Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر45 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:بیالیسواں) (سلطنت روم ~ حصہ نہم) (اہل روم کے معاشی حالات ~ حصہ دوئم)
صوبوں کو مختلف مالیاتی ضلعوں میں تقسیم کر دیا گیا اور ہر ضلع سے جتنا خراج لینا مطلوب ہوتا تھا اسے ایک رجسٹر میں درج کر دیا جاتا ابتداء میں اس تخمینہ پر پندرہ سال کے بعد نظر ثانی کی جاتی۔ اور مناسب تبدیلیاں رو بکار لائی جاتیں لیکن کچھ عرصہ بعد نظر ثانی کرنے میں بے قاعدگیاں رونما ہونے لگیں ٹیکسوں کو وصول کرنے کی ذمہ داری مجلس نمائندگان کے ارکان پر عائد تھی ساتویں صدی تک یہی دستور رہا۔ مجلس نمائندگان کے ارکان لگان وصول کرتے اور حکومت کے خزانہ میں جمع کرتے جو لوگ لگان نہیں دیتے تھے ان کے حصہ کا لگان ان نمائندگان کو اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتا تھا۔ اس طرزِ عمل سے مجلس کے کئی ارکان بری طرح زیرِ بار ہو جاتے جب اس نظام میں تبدیلی کی گئی تو پھر نادہند افراد کے حصہ کا لگان سارے ضلع کے لوگوں پر تقسیم کر دیا جاتا۔ کاشتکاروں پر اور بھی طرح طرح کی ذمہ داریاں تھیں جن میں سب سے زیادہ اہم یہ ذمہ داری تھی کہ حکومت کے ڈاک خانوں کے لئے گھوڑے، بگھیاں اور لڑکے مہیا کریں۔ چوتھی ،پانچویں اور چھٹی صدی میں کاشتکاروں کو زمین کے ساتھ وابستہ کر دیا جاتا تھا۔ اگر پہلا مالک زمین فروخت کر دیتا تو خریدنے والے کو زمین کے ساتھ وہ کاشتکار بھی منتقل کر دیئے جاتے جو پہلے مالک کے وقت زمین میں زراعت کرتے تھے۔ (انسائیکلو پیڈیا، صفحہ 442-443 جلد 19) مشرقی رومن ایمپائر کے بادشاہوں میں سب سے جلیل القدر اور عظیم الشان بادشاہ جسٹینین اول ( 483 تا 565) ہوا ہے اس کو تاریخ میں جسٹینین دی گریٹ (اعظم) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، اس کا عہد فتوحات، سلطنت کی وسعت، بڑے بڑے محلات اور قلعوں کی تعمیر کے باعث امتیازی شان کا مالک ہے لیکن اس شہنشاہِ اعظم کے دور میں بھی عوام الناس کی حالت از حد قابل رحم تھی۔ “انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا” کا مقالہ نگار اس کی معاشی پالیسیوں اور مالی نظم و نسق کے بارے میں رقمطراز ہے۔ عظیم تعمیری منصوبوں، پے در پے جنگوں اور سلطنت کی سرحد پر آباد وحشی باشندوں کو رشوت دے کر خریدنے کے لئے روپے کی شدید ضرورت تھی اور اس کو رعایا پر ٹیکسوں میں اضافہ سے پورا کیا جاتا تھا۔ وہ سابقہ ٹیکسوں کے بوجھ کے نیچے پسے چلے جارہے تھے۔ ناگوار موسموں کے باعث فصلیں اگرچہ بری طرح متاثر ہوتی تھیں اس کے باوجود لگانوں میں کمی نہیں کی جاتی تھی اور جو لگان نہیں ادا کر تا تھا اس کی غیر منقولہ جائیداد قرق کرلی جاتی تھی۔ ان مالی مظالم کے باعث لوگ بغاوت کرنے پر مجبور ہو جاتے تھے اس سلسلے میں جو بغاوت ۵۳۲ء میں ہوئی اس میں صرف دارالسلطنت میں تیس ہزار نفوس ہلاک کر دیئے گئے۔ (انسائیکلو پیڈیا ،صفحہ 211، جلد 13، ایڈیشن 1962ء) ان تمام حالات کے مطالعہ سے آپ اس افراتفری کا بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں جو رومن مملکت کے کاروباری طبقے، نیز زمینداروں اور کاشتکاروں کے طبقات میں رونما ہو رہی تھی۔ شام کا ملک بھی رومیوں نے فتح کر کے اپنی مملکت کا ایک صوبہ بنا لیا تھا۔ اس کے حالات کے بارے میں محمد کرد علی اپنی کتاب”خطط الشام” میں رومی حکومت کے طرز عمل کے بارے میں لکھتے ہیں۔شامی رعایا پر لازم تھا کہ وہ حکومت کا ٹیکس ادا کرے اور اپنی تمام پیداوار اور آمدنی کا دسواں حصہ اور راسُ المال کا ٹیکس داخل کرے ۔ فی کَس ایک رقم مقرر تھی جس کا ادا کرنا لازمی تھا۔ اس کے علاوہ رومی قوم کے کچھ دوسرے اہم ذرائع آمدنی تھے مثلاً چونگی، کانیں، محاصل اس کے علاوہ جو قطعات گندم کی کاشت کے قابل ہوتے اور چراگاہیں ٹھیکہ پر دے دی جاتیں ۔ ان ٹھیکہ داروں کو عشارین کہتے تھے یہ لوگ حکومت سے تحصیل وصول کرنے کے اختیارات خرید لیتے اور رعایا سے مطالبات وصول کرتے۔ ہر صوبہ میں ان ٹھیکیداروں کی متعدد کمپنیاں قائم تھیں ہر کمپنی کے پاس کچھ منشی اور محصل ملازم تھے جو اپنے افسروں کو مالکوں کے انداز میں پیش کرتے اور جس قدر ان کو لینے کا حق تھا اس سے زیادہ وصول کرتے۔ وہ لوگوں کو فراغت و راحت کے وسائل سے محروم کرتے اور اکثر ان کو غلاموں کی طرح فروخت کر دیتے۔ (خطط الشام، صفحہ 47، جلد پنجم، بحوالہ نقوش رسول نمبر، صفحہ 124-125، جلد سوم) عوام کی خستہ حالی کا تو یہ عالم تھا لیکن شاہی خاندان اور حکومت کے افسران اور رؤساء کی عیش کوشی کی داستانیں پڑھ کر انسان ششدر رہ جاتا ہے ان کے عالیشان محل ، دیوان خانے، ناؤ و نوش کی مجلسیں ، عیش و عشرت کے ساز و سامان کی انتہا نہ تھی۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے جبلہ بن الایہم غسانی کی مجلس کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے میں نے دس باندیاں دیکھیں جن میں پانچ روم کی جو بربط پر گا رہی تھیں اور پانچ وہ تھیں جو اہل حیرہ کی دہن میں گا رہی تھیں، جنہیں عرب سردار ایاس بن قبیصہ نے تحفہ بھیجا تھا اس کے علاوہ عرب کے علاقہ مکہ وغیرہ سے بھی گویوں کی ٹولیاں جاتی تھیں۔ جبلہ جب شراب نوشی کے لئے بیٹھتا تو اس کے نیچے فرش پر قسم قسم کے پھول چنبیلی، جوہی وغیرہ بچھا دیئے جاتے اور سونے چاندی کے ظروف میں مشک و عنبر لگائے جاتے چاندی کی طشتریوں میں مشک خالص لایا جاتا۔ اگر جاڑوں کا زمانہ ہوتا تو عود جلایا جاتا۔ اگر گرمیوں کا موسم ہوتا تو برف بچھائی جاتی اور اس کے ہم نشینوں کے لئے گرمیوں کا لباس آتا جس کو وہ اپنے اوپر ڈال لیتے۔ جاڑوں میں سمور، قیمتی کھالیں اور دوسرے گرم لباس حاضر کئے جاتے۔ (بحوالہ نقوش رسول نمبر ،صفحہ 123، جلد سوم) اس قسم کے حوالوں سے تاریخ کی کتابوں کے صفحات بھرے پڑے ہیں یہاں تو صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ عظیم رومی سلطنت کے سائے میں انسانیت کو کس طرح دو طبقوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ ایک طبقہ کو دنیا بھر کی راحتیں آسائشیں اور جملہ وسائل عیش و طرب میسر تھے اور دوسری طرف عوام کا سوادِ اعظم تھا جو زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے لئے بھی ترس رہا تھا۔ اور افلاس و تنگ دستی کے باوجود مملکت کی ساری مالی ضروریات بہم پہنچانے کا بوجھ اس نے اٹھا رکھا تھا۔ ان چند صفحات کے مطالعہ سے آپ نے رومی مملکت کے اقتصادی نظام کا اندازہ لگا لیا ہو گا۔ 🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲
Scroll to Top