قسط نمبر 62 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: انسٹھ)
ہندوؤں کے سلسلہ میں یہ بات بڑی حیرت انگیز اور تعجب خیز ہے کہ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی ہندو ایک خدا کی عبادت کرتا ہے یا متعدد خداؤں کی یا کسی کو بھی خدا یقین نہیں کرتا ان کے نزدیک اہم بات یہ ہے کہ وہ ہندوانہ طریقہ پر زندگی گزاریں اور ان رسم و رواج کی پابندی کریں جو صدیوں سے ان کے ہاں جاری ہیں مثلاً شادی، مرگ کی رسوم، ذات پات کے نظام کی پابندی وغیرہ وغیرہ۔ اپنے بتوں کے ساتھ وہ انسانوں کی طرح سلوک روا رکھتے ہیں، بت اگر گھر میں ہوں تو وہ معزز مہمان ہیں ان کی خاطر مدارات میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جاتی اور اگر وہ بت مندر میں ہے تو وہ بادشاہ ہے اس دیوتا کو اس طرح بیدار کیا جاتا ہے جیسے اس نے شب رفتہ اپنی رانی کے ساتھ گزاری ہو۔ پوری رسوم کے ساتھ اسے تخت پر بٹھایا جاتا ہے تخت کو پہلے دھوتے ہیں خشک کرتے ہیں پھولوں کا نذرانہ پیش کر کے اس روٹھے ہوئے دیوتا کو مناتے ہیں۔ عود، لوبان جلایا جاتا ہے روشنی کی جاتی ہے کھانا پیش کیا جاتا ہے یہ خیال کرتے ہیں کہ اس لذیذ کھانے کا روحانی حصہ اس بت نے کھا لیا ہے باقی اس کے پجاری بطور تبرک اس سے لَذتِ کام و دَہن کا سامان کرتے ہیں اس پتھر اور دھات کی بے حس مورتی کو پنکھا جھلا جاتا ہے اور موسیقی سے اس کی تواضع کی جاتی ہے وہ بت اگر کسی بڑے مندر میں ہو تو رقص کرنے والی لڑکیوں کا ایک طائفہ اس کے سامنے رقص پیش کرتا رہتا ہے جس طرح ظاہری بادشاہ اپنی کسی کنیز کو اپنے کسی مہمان کی عزت افزائی کے لئے پیش کرتا ہے اسی طرح دیوتا بھی اپنی دیوداسیوں میں سے کسی پجاری کو شب بسری کے لئے دے دیتا ہے جو مناسب فیس ادا کرے۔ اس مذہبی رنڈی بازی کا عام رواج تھا خصوصا جنوبی ہند میں۔ لیکن اب یہ رسم ختم ہوتی جارہی ہے۔
(انسائیکلو پیڈیا آف لیونگ فیتھ، صفحہ 239)
دیگر مذاہب کی طرح یہاں اجتماعی عبادت کا کوئی تصور نہیں۔ ہر کوئی انفرادی طور پر پوجا کرتا ہے درگا اور شیوا کے لئے جانوروں کی قربانی کا اب بھی رواج ہے قربانی پیش کرنے والا قربانی کا خون درگا کو پیش کرتا ہے، گوشت کا پسندیدہ ٹکڑا برہمن لے اڑتا ہے۔ اور باقی قربانی دینے والا خود کھاتا ہے یا دوسرے پجاریوں کو بھی کھانے کی دعوت دیتا ہے۔ ان کے نزدیک عورت کسی حال میں آزاد نہیں بچی ہے تو باپ کے زیر فرمان، جوان ہے تو خاوند کی خدمت گزار، بوڑھی ہے تو اولاد کے ٹکڑوں کی محتاج، زیورات کے بغیر وہ کسی جائیداد کی مالک نہیں بن سکتی اس پر فرض ہے کہ ہر حالت میں اپنے خاوند کا انتظار کرے اس کے جاگنے سے پہلے جاگے اس کے سونے کے بعد سوئے ۔
(انسائیکلو پیڈیا آف لیونگ فیتھ، صفحہ 241)
تعدد ازواج کی ہندومت میں اجازت ہے عام ہندو چار شادیاں کر سکتے ہیں اور راجاؤں کے لئے بیویوں کی کوئی تعداد معین نہیں وہ جتنی عورتوں کو چاہیں اپنی بیوی کے طور پر رکھ سکتے ہیں ہندو معاشرہ میں ستی کی رسم کو بڑی اہمیت حاصل تھی اور اس کو عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ جو بیوہ اپنے خاوند کی چتا میں اپنے آپ کو ڈال دیتی اور جل کر خاکستر ہو جاتی اس کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے جاتے اور جو عورت ایسا نہ کرتی اور زندہ رہنے کو ترجیح دیتی تو اسے گونا گوں محرومیوں کا شکار بننا پڑتا خوبصورت رنگین لباس وہ نہ پہن سکتی، زیورات استعمال کرنے کی اسے اجازت نہ تھی، دوبارہ شادی کے دروازے اس پر بند تھے ۔ اس پر لازم تھا کہ وہ اپنا سر منڈائے رکھے، غرضیکہ ہر قسم کی زیب و زینت سے اسے کلی طور پر محروم کر دیا جاتا اور اس کی نندیں اس کے غمزدہ دل پر طعن و تشنیع کے تیروں کی بوچھاڑ کرتی رہتیں اور اس کا جینا دو بھر کر دیتیں۔
(انسائیکلو پیڈیا آف لیونگ فیتھ، صفحہ 242)
ذات پات کی تقسیم کے باعث معاشرہ میں عجیب قسم کے نشیب و فراز رونما ہو گئے تھے صرف برہمن کے لئے وید پڑھنا جائز تھا۔ کھشتری وید نہیں پڑھ سکتے تھے۔ صرف سننے کی ان کو اجازت تھی اور بے چارے شودروں کو تو یہ بھی اجازت نہ تھی کہ وہ اپنی الہامی کتاب کو سن بھی سکیں ہزاروں سال تک بھارت کا انسانی معاشرہ ظلم و ستم اور بے انصافی کی چکی میں پستا رہا اور کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ اس معاشرہ کو حرماں نصیبی اور محرومی کی زندگی سے نجات دے۔ رام موہن رائے (1833 ء1772ء) بنگال کے ایک برہمن خاندان سے اٹھا اور اس نے اعلان کیا کہ ہندومت دین توحید ہے، اس میں بتوں کی پوجا کا کوئی تصور نہیں اس طرح ذات پات کی تقسیم کے خلاف بھی اس نے احتجاج کیا نیز ایک اجتماعی عبادت کا نظام اپنے معتقدین کے لئے قائم کیا پنڈت دیانند (1833 ء1824ء) نے “ستیارتھ پرکاش” کتاب لکھ کر ان تمام خرافات کی بڑی شدت سے تکذیب کی اور ہندو مذہب میں جو بگاڑ پیدا ہوا تھا اس کی ساری ذمہ داری برہمنوں پر عائد کی۔ ان کے علاوہ انفرادی طور پر بھی اصلاح احوال کی کوششیں کی گئیں لیکن ابھی تک ہندو معاشرہ کی غالب اکثریت اپنی قدیم فرسودہ رسوم کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہے۔ ابتداء میں علامہ البیرونی کا تعارف کرایا جاچکا ہے۔ اور انہوں نے ہندوستان میں اپنے پندرہ سالہ قیام کے دوران جو معلومات حاصل کیں ان کو انہوں نے کتابی شکل میں مدون کیا اس کا نام انہوں نے “تحقیق ما للہند” رکھا۔ ابتداء میں ہم نے علامہ البیرونی کے حوالہ سے اہل ہند کے عقائد کے بارے میں آپ کی خدمت میں کچھ حقائق پیش کئے اسی سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے ہم ان کی تحقیقات سے استفادہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں وہ لکھتے ہیں۔ ہر مذہب کا اور اس کے ماننے والوں کا ایک خصوصی شعار ہوتا ہے جس سے انہیں دوسرے مذاہب اور ملل سے ممتاز کیا جاتا ہے جس طرح مسلمانوں کا شعار کلمہ شہادت ہے۔ عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث اور یہودیوں کا یوم سبت کی تقدیس اسی طرح تناسخ کا عقیدہ ہندو مذہب کا خصوصی شعار ہے جو اس کا قائل نہیں وہ ہندو دھرم کا فرد نہیں۔ باس دیو ، ارجن کو عقیدہ تناسخ کی حقیقت سمجھاتا ہے اور بتاتا ہے کہ موت کے بعد اگرچہ جسم فنا ہو جاتا ہے لیکن روح باقی رہتی ہے اور وہ اپنے اچھے اعمال کی جزا اور برے اعمال کی سزا بھگتنے کے لئے دوسرے اجسام کے لباس پہن کر اس دنیا میں لوٹ آتی ہے اور یہ چکر غیر متناہی مدت تک جاری رہتا ہے۔
علامہ مذکور لکھتے ہیں: کم و بیش اہل یونان کا بھی یہی عقیدہ تھا۔اس عقیدہ تناسخ کے باوجود وہ جنت اور دوزخ کے بھی قائل تھے ان کا یہ عقیدہ تھا کہ عالم تین ہیں، اعلیٰ، ادنیٰ، اوسط، عالم اعلیٰ کو “سفر لوک” یعنی جنت کہتے ہیں اور عالم اسفل کو “ناگ لوک ” یعنی سانپوں کے جمع ہونے کی جگہ (دوزخ) اس کو “نزالوک” اور “پاتال” بھی کہتے ہیں اور عالم اوسط جس میں اب ہم زندگی گزار رہے ہیں ” بشن پرام” جو ہندوؤں کی ایک مذہبی کتاب ہے اس میں مرقوم ہے کہ جہنم ایک نہیں بلکہ ان کی تعداد اٹھاسی ہزار ہے اور ہر جرم کے مرتکب کو سزا دینے کے لئے ان ہزاروں جہنموں میں سے ایک جہنم مخصوص ہے۔ ان کے نزدیک دنیا کی آلائشوں سے نجات کا ذریعہ علم ہے اور جہالت کی وجہ سے ہی نفس ان دنیاوی بندھنوں اور زنجیروں میں جکڑا رہتا ہے ان کے ہاں علم کے حصول کے تین طریقے ہیں یا تو کسی مولود کے پیدا ہوتے ہی بذریعہ الہام اس کے سینہ کو علوم و معارف سے معمور کر دیا جائے جس طرح ” کپل حکیم ” کہ جب وہ پیدا ہوا تو اس وقت ہی وہ علم و حکمت کی دولت سے مالا مال تھا۔ دوسرا پیدائش کے بعد کچھ وقت گزرنے پر اسے بذریعہ الہام علم ارزانی کیا جاتا ہے جس طرح ” براہم ” اور اس کی اولاد تیسرا عام مروج طریقہ کہ پیدا ہونے کے بعد بچہ ، جب پانچ سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اسے مکتب میں داخلہ ملتا ہے، آہستہ آہستہ منزلیں طے کرتا ہوا علم و حکمت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو جاتا ہے علم کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ شر سے رشتہ توڑ لے اور رضائے الہیٰ کو اپنا مقصد وحید بنالے۔ “گیتا ” میں ہے۔
“كَيْفَ يَنَالُ الْخَلَاصَ مَنْ بَدَّدَ قَلْبَهٗ وَلَمْ يُفْرِدۡهُ لِِلَّهِ تَعَالٰى وَ لَمْ يُخۡلِصۡ عَمَلَهٗ لِوَجْهِہٖ وَمَنْ صَرَّفَ فِكْرَتَهٗ عَنِ الْاَشْيَآءِ اِلَى الْوَاحِدِ ثَبَتَ نُوۡرُ قَلْبِهٖ كَثُبَاتِ نُوۡرِ السِّرَاجِ الصَّافِي الدُّهْنِ فِيۡ کِنِّ لَا یُزَعۡزِعُہٗ فِیۡہِ رِیۡحٌ”
ترجمہ: وہ شخص کس طرح نجات حاصل کر سکتا ہے جس کا دل منتشر ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے لئے اسے منفرد نہیں کیا اور اپنے عمل کو لوجہ اللہ تعالی خالص نہیں کیا، جو شخص اپنے فکر کو تمام اشیاء سے ہٹا کر خداوند واحد پر مرکوز کر دیتا ہے اس کا نور دائمی بن جاتا ہے جس طرح اس چراغ کانور جس میں صاف ستھرا تیل ڈالا گیا ہوا سے ایک محفوظ جگہ پر رکھ دیا گیا ہو۔جہاں ہوا اس کو کسی قسم کا ضرر نہ پہنچا سکتی ہو۔
(تحقیق ماللہند، خلاصہ، صفحہ 56 – 55)
ہندی معاشرہ کو جن مختلف طبقات میں تقسیم کیا گیا تھا اس کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے علامہ البیرونی لکھتے ہیں۔ پہلے زمانہ میں بادشاہ اپنی رعایا کو مختلف طبقات میں تقسیم کر دیتے تھے اور ہر طبقہ کے ذمہ ایک کام کی تکمیل کا فریضہ ہوتا تھا۔ اس طبقاتی تقسیم میں رد و بدل کا کسی کو اختیار نہ تھا۔ بڑی سے بڑی ملکی یا قومی خدمت یا بھاری بھر کم رشوت سے بھی یہ تبدیلی ممکن نہیں بنائی جاسکتی تھی۔ شہنشاہ ایران اردشیر نے اپنی رعایا کو مندرجہ ذیل طبقات میں تقسیم کر دیا تھا۔
1) شاہی خاندان کے افراد کا طبقہ سب سے اعلیٰ تھا۔
2) آتش کدوں کے خدام عبادت گزار اور مذہبی پروہتوں کو دوسرے طبقہ میں رکھا گیا تھا۔
3) اطباء منجمین (طبیب/نجومی) اصحاب علوم و فنون کو تیسرے طبقہ سے شمار کیا جاتا تھا۔
4) کاشتکاروں اور اہل حرفہ (پیشہ وروں) کو چوتھا طبقہ کہا جاتا تھا۔
اسی طریقہ پر اہل ہند نے بھی اپنے معاشرہ کو مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا تھا اور ہر طبقہ کے لئے ان کے فرائض ذمہ داریاں اور ان کے حقوق متعین کر دیئے گئے تھے کسی کی مجال نہیں تھی کہ ان میں رد و بدل کر سکے ۔ ان چاروں طبقات میں سے اعلیٰ ترین طبقہ برہمنوں کا تھا۔ کیونکہ ان کے زعم باطل کے مطابق ان کی تخلیق براہم کے سر سے ہوئی تھی دوسرا طبقہ کھشتریوں کا تھا، جنہیں براہم کے کندھوں اور ہاتھوں سے پیدا کیا گیا تھا۔ تیسرا طبقہ ویش کا تھا جو براہم کے پاؤں سے تخلیق کئے گئے تھے جن کا کام تجارت اور کھیتی باڑی تھا۔ اور سب سے گھٹیا طبقہ شودروں کا تھا یہ مشہور ہے کہ ان کا باپ شودر تھا اور ان کی ماں برہمن۔ دونوں نے باہمی زنا کیا اس سے یہ طبقہ پیدا ہوا اس لئے یہ حد درجہ گھٹیا لوگ ہیں اور ان کو اجازت نہیں کہ وہ شہروں میں عام بستیوں میں آباد ہوں ان کے لئے یہ بھی پابندی تھی کہ نہ وہ خود اپنی مذہبی کتب ویدوں کو پڑھ سکتے تھے اور نہ ان کو ایسی محفلوں میں شرکت کی اجازت تھی جن میں وید پڑھا جانا ہوتا ۔ مبادا کہ وید کے کلمات شودروں کے کانوں کے پردوں سے ٹکرائیں اگر یہ ثابت ہو جاتا کہ ویش یا شودر نے وید سنا ہے تو برہمن اسے حاکم وقت کے پاس پیش کرتے جو سزا کے طور پر ان کی زبانیں کاٹ دیتا۔ ان طبقات کا ذکر کرتے ہوئے علامہ البیرونی لکھتے ہیں۔ اسلام نے تمام انسانوں کو خواہ وہ کسی خاندان سے تعلق رکھتے ہوں مساوی درجہ دیا ہے صرف تقویٰ اور پارسائی کی بنا پر کسی کا درجہ دوسرے سے بلند اور برتر ہو سکتا ہے علامہ لکھتے ہیں کہ اسلام کا یہ نظریہ مساوات ہندوؤں کے لئے ایک ایسا حجاب ہے جس کے باعث وہ اسلام کو قبول نہیں کرتے اور اس کی تعلیمات سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (تحقیق ماللہند، صفحہ 76)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲