعَاطُفِ لٰكِنَّهَا فِي الْحَقِيْقَةِ تُؤَدِّىْ اِلٰى اِنْتِفَآءِ الْمَحَبَّةِ وَالْاِحْتَرَامِ لِاَنَّ الطِّفْلَ الَّذِيْ هُوَ ابْنُ الْجَمِيْعِ لَيْسَ اِبْنُ اَحَدٍ○
ترجمہ: افلاطون نے بچوں کو ان کے والدین سے منسوب کرنے کی مخالفت کی ہے اور انہیں مشترکہ ماں باپ کی اولاد قرار دیا ہے اس کا خیال ہے کہ اس طرح باہمی محبت و پیار کا دائرہ وسیع ہو گا در حقیقت یہ سراپا افتراء و بہتان ہے اس طرح تو محبت و احترام کے سارے جذبات نیست و نابود ہوں گے کیونکہ جو بچہ سب کا ہوتا ہے وہ کسی کا بھی نہیں ہوتا۔
(کتاب الجمع، صفحہ ۳۸)

ارسطو کے اپنے جذبات بھی کم تعجب انگیز نہیں وہ اپنی کتاب ” السیاست ” میں نوع انسانی کی یوں تقسیم کرتا ہے وہ لکھتا ہے۔ بعض لوگ ایسے ہیں جو طبعاً احرار ( آزاد ) ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو طبعاً غلام ہوتے ہیں شمالی یورپ کے لوگ بہادر ضرور ہیں لیکن ذہانت اور سیاسی سوجھ بوجھ سے بے بہرہ ہیں مشرقی ممالک کے لوگ ذکی اور ماہر تو ہیں لیکن ان میں شجاعت کا جوہر مفقود ہے لیکن یونانی (ارسطو کی اپنی قوم ) ان دونوں خصوصیتوں کے مالک ہیں یہ بہادر بھی ہیں اور ذکی و فطین بھی اس کے بعد ارسطو یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے۔
اِذَا فَالْيَوْنَانِيُ سَيِّدٌ حُرٌّ وَالْاَجْنَبِيُّ عَبْدٌ لَهٗ وَلَا يَسْتَعْبُدُ الْيُوْنَانِيْ اَخَاهُ بِاَيِّ حَالٍ هٰذِہٖ فِكَرَةَ الشَّعْبِ الْمُخْتَارِ ظَنَّهَا اَرَسْطُوْا اَوْلِيَّةً کُلِّیَّۃً ضَرُوْرِیَّۃً○
یعنی مندرجہ بالا تشریح سے یہ ثابت ہو گیا کہ اہل یونان سردار ہیں، آزاد ہیں اور باقی سب ملکوں کے باشندے ان کے غلام ہیں کوئی یونانی اپنے یونانی بھائی کو غلام نہیں بنا سکتا یہی وہ شعب مختار ( برگزیده قوم ) کا نظریہ ہے جسے ارسطو اولین ضرورت قرار دیتا ہے جس کی قابلیت مسلم ہے۔ (کتاب الجمع، صفحہ ۳۹)

جب ارسطو کے نزدیک سب یونانی سردار ہیں۔ آزاد ہیں اور باقی ساری قومیں ان کی غلام ہیں تو انسانی مساوات کا تصور کہاں سے آئے گا۔ مالک اور غلام میں آزاد اور اسیر میں عدل و انصاف کا برقرار رکھنا کیونکر ممکن ہو سکتا ہے؟ اپنی قومی برتری کا یہ جنون مختلف طالع آزما لوگوں کو مختلف اوقات میں برانگیختہ کرتا رہا اور وہ اپنی سیادت وبرتری کا سکہ جمانے کے خبط میں انسانیت کو مصیبتوں اور ہلاکتوں کے شعلوں میں جھونکتے رہے۔ ہٹلر کے دماغ میں جرمن قوم کی برتری کا خبط سمایا ہوا تھا جس کے باعث اس نے ساری دنیا کو دوسری عالمگیر جنگ میں جھونک دیا اموال و املاک کے نقصان کا تو اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا مرنے والوں کی تعداد کروڑوں سے زیادہ ہے صرف روس کے پچھتر لاکھ افراد ہلاک ہوئے اور ساڑھے اٹھائیس لاکھ جرمن لقمہ اجل بنے کسی قوم کی برتری کا نظریہ جو ارسطو نے بڑی فلسفیانہ آب و تاب سے پیش کیا اب تک سینکڑوں فتنوں کا باعث بنا، معلوم نہیں کتنے سر پھرے اسی قومی عصبیت اور برتری کا عَلم بلند کر کے انسانیت کو مصائب و آلام کے جسم میں جھونکتے رہیں گے۔ یہ تو ہوا ارسطو کا سیاسی نظریہ اب ذرا قانون کے بارے میں اس کی رائے ملاحظہ کریں۔ ارسطو کی مشہور کتاب ” السیاست ” کا ترجمہ پروفیسر احمد لطفی السید نے عربی میں کیا ہے جو مصر میں شائع ہوا اس کے آٹھویں باب میں ارسطو لکھتا:
اِنَّ الْقَانُوْنَ لَا يَنْبَغِيْ ضَرُوْرَةَ اَنْ يُّطَبَّقَ اِلَّا عَلٰى اَفْرَادِ مَتَسَاوِيِيْنَ بِالْمَوْلَدِ وَبِالْمَلِكَاتِ غَيْرَ اَنَّ الْقَانُوْنَ لَمْ يُشْرَعْ قَطُّ لِهٰٓؤُلَآءِ النَّاسِ الْاَفْذَاذِ اِنَّهُمْ هُمْ اَنْفُسُهُمَ الْقَانُوْنَ وَمِنَ السُّخْرِيَّةِ اَنْ يُّحَاوِلَ اِخْضَاعُهُمْ لِلدَّسْتُوْرِ○
ترجمہ: یعنی قانون تمام اہل ملک کے لئے یکساں نہیں ہوتا بلکہ اس کا مساویانہ انطباق صرف ان افراد پر ہو گا جو نسب اور قابلیت کے لحاظ سے مساوی ہیں رہا حکمران طبقہ تو ان لوگوں کے لئے قانون نہیں بنایا جاتا بلکہ یہ لوگ بذات خود قانون ہیں اور یہ کھلا مذاق ہے کہ ان اکابر کو دستور کی پابندی پر مجبور کیا جائے۔
(السیاسہ، صفحہ 217)

ارسطو نے اپنے اس نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے ایک حکایت بیان کی ہے کہ خرگوشوں کا ایک جلسہ عام ہوا جس میں ایک قرار داد منظور کی گئی کہ تمام حیوانات میں مساوات کا قاعدہ جاری ہونا چاہئے۔ جب شیروں نے یہ ریزولیشن سنات و انہوں نے کہا کہ پہلے ہمارے جیسے طاقت ور پنجے اور تیز دانت لاؤ پھر ہمارے ساتھ مساوات کا مطالبہ کرو۔ انسانی مساوات کے نظریہ کے ساتھ اس سے بڑا مذاق اور کیا ہو سکتا ہے اور جب یہ مذاق کرنے والا ارسطو ہو تو اس مذاق کی سنگینی کا اندازہ کون لگا سکتا ہے اس کتاب کے صفحہ نمبر ۲۳۴ پر ارسطو امراء طبقہ کے تفوق کو قانونی تحفظ دیتا ہے اس کی عبارت سنیئے۔
فَلَيْسَ مِنَ الْعَدْلِ قَتْلِ مِثْلِ هٰذَا السِرِّىْ وَلَااِهْدَارِ حَقِّهٖ بِالتَّغْرِيْبِ وَلَا اِخْضَاعِهٖ لِمُسْتَوَى الْعَامَّةِ○
ترجمہ:یہ عدل کے خلاف ہے کہ ایسے سردار کو کسی عامی کے بدلے میں قتل کیا جائے یا اسے جلاوطن کر دیا جائے اور اسے عام لوگوں کی سطح پر اترنے پر مجبور کیا جائے۔
(السیاسہ، صفحہ ۲۳۴)

اہل یونان کے ان حالات کا تعلق زمانہ قبل مسیح سے ہے اور ہمارے پیش نظر صرف اس عہد کے مذہبی، تمدنی اور سیاسی حالات پر بحث کرنا ہے جو کہ عہد رسالت مصطفویہ ﷺکے قریب تھے اس لئے ہم نے اہل یونان کے حالات کو بڑے اختصار سے تحریر کیا ہے۔ اور مقصد یہ ہے کہ رومیوں کے حالات کا ان کے پیروؤں کے حالات کے تناظر میں مطالعہ کیا جائے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top