قسط نمبر 16 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:تیرہواں)
(ایران ~ حصہ تیرہواں)
(ساسانی خاندان ~ حصہ ششم)
(ساسانی خاندان کی حکومت کا آغاز ~ حصہ دوئم)
ان فتوحات سے فارغ ہونے کے بعد اس نے اپنی تخت نشینی اور تاج پوشی کا جشن منایا اس روز اس نے اپنی رعایا کے سامنے اپنی حکومت کا منشور پیش کیا جو تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔مسعودی نے مروج الذہب میں اس کو نقل کیا ہے آپ بھی اس کا مطالعہ کریں۔
“اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِيْ خَصَّنَا بِنِعَمِهٖ وَشَمَلَنَا بِفَوَائِدِهٖ وَمَهَّدَ لَنَا الْبِلَادَ وَقَادَ اِلٰى طَاعَتِنَا الْعِبَادَ . نَحْمَدُهٗ حَمْدَ مَنْ عَرَفَ فَضْلَ مَا اَعْطَاهُ وَنَشْكُرُهٗ شُكْرَ الدَّارِىْ بِمَا مَنَحَهٗ وَاصْطَفَاهٗ اَلَا وَاِنَّا سَاعُوْنَ فِيْ اِقَامَةِ الْعَدْلِ وَاِدْرَارِ الْفَضْلِ وَتَشْیِيْدِ الْمَاثِرِ وَ عِمَارَةِ الْبِلَادِ وَالرَّاْفَةِ بِالْعِبَادِ وَ رَمِّ اَقْطَارِ الْمَمْلُكَةِ وَ رَدِّ مَا تَخَرَّمَ فِيْ سَائِرِ الْاَيَّامِ مِنْهَا۔ فَلْيَسْكُنْ طَائِرُكُمْ اَيُّهَا النَّاسُ فَاِنِّيْ اَعُمُّ بِالْعَدْلِ الْقَوِىَّ وَالضَّعِيْفَ وَالدَّنِيَّ وَالشَّرِيْفَ وَ اَجْعَلُ الْعَدْلَ سُنَّةً مَّحْمُوْدَةً وَّشَرِيْعَةً مَّوْرُوْدَةً وَّسَتَرَوْنَ فِيْ سِيْرَتِنَا اِلَی مَا تَحَمَدُونَنَا عَلَيْهِ وَتُصَدِّقُ اَفْعَالَنَا اَقْوَالَنَا۔ وَالسَّلَامْ..!
ترجمہ: ساری تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جس نے اپنی نعمتوں کے ساتھ ہمیں مخصوص فرمایا اور اپنی مہربانیوں سے ہمیں اپنے گھیرے میں لیا۔اور ملکوں کو ہمارے لئے مسخر کر دیا۔بندوں کو ہماری فرمانبرداری کی طرف رہنمائی کی ہم اس کی حمد کرتے ہیں، اس شخص کی حمد کی طرح جس نے اس فضل کو پہچانا جو اس پر اس نے کیا۔اور ہم اس کا شکر ادا کرتے ہیں اس آدمی کی طرح کہ جو ان عطیات کی قدر و منزلت کو پہچانتا ہے جو اس پر کئے گئے۔ اور جن کے لئے اللہ تعالی نے اسے چن لیا ہے۔ خبردار! ہم عدل قائم کرنے میں، فضل و احسان کرنے میں، شاندار کارنامے انجام دینے میں، ملکوں کو آباد کرنے میں، بندوں کے ساتھ لطف و احسان کرنے میں اور مملکت کی حدود کو مستحکم بنانے میں اور جو کچھ گذشتہ دنوں میں برباد ہو چکا ہے ان کو درست کرنے میں اپنی ساری کوششیں صرف کر دیں گے۔ اے لوگو! تمہارے دل مطمئن ہونے چاہئیں۔ کیونکہ میں ہر طاقتور اور کمزور، ہر فروتر اور شریف، سب کے درمیان عدل کروں گا۔ اور عدل کو اپنا قابل تعریف طریقہ بناؤں گا۔ اور ایسا گھاٹ بناؤں گا جس پر سب وارد ہوں گے، تم ہماری سیرت میں ایسی چیزیں دیکھو گے، جن پر تم ہماری ثنا کرو گے، ہمارے افعال ہمارے اقوال کی تصدیق کرو گے۔ والسلام ..!!
(مروج الذہب ،صفحہ ۲۸۵ ،جلد اول ،مطبوعہ بیروت)
اردشیر کے اس اولیں خطبہ سے اپنی رعایا کے بارے میں اس کے قابل تعریف نظریات و افکار کا پتہ چلتا ہے۔بادشاہ نے کسی اور محفل میں حکمران کی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
“يَجِبُ عَلَى الْمَلِكِ اَنْ يَّكُوْنَ فَائِضَ الْعَدْلِ فَاِنَّ فِي الْعَدْلِ جَمَاعَ الْخَيْرِ وَ هُوَ الْحِصْنُ الْحَصِيْنُ مِنْ زَوَالِ الْمُلْكِ وَتَخَرِّمُہٗ وَاِنَّ اَوَّلَ مَخَائِلِ الْاِدْبَارِ فِي الْمُلْكِ ذِهَابُ الْعَدْلِ مِنْهُ اِلْخٌ”
ترجمہ: بادشاہ پر فرض ہے کہ اس کا عدل عام ہو۔کیونکہ عدل میں ہی ساری بھلائیاں جمع ہوئی ہیں وہی ایک مضبوط قلعہ ہے جو ملک کو زوال اور ٹوٹنے سے بچاتا ہے اور ادبار و انحطاط کی پہلی نشانی یہ ہے کہ ملک سے عدل و انصاف رخصت ہو جائے ۔
(مروج الذہب ،صفحہ 286، جلد اول)
ارد شیر نے تاجِ حکومت پہنتے ہی زرتشت کے مذہب کے راہنماؤں کے ساتھ اپنا تعلق قائم کیا اور ان مذہبی راہنماؤں میں سے سات موبدوں کو منتخب کیا جو بہت متقی تھے پھر ان میں سے ایک رئیس موبداں چنا۔جسے خواب آور دوا پلا کر سات روز تک سلائے رکھا گیا۔جب وہ بیدار ہوا تو اس نے ہرمزد کا مکمل دین لکھوا دیا جس کو بادشاہ اور رعایا سب نے قبول کر لیا۔مورخین لکھتے ہیں کہ اردشیر بہت زیرک، عادل، اپنی رعایا کے آرام کا طلبگار تھا۔اس کا ایک قول ہے جو زباں زد عوام ہے۔
There can be no power without an army, no army without money, no money without agriculture & no agriculture without justice.
ترجمہ: فوج کے بغیر کوئی طاقت نہیں ہو سکتی۔ پیسے کے بغیر فوج نہیں رکھی جا سکتی۔ زراعت کے بغیر پیسہ نہیں مل سکتا۔ انصاف کے بغیر زراعت کامیاب نہیں ہو سکتی ۔
(ہسٹری آف پرشیا، صفحہ ۳۹۷)
حکومت اور مذہب کے باہمی تعلق کے بارے میں اس کا ایک مقولہ ہے۔جو ایک ابدی صداقت ہے جب وہ مرنے لگا تو اس نے اپنے بیٹے کو بایں الفاظ وصیت کی۔
“يَا بُنَيَّ اِنَّ الدِّيْنَ وَالْمُلْكُ اَخَوَانِ، لَا غِنَى لِوَاحِدٍ مِّنْهُمَا عَنْ صَاحِبِهٖ فَالدِّيْنُ اُسُّ الْمُلْكِ وَالْمُلْكَ حَارِسُهٗ، وَمَا لَمْ يَكُنْ لَّهٗ اُسٌّ فَمَهْدُوْمُٗ وَمَا لَمْ يَكُنْ لَهٗ حَارِسٌ فَضَائِعٌ”
ترجمہ: اے میرے فرزند! دین اور ملک دونوں بھائی ہیں۔کوئی بھی ان میں سے دوسرے سے مستغنی نہیں ہو سکتا دین حکومت کی بنیاد ہے اور حکومت دین کی نگہبان ہے۔جس چیز کی بنیاد نہیں ہوتی وہ گر جاتی ہے اور جس چیز کا کوئی نگہبان نہیں ہوتا وہ ضائع ہو جاتی ہے۔
(مروج الذہب، صفحہ ۲۸۹ ،جلد اول)
سر پرسی نے اردشیر کی اس نصیحت میں ایک جملہ لکھا ہے۔
A Sovereign without religion is a tyrant.
ترجمہ: مذہب کے بغیر حکمران ایک جابر اور ظالم حکمران ہے ۔
(ہسٹری آف پرشیا، صفحہ ۳۹۸)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲