قسط نمبر11 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: ہشتم)
(ایران ~ حصہ ہشتم)
(ساسانی خاندان ~ حصہ اول)
ساسانی خاندان کی حکومت کے بانی اردشیر نے جب 226 ء یا 227ء میں اپنی شہنشاہیت کی بنیاد رکھی تو اس نے پھر زرتشتی مذہب کو عروج بخشا سورج اور چاند کی پوجا ختم کر دی گئی، دوسرے معبودوں کے اصنام کو توڑ پھوڑ دیا گیا ساری قوم زرتشت کے مذہب کی پیروکار بن گئی لیکن اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اردشیر نے زرتشت کے دین توحید کو قبول کر لیا تھا۔بلکہ اس نے زرتشت کے انہیں نظریات کو قبول کیا جس کی نمائندگی موبدان (آتش پرستوں کے پیشوا) کر رہے تھے اور جس میں آگ کی پرستش سر فہرست تھی اس تحریف شده مروج زرتشتی مذہب کی حمایت اور تبلیغ کا بیڑا اردشیر اول نے اٹھایا۔ چنانچہ پروفیسر آرتھر (ایران بعہد ساسانیاں) میں لکھتا ہے ۔ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اردشیر اول کا دادا، اصطخر میں ” اناھتا” کے معبد کا رئیس تھا اور یہ کہ ساسانی خاندان کو اس معبد کے ساتھ خاص لگاؤ تھا۔ پس معلوم ہوا کہ خاص خاص دیوتاؤں کے خاص خاص معبد تھے لیکن پھر بھی یہ قرین قیاس ہے کہ تمام معبد بطور عمومی تمام زرتشتی خداؤں کی پرستش کے لئے وقف تھے عبادت کی مرکزی جگہ آتش گاہ تھی جہاں پر مقدس آگ جلتی رہتی تھی عام طور پر ہر آتش کدے کے آٹھ دروازے اور چند ہشت پہلو کمرے ہوتے تھے اس نمونہ کی عمارت شہر یزد کا قدیم آتش کدہ ہے، جو آج بھی موجود ہے۔ مسعودی نے اصطخر کے قدیم آتش کدے کا حال بیان کیا ہے وہ لکھتا ہے میں نے اس عمارت کو دیکھا ہے اصطخر سے تقریباً ایک فرسخ کے فاصلہ پر ہے وہ ایک قابل تعریف عمارت اور ایک شاندار معبد ہے اس کے ستون پتھر کے ایک ایک ٹکڑے سے تراش کر بنائے گئے ہیں ان کا طول و عرض حیرت انگیز ہے۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ ۲۱۰)
یہی مصنف آگے چل کر لکھتا ہے۔ سلطنت ساسانی میں آتش کدے ہر جگہ موجود تھے لیکن ان میں سے تین ایسے تھے جن کی خاصی حرمت و تعظیم ہوتی تھی یہ وہ آتش کدے تھے جن میں تین آتش ہائے بزرگ محفوظ تھیں۔جن کا نام آذرفربگ، آذرگُشنسپ اور آذربُرذین مہر تھا ۔ علماء زرتشتی کے نظریہ کی رو سے یہ تین آگیں ان تین معاشرتی طبقوں سے تعلق رکھتی تھیں جن کی بنا از روئے افسانہ زرتشت کے تین بیٹیوں نے ڈالی تھی۔ آذرفربگ علماء مذہب کی آگ تھی۔ آذرگُشنسپ سپاہیوں کی آگ یا آتش شاہی تھی اور آذربُرذین مہر، زراعت پیشہ لوگوں کی آگ تھی۔ آزر گُشنسپ یا آتش شاہی کا آتش کدہ شمال میں مقام گنجک (شیز) میں تھا۔جو صوبہ آذربائیجان میں واقع تھا شاہان ساسانی تکلیف و مصیبت کے وقت اس آتش کدے کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے اور وہاں نہایت فیاضی کے ساتھ زر و مال کے چڑھاوے چڑھاتے تھے اور زمین و غلام اس کے لئے وقف کرتے تھے بہرام پنجم نے جو تاج خاقان اور اس کی ملکہ سے چھینا تھا اس کے قیمتی پتھر اس نے آتش کدے آذرگُشنسپ میں بھجوا دیئے تھے۔ خسرو اول نے بھی اس آتش کدے کے ساتھ اسی طرح کی فیاضیاں کی تھیں۔ خسرو دوم نے منت مانی تھی کہ اگر اس کو بہرام چوبیں پر فتح حاصل ہو گئ تو وہ اس آتش کدے میں سونے کے زیور اور چاندی کے تحائف نذر کے طور پر پیش کرے گا۔
(ایران بعد ساسانیاں، خلاصہ صفحہ 215-218)
یہاں تک ہم نے مختلف ادوار میں ایرانی قوم کے مذہبی عقائد و نظریات میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں ان کا آپ کے سامنے ذکر کیا اب ہم آپ کو ان کی مذہبی زندگی کے ایک اہم پہلو کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲