Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر38 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: پنتیسواں)(سلطنت روم ~ حصہ دوئم)
نئے طالع آزماؤں میں سب سے پیش پیش جولیس سیزر تھا۔ جو رومی سرداروں میں پرلے درجہ کا حریص تھا۔ اس نے اپنی وسیع فتوحات سے (58 ق م – 50 ق م)میں شہرت حاصل کر لی اور اپنے کارناموں کو خوب پھیلایا۔ آخر کار اس نے 49 ق م میں رومہ پر حکمرانی کے لئے اپنی جان کی بازی لگا دی۔ اور اس نے سینٹ کے احکام کو نظر انداز کر دیا اور تربیت یافتہ سپاہیوں کی فوج لے کر پومپی کو شکست دینے کے لئے جو سیزر کا داماد اور سابقہ حلیف تھا۔ سیزر اٹلی سے ہسپانیہ ،وہاں سے یونان مقدونیہ اور وہاں سے مصر گیا۔ مصر پہنچنے پر اسے معلوم ہوا کہ پومپی قتل ہو چکا ہے مصر کی نوجوان ملکہ کلیو پیٹرا نے سیزر سے مدد کی التجائیں کیں تاکہ اس کا متزلزل تخت بحال رہے، سیزر کو کلیو پیٹرا سے محبت ہو گئی اور اس کے بطن سے ایک بیٹا بھی پیدا ہوا تاہم وہ اپنے اصل نصب العین کو زیادہ عرصہ تک فراموش نہ رکھ سکا۔ آخری مخالف کو اس نے ہسپانیہ میں شکست دی اس وقت سے سیزر اپنی مرضی کے مطابق تنہا حکومت کا کاروبار چلاتا رہا۔ سیزر کی حکمرانی میں یونانی استبداد اور مشرقی مطلق العنانی کے خصائص جمع ہو گئے تھے یونانی آمروں کی مانند سیزر کو عوام کی حمایت حاصل تھی جو بد نظمی سے تنگ آئے ہوئے تھے اس کی بعض پالیسیاں بڑی دانشمندانہ اور تعمیری تھیں اس نے قدیم اور غلط تقویم کی جگہ 365 دن کا نیا سال جاری کیا جس میں ہر چوتھے سال ایک دن کا اضافہ کر دیا جاتا ہے اس نے اٹلی کے مزید شہروں کو حقوق خود مختاری عطا کر دیئے، اس طرح رومی شہریت کی توسیع کو بامعنی بنا دیا، مرکز کے بعض اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیے جن کی اشد ضرورت تھی، ان اچھی باتوں کے برعکس سیزر نے جمہوریت کے تمام اداروں کو معطل کر دیا اور قونصل عوام کے ٹریبون ڈکٹیٹر اور اعلیٰ مذہبی پیشوا چاروں کے اختیارات سنبھال لئے سینٹ کو مجبور کر دیا کہ اس کی پیش کردہ تجاویز کو بحث و تمحیص کے بغیر منظور کر لے۔ ساتھ ہی یہ بھی اہتمام کیا کہ رعایا سکندر اعظم اور مصری بطلیموسیوں کی طرح خود اس کی بھی پرستش کرے دشمنوں نے سیزر کو سینٹ میں قتل کر دیا آکیٹوین (OCTAVIAN) جو اس کی بھانجی کا بیٹا تھا اس کا جانشین بنا۔ اور اس کے نقش قدم پر چلنا شروع کر دیا اس نے اپنے پندرہ سالہ دور حکومت میں دشمنوں کو عبرتناک شکستیں دیں۔ اس کا سب سے بڑا اور آخری حریف مارک اینٹونی (Mark Antoni) تھا، جو اس کی بہن آکٹیویا کا شوہر بھی تھا۔ وہ مصر چلا آیا تاکہ مصر کی ملکہ کلیو پیٹرا سے مدد طلب کرے۔ لیکن وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو گیا۔ اس عشق بازی نے اسے قابل سپہ سالاری کی صفات سے بھی محروم کر دیا نیز اپنے اہل وطن کی نگاہوں میں اس کی جو قدر و منزلت تھی وہ بھی جاتی رہی۔ وہ اب روما کا جری جرنیل نہیں رہا تھا بلکہ مصر کی ملکہ کا خاوند بن کر رہ گیا تھا۔ چنانچہ اس کے ہم وطن رومی اس سے بیزار ہو کر اس کے حریف آکٹیوین سے جا ملے۔ ۳۰ ق م میں اس نے اینٹونی کو شکست دی۔ اس صدمہ کی تاب نہ لاتے ہوئے اینٹونی اور کلیو پیٹرا دونوں نے خود کشی کرلی۔ (تاریخ تہذیب، خلاصہ، صفحہ 138 تا141 ،جلد اول) مصر کو بھی رومی مملکت میں شامل کر لیا اس طرح آکٹیوین نے رومہ میں اقتدار کامل حاصل کر لیا جمہوریت نے جو مدت سے بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑ رہی تھی دم توڑ دیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جمہوری اوضاع قائم رہیں مگر اپنے اختیارات بڑھا کر حکومت کا اقتدار مستحکم کر لیا جائے وہ اپنے آپ کو رومی جمہوریت کا بحال کنندہ کہتا تھا۔ جمہوریت پرستی کا کردار قائم رکھنے کے لئے وہ ہر نمائش سے احتراز کرتا ایک سادہ سے مکان میں رہائش پذیر رہا۔ اس کے بچے بھی عام لوگوں کے بچوں کی طرح گھریلو کام کاج سیکھتے سرکاری دعوتوں میں بھی اعتدال کو ملحوظ رکھتا وہ اپنے آپ کو شہنشاہِ معظم یا سیزر کی طرح دیوتا کا بیٹا کہلانے کے بجائے جمہوریت کا پہلا شہری کہلانا پسند کرتا تھا آخر اسے آگسٹس کے لقب سے ملقب کیا گیا یعنی محترم معظم۔ اور تاریخ میں اسی لقب سے پہچانا جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ بادشاہوں کی پرستش شروع ہو گئی رعایا کے مختلف گروہ آگسٹس کو دیوتا کی طرح پوجنے لگے ۔ مشرقی ممالک میں لوگ اپنے بادشاہوں اور شہنشاہوں کی پرستش کیا کرتے تھے یہاں بھی ان کی نقل کرتے ہوئے بادشاہوں کی پوجا شروع ہو گئی اور اسے حب الوطنی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ (تاریخ تہذیب ،صفحہ ۱۴۵ ،جلد اول) اس کے بعد شہنشاہی کا سلسلہ شروع ہوا اور آخر دم تک بادشاہی نظام جاری رہا۔ اس عرصہ میں حضرت عیسٰی مسیح علیہ السلام کا ظہور ہوا آپ علیہ السلام کی حیات طیبہ میں یہودیوں نے آپ علیہ السلام پر اور آپ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ طاہرہ پر بڑے سوقیانہ الزامات عائد کئے اور آپ علیہ السلام کی نبوت ورسالت کی مخالفت میں اپنے تمام وسائل اور اثر و رسوخ استعمال کرتے رہے آپ علیہ السلام کی زندگی میں صرف بارہ آدمی آپ علیہ السلام پر ایمان لائے جن کو حواری کہا جاتا ہے۔ آپ علیہ السلام کا لایا ہوا نیا دین آپ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھا لئیے جانے کے بعد پہلی دو نسلوں میں آہستہ آہستہ پوری رومی سلطنت کے اندر پھیل گیا، پہلی صدی گزرنے کے بعد مسیحیت کا بیج سلطنت کے ان تمام حصوں میں بویا جاچکا تھا۔ چوتھی صدی کے اوائل میں ان کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی کہ اس وقت کے شہنشاہ گیلیرئس نے ۳۱۱ عیسوی میں رواداری کا سرکاری فرمان جاری کیا اور اس وقت اس پر اپنے دستخط ثبت کئے جب وہ بسترِ مرگ پر داعی اجل کو لبیک کہنے کا منتظر تھا۔ اس کے بعد قسطنطین نے ۳۱۳ عیسوی میں میلان کے فرمانِ شاہی کے ذریعہ مذہبی آزادی کا اعلان کیا۔ ۳۲۵ میں مسیحیت کے مذہبی راہنماؤں کی ایک مجلس شہنشاہ نے اپنی سرپرستی میں نیقیہ کے مقام پر منعقد کی۔ قسطنطین کی موت کے وقت کلیسا اس درجہ پر پہنچ چکا تھا کہ رومی سلطنت کا سرکاری مذہب بن سکے قسطنطین نے بھی بپتسمہ لیا اور اپنے عیسائی ہونے کا اعلان کر دیا۔ 🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲
Scroll to Top