Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 214ہجرت حبشہ: حصہ پنجم}

{حبشہ کی طرف پہلی ہجرت : حصہ پنجم}


علامہ ابو عبد الله القرطبی علیہ الرحمۃ نے بھی “احکام القرآن” میں اس روایت کی خوب تردید کی ہے اور ہر ہر سلسلہ روایت پر بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔
“فِیۡ ذٰلِكَ رِوَايَاتٌ كَثِيۡرَةٌ كُلُّهَا بَاطِلٌ لَا اَصْلَ لَہٗ”
ترجمہ: یہ سب کی سب باطل ہیں۔ ان کا کوئی ثبوت نہیں اور کیونکہ یہ روایت ضعیف ہے اس لئے اس کی تاویل کرنے کی بھی قطعا کوئی ضرورت نہیں ۔
“وَضُعۡفُ الْحَدِيۡثِ مُغْنٍي عَنْ كُلِّ تَاۡوِيۡلٍ”
آخر میں فرماتے ہیں کہ اگر اس روایت کی کوئی سند صحیح بھی ثابت ہو جائے تو بھی وہ ضعیف اور نا قابل اعتبار ہوگی کیونکہ آیات قرآنی کے صراحت مخالف ہے اور اب تو یہ روایت آیات قرآنی کے بھی خلاف ہے اور اس کی کوئی صحیح سند بھی نہیں ہے۔ ان حالات میں اہل نظر کے لئے یہ کب قابل التفات ہو سکتی ہے۔
“وَهٰذَا ضِدُّ مَفْھُوۡمِ الْاٰيَةِ وَهِيَ تُضَعِّفُ الْحَدِيۡثَ لَوصَحَّ فَكَيْفَ وَلَا صِحَّةَ لَهٗ”
علامہ قرطبی علیہ الرحمۃ نے قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول نقل کیا ہے۔
“اِنَّ الْاُمَّةَ اَجْمَعَتْ فِيۡ مَا طَرِيۡقُهُ الْبَلَاغُ اِنَّهٗ مَعْصُوۡمٌ فِيۡهِ مِنَ الْاِضْمَارِ عَنْ شَيْءٍ بَخِلَافِ مَا هُوَ عَلَيْهِ لَا قَصۡدًا وَّلَا عَمَدًا وَلَا سَهۡوًا وَلَا غَلَطًا”
ترجمہ:یعنی امت کا اس بات پراجماع ہے کہ تبلیغ کلام الہٰی میں حضور ﷺ سے ہرگز غلطی نہیں ہو سکتی نہ قصدا نہ عمدا نہ سہوا اور نہ غلطا۔ اس میں نبی ہر طرح معصوم ہے

علامہ آلوسی علیہ الرحمۃ نے دیگر اقوال کے ساتھ امام ابو منصور ماتریدی علیہ الرحمۃ کا یہ قول بھی نقل کیا ہے۔
“وَذَكَرَ الشَّيْخُ اَبُو الْمَنْصُوۡرِ اَلْمَاتُرِيۡدِيۡ فِيۡ كِتَابِ قَصَصُ الْاَتْقِيَآءِ الصَّوَابُ اَنَّ قَوْلَهٗ تِلْكَ الْغَرَانِيۡقُ الْعُلٰى مِنْ جُمْلَةِ اِیْحَآءِ الشَّيْطَانِ اِلٰى اَوۡلِيَاءِہٖ مِنَ الزَّنَادِقَةِ … وَحَضْرَةُ الرِّسَالَةِ بَرِيۡئَةٌ مِّنْ مِّثۡلِ هٰذِهِ الرِّوَایَةِ”
ترجمہ: یعنی “تِلْكَ الْغَرَانِيۡقُ الْعُلٰى” والی بات یہ اُن باتوں میں سے ایک بات ہے جو شیطان اپنے زندیق پیرو کاروں کے دلوں میں ڈالتا ہے تاکہ لوگوں کو اسلام سے برگشتہ کریں۔ جناب رسالت مآب ﷺ اس قسم کی روایتوں سے مبرا اور منزہ ہیں۔ (روح المعانى)

قاضی ابو بکر ابن العربی الاندلسی علیہ الرحمۃ جب اس آیت کی تفسیر کرنے لگے ہیں تو اس روایت کا ذکر کر کے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ غصہ سے ان کی آنکھوں میں خون اُتر آیا ہے اور دل بے چین اور بے قرار ہو گیا ہے ۔ اپنی سابقہ روش کے بالکل بر عکس اس روایت کو باطل کرنے کے لئے ایک مستقل فصل لکھی ہے جس کا عنوان ہے، “تَنۡبِيۡهِ الۡغَبِيِّ عَلٰى مِقۡدَارِ النَّبِیِّ” اور لکھتے ہیں۔
:وَنَرْجُوۡ بِهٖ عِنْدَ اللهِ الْجَزَآءَ الْاَوۡفٰى فِيۡ مَقَامِ الزُّلۡفٰی”
ترجمہ:کہ اس فصل کے لکھنے سے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقام قرب میں مجھے عظیم جزا دے گا۔

تنگی داماں کی شکایت نہ ہوتی تو آپ کی اس فصل کا پورا ترجمہ یہاں درج کرتے۔ اہل علم سے درخواست ہے کہ وہ ضرور اس فصل کا مطالعہ کریں۔مزید برآں یہ حدیث متواتر ہے کہ شیطان خواب میں بھی حضورﷺ کی شکل میں کسی کو دکھائی نہیں دے سکتا تا کہ مسلمانوں کو حضورﷺ کی شکل میں دھوکا دے سکے تو اس کی کیا مجال کہ سر چشمہ ہدایت کو وہ گدلا سکے۔
“قَدْ صَحَّ بَلْ تَوَاتَرَ قَوْلُهٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَاٰنِيۡ فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَاٰنِيۡ حَقًّا فَاِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِيۡ”
اصل واقعہ جو صحیحین اور دیگر کتب حدیث میں ہے۔ وہ صرف اتنا ہے کہ حضور ﷺ نے مجمع عام میں یہ سورۃ پڑھی اور اس میں آیت سجدہ آنے کی وجہ سے آخر میں سجدہ کیا تو تمام حاضرین جن میں کفار بھی تھے۔ سب سجدہ میں گر پڑے اور ایسا ہونا عین ممکن ہے۔ کیونکہ کلام الہٰی ہو اور زبان حبیب کبریاء ﷺ اس کی تلاوت کر رہی ہو تو کیوں نہ کفار بے ساختہ سجدے میں گر پڑیں بس اتنی بات تھی جس کو زنادقہ کی وضع و تحریف نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ اگر ہم ایک لمحہ کے لئے علماء محققین کی مذکورہ بالا تشریحات سے صرفِ نظر بھی کر لیں اور صرف اس سورۃ مبارکہ کی آیات میں غور کریں۔ تو حقیقت حال اظہر من الشمس ہو جائے گی۔
سورت کے آغاز میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی ؕ﴿۳﴾ اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی ۙ﴿۴﴾
ترجمہ:اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتے۔ اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہے۔(سورۃالنجم،آیۃ:3،4)

ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺکے بارے میں اللہ تعالیٰ کی شہادت ہے جو ان دو آیتوں میں مذکور ہے دوسری طرف یہ روایت ہے کہ معاذ اللہ حضورﷺ نے ان کے بتوں کی شان میں یہ جملے کے۔
“تِلْكَ الْغَرَانِيۡقُ الْعُلٰى اَلَخۡ”
اب آپ خود فیصلہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان سچا ہے یا یہ روایت جو زندیقوں کی وضع ہے۔ انسان ذرا تامل سے کام لے تو اس روایت کے باطل اور موضوع ہونے کے بارے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا۔ نیز ان آیات پر نظر ڈالیے جو ان جملوں (تِلْكَ الْغَرَانِيۡقُ) کے معاً بعد اس روایت کے مطابق تلاوت کی گئیں کیا ان کے بتوں کی یہ مذمت جو ان آیات میں کی گئی ہے کفار قریش کے لئے قابل قبول تھی بفرض محال اگر حضور ﷺ نے تِلْكَ الْغَرَانِيۡقُ والے جملے کہے ہوتے اور ان کے فورا بعد یہ آیتیں پڑھی ہوتیں۔
اِنۡ ہِیَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَہۡوَی الۡاَنۡفُسُ ۚ وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ مِّنۡ رَّبِّہِمُ الۡہُدٰی ﴿23﴾
ترجمہ:مگر (حقیقت یہ ہے کہ) وہ (بت) محض نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ اللہ نے ان کی نسبت کوئی دلیل نہیں اتاری، وہ لوگ محض وہم و گمان کی اور نفسانی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں حالانکہ اُن کے پاس اُن کے رب کی طرف سے ہدایت آ چکی ہے۔(سورۃ النجم، آیۃ:23)

کیا ان آیات میں اور ان جملوں میں کوئی باہمی مناسبت ہے ؟ کیا ایسا بے جوڑ کلام افصح العرب ﷺ کی زبان سے ادا ہو سکتا ہے؟ اور اگر ان دو جملوں کو سن کر کفار کو خوشی ہوئی تھی تو اس کے فوراً بعد یہ آیتیں سن کر حضور ﷺ کے بارے میں ان کی خوش فہمیاں ہمیشہ کے لئے کافور نہیں ہو گئی ہوں گی؟ ایک ادنیٰ عقل و فہم کا مالک انسان بھی اس روایت کو صحیح تسلیم کرنے کے لئے ہر گز تیار نہیں ہو سکتا۔
“اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِيۡ جَعَلَنَا مِنْ اُمَّةِ رَّسُوۡلِهِ الْمُكَرَّمِ وَنَبِيِّهِ الْمُعَظَّمِ الَّذِيۡ عَصِمَهٗ مِنْ وَسَاوِسِ الشَّيْطٰنِ وَهَمَزَاتِهٖ وَجَعَلَهٗ دَاعِيًا اِلَى اللَّهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيۡرًا”

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top