قسط نمبر37 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: چونتیسواں) (سلطنت روم ~ حصہ اول)
رومہ کے محل وقوع نے اس کی اہمیت میں بڑا اضافہ کر دیا تھا یہ شہر سات پہاڑیوں کے اس مقام پر آباد ہوا تھا جہاں دریائے ٹائبر پر پل بنایا گیا تھا، طبعی طور پر دفاعی نقطہ نظر سے بہت مستحکم تھا اس میں بآسانی قلعہ بندیاں کی جاسکتی تھیں اور دشمن کی بڑی سے بڑی حملہ آور فوج سے اس کی حفاظت کا فریضہ بآسانی انجام دیا جا سکتا تھا۔ یہ اٹلی کے وسط میں اس کے مغربی ساحل سے تقریبا پندرہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ اٹلی آب و ہوا اور زمین کے اعتبار سے بحیثیت عمومی بحیرہ روم کے اوصاف و خصائص کا مرقع ہے۔ اٹلی کے زرعی میدان اگرچہ بہت زیادہ وسیع نہیں تاہم یونان کے مقابلہ میں ان کا رقبہ بہت زیادہ ہے اور زمین بڑی زرخیر ہے۔ ابتداء میں بیرونی حکمران جزیرہ نما اٹلی پر حکمرانی کرتے تھے لیکن لاطینی قبیلے ان اجنبی حکمرانوں سے سخت نفرت کرتے تھے اور اس موقع کی تلاش میں تھے کہ وہ ان کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیں چنانچہ 509 ق م میں رومیوں نے آخری بیرونی بادشاه مغرور ٹارکیون (TARQUIN THE PROUD) کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور اس کو نکال باہر کیا اس وقت سے ان کی آزادی کا دور شروع ہوا۔ جمہوریت کے ابتدائی سالوں میں رومہ کے تمام شہریوں کے لئے لازمی تھا کہ وہ فوجی خدمات انجام دیں رومہ کے جمہوری حکمرانوں نے فوج میں فولادی نظم و نسق برقرار رکھا۔
دوسری صدی قبل مسیح کا ایک یونانی مورخ پولی بئیس (POLY BIUS) لکھتا ہے۔ ان رومی سپاہیوں میں سے پہرے کی حالت میں جو سپاہی سو جاتے ان کے خلاف کارروائی کے لئے فوجی عدالت کا اجلاس طلب کر لیا جاتا اور جو سپاہی مجرم ثابت ہوتا اس پر سنگ باری کر کے اسے وہیں ختم کر دیا جاتا اور جو کسی وجہ سے زندہ بچ جاتے ان کو گھروں میں واپس آنے کی اجازت نہ تھی اور خاندان کا کوئی فرد حکومت کے خوف سے انہیں اپنے ہاں ٹھہرانے کی جرأت ہی نہیں کر سکتا تھا رومی فوج میں رات کے وقت چوکیداری کے تقاضے بڑے اہتمام سے پورے کئے جاتے۔ یہی مورخ لکھتا ہے کہ رومی فوج کی کامیابیاں کشادہ دلانہ انعام و اکرام اور وحشیانہ سزاؤں پر موقوف تھیں۔ یہ جمہوری مملکت آہستہ آہستہ ترقی کرتی گئی یہاں تک کہ برطانیہ سے مصر تک ماریطانیا سے آرمینیا تک رومیوں کی سلطانی کا پرچم لہرانے لگا اور اس وسیع و عریض مملکت کے باشندے اس بات پر بڑا فخر کرتے تھے کہ وہ رومی شہری ہیں۔
ابتدائی رومی جمہوریت کی حکومت، حکومت عدیدہ تھی اولی گارچی ( OLIGARCHY)، کیونکہ امراء کا ایک چھوٹا سا طبقہ تمام کلیدی سرکاری عہدوں پر مسلط تھا، عوامی نمائندوں کو طبقہ امراء کی اجارہ داری پسند نہ آئی چنانچہ انہوں نے بہت جلد اپنے حقوق کا مطالبہ شروع کر دیا رومیوں نے عملی مصلحت اندیشی کے پیش نظر عوامی نمائندوں کے مطالبات کو تسلیم کر لیا۔ اور نظام حکومت میں ترمیم کر دی گئی۔ عوامی نمائندوں کو یہ شکایت تھی کہ سلطنت کا قانون تحریری طور پر مدوّن نہیں اس لئے وہ اپنے حقوق کا پورا تحفظ نہیں کر سکتے ۔ اس شکایت کے پیش نظر ایک خاص کمیشن مقرر کر دیا گیا جس نے پہلی مرتبہ 449 ق م میں رومی قانون کو تحریری شکل میں مرتب کیا۔ اسے بارہ تختیاں کہتے تھے کیونکہ یہ لکڑی کی بارہ تختیوں پر کندہ کرایا گیا تھا اس طرح ہر شخص ان تختیوں کا مطالعہ کر کے اپنے قانونی حقوق معلوم کر سکتا تھا۔ رومی سلطنت کی وسعت کے بارے میں آپ پہلے پڑھ چکے ہیں مرور زمانہ کے ساتھ طرح طرح کی انتظامی اور عمرانی خرابیاں رونما ہونے لگیں جس سے امن و امان کی صورت حال بگڑتی چلی گئی اور ہر سالار فوج جو کسی علاقہ کو فتح کرتا، وہ بے انداز اختیارات کا مالک بن جاتا اور من مانی کرنے سے باز نہ آتا۔ ظاہری طور پر اگرچہ جمہوری حکومت اپنے تمام اداروں کے ساتھ قائم تھی لیکن اس کے ادارے رفتہ رفتہ بے اثر ہوتے چلے گئے اور ان میں نہ یہ قوت رہی کہ بیرونی حملہ آوروں کی یلغار کے سامنے بند باندھ سکیں اور نہ ان میں یہ صلاحیت رہی کہ وہ اندرون ملک بےچینی کی اٹھنے والی لہروں کو قابو میں لا سکیں چنانچہ دن بدن حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے چلے گئے۔ یہاں تک سپہ سالار ماریس جس نے شمالی افریقہ اور “گال” کی مہموں میں (12 ق م – 101 ق م ) فوجی شہرت حاصل کر لی تھی 108 ق م میں قونصل منتخب ہوا اور اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث جمہوریت کو مطلق العنانی کے راستہ پر چلانا شروع کر دیا اس کے بعد “سُلا” ماریس کی وفات ۸۲ ق م اور متھری وائز پر فتح ۸۴ ق م کے بعد ڈکٹیٹر بن گیا اور ماریس کے حامیوں کو اس نے کچل کر رکھ دیا۔ اگر چہ اس کے عہدہ کی مدت صرف چھ ماہ تھی مگر وہ چار سال تک اسی عہدہ پر فائز رہا۔ اس زمانہ میں سینٹ موجود تھا لیکن رومہ پر حکمرانی سُلا اپنی فوج کی مدد سے کر رہا تھا۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲