قسط نمبر58 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: پچپن) (ہندوستان ~ حصہ پنجم) (البیرونی کی تحقیق کے مطابق اہل ہند کے عقائد ~ حصہ سوئم)
ہندوؤں کے لاتعداد دیوتا اور ان کی الہامی کتابیں: ہندوؤں کے دیوتاؤں کی فہرست بہت طویل تھی جو ہر لحظہ بڑھتی رہتی تھی، بغور مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ دیوتاؤں کی اس طویل فہرست میں ایسے دیوتا بھی ہیں جو یورپین آریاؤں کے دیوتاؤں سے مشابہت رکھتے ہیں ڈائیوس (DYAVS) جو درخشندہ آسمان کا دیوتا ہے وہ یونانی دیوتا زیئس (ZEUS) کا ہی دوسرا نام ہے۔ وارونا (VARUNA) وہ دیوتا ہے جو آسمان کا نمائندہ ہے، آسمان کی طرح ہر چیز کو گھیرے ہوئے اور یکجا کئے ہوئے ہے، اسے آسورا (ASURA) کہا جاتا ہے یہ ایران کے اعلیٰ ترین دیوتا اہورا مزدا کا ہم معنی ہے۔ پانچ دیوتا ایسے ہیں جو سورج کے مختلف مظاہر ہیں۔ مترا جسے ایرانی متراس کہتے ہیں اس کو وہ اہمیت نہیں جو اہورا مزدا کو ایران یا یونان میں حاصل تھی۔ سورج کی زریں قرص کو سوریا (SURYA) کہتے ہیں سورج کی وہ قوت جو نباتاتی اور حیوانی زندگی کی افزائش کا باعث بنتی ہے اس کو مجسم کر کے پوشاں (PUSHAN) کا نام دیا گیا۔ وہ دیوتا جو تین چھلانگ سے سارے آسمان کو طے کر لیتا ہے اس کے پیکر کو وشنو (VISHNU) کہتے ہیں، ویدوں کے عہد میں جو دیوتا سب سے زیادہ طاقت ور اور اہم تھا اس کا نام اندرا ہے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک از حد زہریلے ناگ کو قتل کر کے انسانیت کو بہت نفع پہنچایا۔ اس زہریلے ناگ سے مراد قحط ہے۔ اندرا نے پانی کو جاری کر کے قحط ختم کر دیا نیز اس نے روشنی دریافت کی اور سورج کے لئے راستہ ہموار کر دیا یہ بڑا جنگ جو ہے اور جنگ کا دیوتا ہے۔ اس نے اپنی تلوار سے جنوں اور عفریتوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور کالی چمڑی والے دراوڑوں کو شکست دی جو آریوں کے دشمن تھے اندرا دیوتا “سوما” شراب کا بڑا رسیا ہے جس کے پینے سے اس کا جنگی جنون بھڑک اٹھتا ہے اس نے سوما شراب سے بھری ہوئی تین جھیلیں پی لیں اور تین سو بھینسوں کا گوشت ہڑپ کر گیا۔ سوما خود بھی ایک دیوتا ہے اس طرح اگنی بھی۔ اگنی کو دیوی بھی مانا جاتا ہے اور اسے دیوتاؤں کا منہ بھی کہا جاتا ہے جو پجاریوں کی قربانیوں کو ہڑپ کر کے آسمانی دیوتاؤں تک پہنچاتا ہے “وارونا” کو کائنات کا ناظم اعلیٰ کہا جاتا ہے جو دریاؤں کو جاری رکھتا ہے سورج اور دوسرے سیاروں کو اپنے اپنے مداروں میں محو گردش رکھتا ہے اس کے بارے میں اس کے پجاریوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ دیوتاؤں اور انسانوں کو قوانین اور قواعد کا پابند رکھتا ہے اور بد کاروں کو ہتھکڑیاں لگا دیتا ہے۔(ورلڈ سویلائزیشن، صفحہ 82)
اگرچہ قدیم آریہ حیات بعد الموت پر یقین رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اس پر بھی زور دیتے تھے کہ اس دنیا میں جتنی داد عیش دے سکتے ہو دے لو پھر یہ موقع نصیب نہ ہو گا۔
بابر بعیش کوش کہ عالم دوباره نیست۔
ہندوں کی الہامی کتابیں: آریوں کے پاس قدیم ترین علمی سرمایہ وید ہیں، وید کا معنی علم اور دانش مندی ہے ان کے بارے میں ان کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ قدیم رشیوں کے دلوں پر القا کئے گئے یہ دیوتاؤں کا کلام ہے کسی انسان کی تخلیق نہیں۔ ہندی آریوں کے لئے یہ وید مذہبی قوانین کی کتب ہیں ان میں مختلف قسم کی دعائیں ہیں۔ بھجن ہیں، حمد کے گیت ہیں، ان کے ساتھ نثر میں ویدوں کی تفسیر ہے، ہندوؤں کے نزدیک یہ الہامی کتب میں از حد مقدس ہے۔ کیونکہ آریہ ناخواندہ تھے اس لئے یہ کتابیں پڑھ کر انہیں سنائی جاتی تھیں اس میں وہ منتر بھی ہیں جو برہمن قربانی دیتے وقت الاپتا رہتا ہے۔ ایسے جادو منتر بھی ہیں جن سے سانپ کے کاٹنے کا علاج کیا جاتا ہے، محبت پیدا کرنے کے افسوں بھی ہیں۔ اور دشمنوں کو تباہ و برباد کرنے کے طریقے بھی۔ ان کے علاوہ ویدوں کے ساتھ “اُپنشد ” بھی ہیں۔ ان میں ہندو مذہب کی فلسفیانہ بنیادیں استوار کی گئی ہیں اور ان چاروں چیزوں کو ہندو مذہب کی اساس قرار دیا گیا ہے۔
1) اعلیٰ حقیقت روحانی دنیا ہے۔
2) مادی دنیا کی کوئی حقیقت نہیں۔
3) عقیدہ تناسخ۔
4) اس بار بار کے جینے اور مرنے کے تسلسل سے اس وقت ہی انسان کو نجات مل سکتی ہے جب وہ وجود حقیقی میں کھو جاتا ہے جب بھی روح، مادہ کے قفس کو توڑ کر آزاد ہوتی ہے تو ہر قسم کے رنج والم سے وہ محفوظ رہتی ہے ایک بار مرنے کے بعد انسان دوسرے جنم میں کسی اور وجود میں ظاہر ہوتا ہے وہ وجود انسانی، حیوانی بلکہ نباتاتی بھی ہو سکتا ہے پہلے جنم میں جو غلطیاں اس سے سرزد ہوئی تھیں۔ اس کے مطابق اس کو نیا وجود دیا جاتا ہے جس میں ظاہر ہو کر وہ طرح طرح کی مصیبتوں بیماریوں اور ناکامیوں میں گرفتار ہوتا ہے اور اگر اس نے اپنی پہلی زندگی میں نیکیاں کی تھیں تو اس کو ان کا اجر دینے کے لئے نئے وجود کا کوئی ایسا قالب بخشا جاتا ہے جس میں ظاہر ہونے سے اس کو اس کی گزشتہ نیکیوں کا اجر ملتا ہے اس طریقہ کار کو کراما (KARAMA) کا نظریہ کہا جاتا ہے۔
ان ویدوں کے علاوہ ان کے پاس دو طویل رزمیہ نظمیں ہیں ایک کو رامائن اور دوسری کو مہا بھارت کہا جاتا ہے ۔پہلی نظم میں رام کی کہانی ہے جسے اس کے باپ نے اس کی سوتیلی ماں کے اکسانے پر اپنی بیوی سیتا سمیت جلاوطن کر دیا تھا ۔ جب یہ جوڑا جنگل میں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہا تھا تو لنکا کے راجہ راون نے اس کی بیوی سیتا کو اغوا کر لیا رام نے لنکا پر چڑھائی کر کے اپنی بیوی کو آزاد کرا لیا۔
دوسری نظم میں اس لڑائی کا ذکر ہے جو کَورَو اور پانڈو کے درمیان لڑی گئی تھی اس لڑائی میں کرشنا ارجن کا رتھ بان تھا۔ ان کی ایک اور اہم کتاب “بھگوت گیتا ” ہے یہ کرشنا کا کلام ہے جو اس نے ارجن کے ساتھ کیا جو متوقع خونریزی کے خوف سے جنگ سے دست کش ہونا چاہتا تھا۔ کرشنا نے اس کو جنگ کرنے پر آمادہ کیا اس جنگ سے جو تباہی مچی اور انسانی خون کے دریا بہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔
آہستہ آہستہ آریوں کا سادہ سا مذہب پیچیدہ نظریات اور بے معنی رسوم کا ایک گورکھ دھندا بن کر رہ گیا۔ دیوتاؤں کی فہرست ان کے مناصب اور ان کی عبادت کے طریقے ہر مقام اور ہر آبادی کے لئے الگ الگ ہو گئے ۔ چند مستثنیات کو چھوڑ کر قدیم اور اہم دیوتاؤں کی اہمیت بالکل گھٹ گئی اور نئے دیوتاؤں نے مندروں میں اہم مقام حاصل کر لیا۔ ان کے معبودوں کی تعداد ہزاروں بلکہ لاکھوں کروڑوں تک پہنچ گئی فلسفہ عقیدہ توحید کی طرف پیش قدمی کرتا رہا۔ اور جو عقیدہ عوام میں مقبول اور پسندیدہ تھا وہ مخالف سمت میں تیزی سے بڑھتا رہا۔
(ورلڈ سولائزیشن ،خلاصہ، صفحہ 87)
بہرحال تین دیوتاؤں کو اب بھی بڑی فوقیت حاصل ہے اگرچہ ان کے باہمی مراتب میں اختلاف ہے۔
1) وشنو (VISHNU) نظام شمسی کا ایک قدیم دیوتا ہے اور اس کی کئی ناموں سے پوجا کی جاتی ہے۔ چونکہ یہ جنگ کے خلاف ہے اس لئے اس کے لئے جانوروں کی قربانی نہیں دی جاتی بلکہ پھولوں کے ہار پیش کئے جاتے ہیں۔
2) شیوا (SHIVA) یہ پہلے دیوتا کے بالکل برعکس ہے۔ اس کی قدر و منزلت اور پوجا ہر جگہ وشنو سے بڑھ کر ہوتی ہے اس کی تصویر میں اس کے پانچ چہرے اور چار ہاتھ دکھائے جاتے ہیں۔
3) براہما (BARAHMA) یہ دیوتا پہلے دو سے عزت و مرتبہ میں کم ہے اس کا بت چھوٹی انگلی کی مانند چھوٹا سا بنایا جاتا ہے اور اسے کنول کے پتہ پر بٹھایا ہوا دکھایا جاتا ہے۔
(ورلڈ سولائزیشن، صفحہ 88)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲