{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ بیسواں}
(صحابہ کرام پر ظلم و ستم کی روح فرسا داستانیں :حصہ ششم)
حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ: یہ آزاد ماں باپ کے آزاد فرزند تھے۔ کسی نے ان کو زمانہ جاہلیت میں پکڑ لیا اور اپنا اسیر بنا لیا۔ اور کسی منڈی میں جا کر فروخت کر دیا۔ اُم انمار نے ان کو خرید لیا آہن گری، ان کا پیشہ تھا۔ سرکار دو عالم ﷺ کو ان سے الفت تھی۔ حضورﷺ اکثر ان کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے۔ اس صحبت کی برکت سے آپ مشرف بہ اسلام ہو گئے ان کی مالکہ ام انمار کو جب یہ اطلاع ملی ۔ تو اس کی ناراضگی اور برہمی کی کوئی حد نہ رہی۔ وہ سنگ دل لوہے کا ایک ٹکڑا بھٹی میں گرم کرتی جب وہ لال سرخ ہو جاتا تو اسے چمٹے سے اٹھا کر حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے سر پر رکھ دیتی۔ اس سے جو اذیت آپ کو پہنچتی ہو گی اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایک روز اپنے آقا ﷺ کی خدمت میں انہوں نے اپنی اس تکلیف کے بارے میں گزارش کی حضورﷺ نے دعا فرمائی۔
“اَللّٰهُمَّ انۡصُرۡ خُبَابًا” ترجمہ:اے اللہ ! اس آزمائش میں تو خباب کی مدد فرما۔
لب مصطفیٰﷺ کے حرکت میں آنے کی دیر تھی۔ کہ اس ظالمہ کو درد سر کی تکلیف شروع ہو گئی درد کی شدت سے وہ کتوں کی طرح بھونکا کرتی تھی۔ اسے کہا گیا کہ سینگیاں لگواؤ ۔ اب اس کے لئے حضرت خباب رضی اللہ عنہ لوہے کا ایک ٹکڑا آگ میں گرم کرتے پھر اسے اس کے سر پر رکھتے۔ تب اسے کچھ افاقہ محسوس ہوتا ۔ حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی آزمائش نے جب طول کھینچا تو انہوں نے اپنی داستان درد و الم حضور کریمﷺ کی خدمت اقدس میں پیش کی۔ اس عرض داشت میں کچھ بے صبری کا اظہار بھی تھا حضورﷺ اس وقت کعبہ شریف کے سایہ میں تکیہ سے ٹیک لگائے تشریف فرما تھے یہ وہ دن تھے جب کہ مشرکین عام مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم کیا کرتے تھے۔ حضرت خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہﷺ! کیا حضورﷺ ہمارے لئے دعا نہیں فرماتے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس تکلیف سے نجات دے۔ میری یہ بات سن کر سرکار دو عالمﷺ کا چہرہ مبارک غصہ سے سرخ ہو گیا اور اٹھ کر بیٹھ گئے پھر فرمایا کہ تم سے پہلے جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے تھے، کفار لوہے کی کنگھیوں سے ان کی ہڈیوں سے گوشت ادھیڑ لیا کرتے تھے اس کے باوجود وہ اپنے دین سے رو گردانی نہیں کرتے تھے۔ بعض مومنین کے سروں پر آری رکھ کر چلائی جاتی تھی وہ ان کو دو حصوں میں کاٹ کر رکھ دیتی تھی پھر بھی وہ اپنے دین سے رو گردانی نہیں کرتے تھے۔ اے خباب! سنو! یقینا اللہ تعالیٰ دین اسلام کو غلبہ بخشے گا ( اور سارے جزیرہ عرب پر اسلام کا پرچم لہرائے گا ) یہاں تک کہ صنعاء (یمن) سے ایک مسافر روانہ ہو کر حضر موت تک اکیلا جائے گا۔ اور اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہو گا۔ کسی کو یہ بھی خطرہ نہ ہو گا کہ کوئی بھیڑیا اس کی بھیڑوں کو پھاڑ ڈالے گا۔
( رواہ البخاری ) (انساب الاشراف، جلد اول، صفحہ176)
انہیں انگاروں کی طرح گرم سنگریزوں پر پیٹھ کے بل لٹایا جاتا۔ یہاں تک کہ ان کی پیٹھ کا پانی خشک ہو گیا تھا۔ آپ اپنی داستان الم یوں بیان فرماتے ہیں کہ میں نے ایک روز دیکھا کہ کفار نے میرے لئے آگ بھڑکائی ۔ مجھے زمین پر لٹا دیا اس کے انگارے میری پشت پر رکھے ان کی تپش سے میری چربی پگھلی اور اس سے یہ انگارے بجھے۔
(السیرة الحلبیہ، جلد اول، صفحہ386)
حضرت خباب رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے انہیں اپنے کندھے کے ساتھ بٹھایا اور فرمایا کہ تجھ سے زیادہ صرف ایک شخص ہے جو اس جگہ بیٹھنے کا حق دار ہے میں نے پوچھا اے امیر المؤمنین وہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا حضرت بلال رضی اللہ عنہ۔ حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ وہ مجھ سے زیادہ حق دار نہیں ان کے لئے تو چند معاون تھے جو مشرکین کو انہیں عذاب دینے سے روکتے تھے لیکن میرے لئے تو کوئی بھی ایسا شخص نہ تھا۔ مجھے یاد ہے ایک دن انہوں نے میرے لئے آگ جلائی ۔ پھر انہوں نے مجھے اس پر گھسیٹ کر لٹا دیا۔ پھر ایک کافر نے میرے سینہ پر پاؤں رکھ دیا پھر حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے اپنی پیٹھ سے قمیض اٹھائی تو آپ کی پشت پر برص کی طرح داغ تھے۔
(سبل الہدی والرشاد، جلد دوم، صفحہ479)
صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں لوہاروں کا کام کرتا تھا اور تلواریں بنایا کرتا تھا۔ عاص بن وائل نے مجھ سے تلواریں خریدیں اس کی قیمت اس کے ذمہ قرض تھی میں اس سے قرض مانگنے کے لئے آیا تو اس گستاخ نے کہا۔ بخدا ! میں تمہیں اس وقت تک قرض ادا نہیں کروں گا جب تک تم محمد ( ﷺ ) کا انکار نہ کرو۔ آپ نے بڑی جرأت سے جواب دیا۔
“وَاللهِ لَا اَکْفُرُ بِمُحَمَّدٍ حَتّٰى تَمُوۡتَ ثُمَّ تُبۡعَثَ”
ترجمہ:خدا کی قسم ! میں اپنے محبوبﷺ کا انکار ہر گز نہیں کروں گا۔ یہاں تک کہ تو مر جائے اور پھر روز محشر تجھے قبر سے اٹھایا جائے ۔
(السيرة النبویۃ ابن کثیر، جلد اول، صفحہ496)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲