{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ اکیسواں آخری حصہ}
(صحابہ کرام پر ظلم و ستم کی روح فرسا داستانیں :حصہ ہفتم آخری حصہ)
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ: ان کو بھی آگ سے عذاب دیا جاتا تھا۔ ابن جوزی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں بسا اوقات سرکار دو عالمﷺ ایسے اوقات میں تشریف لاتے جب انہیں آگ سے عذاب دیا جا رہا ہوتا۔ حضورﷺ اپنا دست شفقت ان کے سر پر پھیرتے اور فرماتے۔
“یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرۡدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰی عَمَّارٍ كَمَا كُنْتِ عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ”
ترجمہ:اے آگ ! جس طرح تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی کا باعث تھی اسی طرح عمار کے لئے بھی ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی کا باعث بن جا۔
ایک روز حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے اپنی پشت سے قمیض اٹھائی تو وہاں برص کی طرح سفید داغ تھے۔ در حقیقت یہ آگ کے انگاروں کے جلانے کے نشانات تھے۔ جو برص کے داغوں کی طرح سفید ہو گئے تھے۔ اور انگاروں کا ان کو جلانا، حضورﷺ کی دعا سے پہلے پہلے تھا۔ اس مبارک دعا کے بعد پھر ان انگاروں کی مجال نہ تھی کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو جلاتے اور اذیت دیتے۔
(السيرة الحلبیہ، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، صفحہ 286)
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت عمار ، ان کے والد حضرت یاسر، ان کی والدہ حضرت سمیّہ ان کے بھائی حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہم یہ سب وفا کیشوں کے اس زمرہ میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانے کے جرم میں طرح طرح کی سزائیں دی جاتی تھیں۔ ایک روز جب ان پر جور و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے تو راہنمائے جادہ مہر و وفاﷺ کا ادھر سے گزر ہوا حضورﷺ نے فرمایا۔
“صَبۡرًا اٰلَ يَاسِرۡ صَبْرًا اٰلَ يَاسِرۡ فَاِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةَ”
ترجمہ:اے آل یا سر صبر کرو، اے آل یا سر صبر کرو! تمہارے ساتھ جنت کا وعدہ ہے۔
کفار کی ان گونا گوں اور وحشیانہ اذیت رسانیوں سے حضرت یاسر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ ابو حذیفہ بن مغیرہ نے اپنی لونڈی حضرت سمیّہ رضی اللہ عنہا ابو جہل کو دے دی۔ پہلے اس نے ان کو ورغلانے کی بڑی کوشش کی۔ لیکن جب وہ سچی مومنہ اپنے ایمان پر پہاڑ کی طرح جمی رہی۔ تو مکہ کے ایک چوراہے میں تماشائیوں کے ایک ہجوم میں اس نے آپ رضی اللہ عنہا کے اندام نہانی پر نیزہ مارا اور وہ غش کھا کر گریں اس عاشقہ صادقہ کے خون نے مکہ کی پیاسی ریت کو سیراب کیا۔ اور اپنی جان، جاں آفرین کے نام کو بلند کرنے کے لئے بطور نذرانہ پیش کر دی۔
“فَهِيَ اَوَّلُ شَهِيۡدَةٍ فِي الْاِسْلَامِ”
ترجمہ: تحریک اسلام میں سب سے پہلے شہادت کی خلعت فاخرہ سے جس کو نوازا گیا وہ آپ رضی اللہ عنہا کی ذات والا صفات تھی۔
بعض روایوں نے بیان کیا ہے کہ ابو جہل، حضرت عمار اور ان کی والدہ سمیہ رضی اللہ عنہما کو طرح طرح کی اذیتیں دیتا تھا اور لوہے کی زرہیں پہنا کر انہیں عرب کی چلچلاتی دھوپ میں ریت پر لٹا دیتا تھا۔ ایک دن حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت ﷺ میں فریاد کی ۔
“لَقَدْ بَلَغَ مِنَّا الْعَذَابُ كُلَّ مَبْلَغٍ”
ترجمہ:میرے آقاﷺ! اب تو میرے جسم کا انگ انگ کفار کی بھڑکائی ہوئی آگ میں جل بھن رہا ہے۔
اس ہادی بر حقﷺ نے فرمایا ۔
“صَبۡرًا يَا اَبَا الۡيَقْظَانِ ثُمَّ قَالَ اَللّٰهُمَّ لَا تُعَذِّبْ اَحَدًا مِّنْ اٰلِ عَمَّارٍ بِالنَّارِ”
ترجمہ:اے ابوالیقظان !( حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی کنیت) صبر کا دامن مضبوطی سے پکڑے رہو۔ الہیٰ ! عمار کی آل کو بھی آگ کے عذاب سے بچانا۔
(السيرة الحلبیہ، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، صفحہ286، انساب الاشراف، جلد اول، صفحہ160)
اسلام کے صدہا جان نثاروں میں سے چند حضرات کے احوال بطور نمونہ قارئین کی خدمت میں پیش کئے گئے ہیں ورنہ اس ابتلاء و آزمائش کے دور میں جس نے بھی اللہ تعالیٰ کے حبیبﷺ کے دست حق پرست پر اسلام کی بیعت کی اسے آزمائش کی ان بھٹیوں میں جھونکا گیا تشدد اور بے رحمی کی ان پر انتہاء کر دی گئی ابو جہل بد بخت اور اس کی قماش کے لوگوں کا اس کے علاوہ کوئی شغل ہی نہ تھا کہ وہ لوگوں کو اسلام قبول کرنے سے روکتے اور جو لوگ اسلام قبول کر لیتے ان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے تاکہ وہ مرتد ہو جائیں اگر کوئی ایسا شخص مسلمان ہو جاتا جو اثر و رسوخ کا مالک ہوتا اور معاشرہ میں جس کی قدر و منزلت ہوتی اس پر دست تعدی دراز کرنا تو بسا اوقات ان کے لئے ممکن نہ ہوتا۔ لیکن ایسے شخص کے پاس جا کر وہ پہلے اسے خوب سرزنش کرتے پھر کہتے تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم نے اپنے آباؤ و اجداد کا مذہب چھوڑ کر ایک نیا دین اختیار کر لیا ہے۔ کیا تمہارے باپ دادا تم سے زیادہ عقل مند نہ تھے۔ دیکھ! اگر تو باز نہ آیا تو ہم سارے شہر میں منادی کرا دیں گے کہ تو پاگل ہو گیا ہے۔ تمہیں رسوا اور ذلیل کرنے میں ہم کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ اگر کوئی تاجر اور کاروباری شخص اسلام قبول کرتا تو اس کے پاس جا کر دھمکی دیتے کہ ہم تیرا بائیکاٹ کر دیں گے۔ شہر کا کوئی آدمی تم سے سودا نہیں خریدے گا یہاں تک کہ تیرا دیوالیہ نکل جائے گا اور تو کوڑی کوڑی کا محتاج ہو جائے گا۔ اور اگر کوئی بے آسرا اور بے سہارا آدمی کلمہ شہادت پڑھ لیتا تو اس کی شامت آ جاتی۔ اسے نئے سے نئے ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ دہکتے انگاروں پر اسے لٹایا جاتا۔ اس کی مشکیں کس کر چلچلاتی دھوپ میں تڑپنے کے لئے اسے ڈال دیا جاتا نہ پینے کے لئے اسے پانی دیا جاتا اور نہ کھانے کے لئے ایک لقمہ۔ لیکن اسلام کے یہ جان باز ان آزمائشوں میں پہاڑوں سے بھی زیادہ مستحکم ثابت ہوتے۔ اور ان کی استقامت کو دیکھ کر ان درندہ صفت انسانوں کے چھکے چھوٹ جاتے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲