{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ اٹھارہواں}
(صحابہ کرام پر ظلم و ستم کی روح فرسا داستانیں :حصہ چہارم)
(حمامہ رضی اللہ عنہا، عامر بن فہیرہ، ابو فکیھہ، زنیرہ اور اُمّ عُنَیس)
حضرت حمامہ رضی الله عنہا: یہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں یہ بھی مشرف بہ اسلام ہو گئی تھیں ان کو بھی اس جرم میں ان کا کافر مالک طرح طرح کی سزائیں دیتا تھا اور اذیتیں پہنچایا کرتا انہیں بھی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خرید کر ان کے بد باطن سنگدل مشرک آقا کے چنگل سے رہائی دلائی۔
حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ: یہ بنی تیم قبیلہ کے ایک شخص کے غلام تھے یہ شخص حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ہم قبیلہ تھا۔ ان کے مسلمان ہو جانے کی وجہ سے وہ انہیں بہت دکھ پہنچایا کرتا وہ ان پر اتنا تشدد کرتا کہ ان پر غشی طاری ہو جاتی۔ اور انہیں پتہ ہی نہ چلتا کہ اس بے ہوشی کے عالم میں ان کی زبان سے کیا نکل رہا ہے۔ یہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے وہ قابل اعتماد غلام ہیں کہ جب حضور ﷺ نے ہجرت کے سفر میں غار ثور میں قیام فرمایا تو یہ ریوڑ لے کر شام کو غار کے قریب پہنچ جاتے اور دودھ دوہ کر پیش کیا کرتے تھے۔
حضرت ابو فکیھہ رضی اللہ عنہ: یہ امیہ کے بیٹے صفوان کے غلام تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایمان لائے تھے ایک روز حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ادھر سے گزر ہوا کیا دیکھتے ہیں کہ صفوان کے باپ امیہ نے انہیں پکڑا ہوا ہے اور رسیوں سے باندھ کر عین دوپہر کے وقت کوئلوں کی طرح دہکتی ہوئی ریت پر ان کو پیٹھ کے بل لٹایا ہوا ہے اور ان کے پیٹ پر ایک وزنی پتھر رکھا ہوا ہے اوپر سے دھوپ کی تپش نیچے سے گرم ریت کی جلن اور پیٹ پر بھاری پتھر کا وزن زبان منہ سے باہر لٹک آئی ہے اور امیہ کا بھائی کہہ رہا ہے کہ اسے اور عذاب دو۔ اسے اور اذیت پہنچاؤ ۔ یہاں تک اس کی چیخ و پکار سن کر خود محمد ( ﷺ ) آئے اور اپنے جادو کے زور سے اسے ہم سے چھڑائے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اپنے دینی بھائی کی یہ اذیت دیکھی نہ جا سکی۔ اس کے مالک کو اس کی قیمت ادا کی اس طرح انہیں ظلم و تعدی کے شکنجہ سے نجات دلائی۔ ایک دفعہ امیہ نے آپ کے پاؤں میں رسی باندھی اور نوکروں کو حکم دیا انہیں زمین پر گھسیٹیں۔ پھر آپ کو گرم سنگریزوں پر ڈال دیا پاس سے جعل (گوبر کا کیڑا) گزرا ۔ امیہ نے پوچھا کیا یہ تمہارا رب نہیں ہے آپ نے جواب دیا۔
“اَللهُ رَبِّيۡ خَلَقَنِيۡ وَخَلَقَكَ وَخَلَقَ هٰذَا الْجُعَلَ”
ترجمہ:میرا رب تو اللہ تعالیٰ ہے جس نے مجھے بھی پیدا کیا۔ تجھے بھی پیدا کیا اور اس گوبر کے کیڑے کو بھی پیدا کیا۔
امیہ اس جواب سے آگ بگولہ ہو گیا اور آپ کا گلا گھونٹنے لگا۔
(انساب الأشراف، جلد اول، صفحہ195)
حضرت زنیره رضی اللہ عنہا: یہ بھی ایک مشرک کی کنیز تھیں۔ جب مسلمان ہو گئیں تو ان کے بے رحم مالک نے ان پر ظلم و تشدد کی انتہاء کر دی ۔ یہاں تک کہ ان کی بینائی ختم ہو گئی۔ ایک روز ابو جہل نے اس پاک باز خاتون کو طعنہ دیتے ہوئے کہا لات و عزیٰ نے تیری آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے انہوں نے جھٹ جواب دیا۔
“كَلَّا لَا تَمْلِكُ اللَّاتُ وَالْعُزّٰى نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا هٰذَا اَمْرُٗ مِنَ السَّمَآءِ وَرَبِّيۡ قَادِرٌ عَلٰى اَنْ يَّرُدَّ بَصَرِيۡ”
ترجمہ:ہر گز نہیں بخدا لات و عزیٰ نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ضرر، یہ تو آسمانی حکم ہے اور میرا رب اس چیز پر قادر ہے کہ میری بینائی لوٹا دے ۔
جب صبح ہوئی تو ان کی بینائی لوٹ آئی اب ہر چیز ان کو نظر آنے لگی تھی قریش کی آنکھوں پر بد بختی کے پردے پھر بھی پڑے رہے کہنے لگے یہ محمدﷺ کے جادو کا اثر ہے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان کو خرید کر آزاد کر دیا ان کی ایک لڑکی تھی اسے بھی آپ رضی اللہ عنہ نے خریدا اور آزاد کر دیا۔ ابو جہل ان کی غربت ان کی بے کسی کو دیکھ کر لوگوں کو کہا کرتا تھا۔ کہ تم ان غلاموں اور لونڈیوں کو دیکھ کر حیران نہیں ہوتے ہو کہ وہ کس طرح محمد ( ﷺ ) کی پیروی کرتے ہیں اتنا نہیں سوچتے کہ محمد ( ﷺ ) جو کچھ لے آئے ہیں اگر اس میں کوئی خیر اور بھلائی ہوتی تو کیا اس کو قبول کرنے میں یہ اجڈ اور جاہل ہم سے سبقت لے جاتے۔ کیا ہم آگے بڑھ کر اس دین کو سب سے پہلے قبول نہ کر لیتے گویا اس جہالت کے باپ کے نزدیک ان غریبوں اور مسکینوں کا اس نبی مکرمﷺ پر ایمان لے آنا اور ان سرکشوں اور متکبروں کا ایمان نہ لانا اسلام کے باطل ہونے کی سب سے بڑی دلیل تھی حالانکہ ہدایت اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے جس کو چاہتا ہے عطاء فرماتا ہے جس کو چاہتا ہے محروم کر دیتا ہے۔
حضرت ام عنيس رضی اللہ عنہا: بعض روایات میں ان کا نام ام عبیس لکھا ہے۔ یہ بنو زہرہ خاندان کی کنیز تھی اسود بن عبد یغوث انہیں طرح طرح کا عذاب دیا کرتا تھا ان کو بھی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خریدا اور آزاد کر دیا۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲