{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ سترہواں}
(صحابہ کرام پر ظلم و ستم کی روح فرسا داستانیں :حصہ سوم)
(حضرت بلال رضی اللہ عنہ : حصہ دوم آخری حصہ)
علامہ حلبی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی وفات کا جب وقت آیا آپ کی اہلیہ محترمہ آپ کے سرہانے بیٹھی تھیں شدت غم سے ان کی زبان سے نکلا۔ وَا حُزۡنَاہُ. ترجمہ: ہائے میرا رنج و غم ۔
اس نزع کی حالت میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ یہ سن کر خاموش نہ رہ سکے ۔ فرمایا یہ مت کہو بلکہ کہو۔
“وَاَطْرَبَاهُ !غَدًا اُلْقِي الْاَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَہٗ وَكَانَ بِلَالُ يَمۡزُجُ مِرَارَةَ الْمَوْتِ بِحَلَاوَةِ اللِّقَآءِ”
ترجمہ:کیا خوشی کی گھڑی ہے کل ہماری اپنے پیاروں سے ملاقات ہو گی ۔ یعنی محمد مصطفیٰﷺ سے اور آپﷺ کے صحابہ سے ۔
گویا یہاں بھی حضرت بلال رضی اللہ عنہ موت کی کڑواہٹ کو ملاقات محبوبﷺ کی مٹھاس سے ملا رہے ہیں۔ آخر اللہ تعالیٰ کے محبوبﷺ کی خوشخبری کے پورے ہونے کا وقت آ ہی گیا۔ ایک روز آگ کی طرح سلگتی ہوئی ریت پر آپ کو امیہ نے لٹایا ہوا تھا۔ آپ کے سینہ پر بھاری چٹان رکھی تھی کہ وہاں سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا۔ اپنے دینی بھائی کو اس حالت میں دیکھ کر دل بھر آیا اور امیہ کو فرمایا۔
“لَا تَتَّقِى اللهَ تَعَالٰى فِيۡ هٰذَا الْمِسْكِيۡنِ حَتّٰى مَتٰى تُعَذِّبَهٗ”
ترجمہ: اس مسکین کے بارے میں تم اللہ سے نہیں ڈرتے کب تک اس بے کس پر یوں ظلم کرتے رہو گے ۔
امیہ بولا ۔ اے ابو بکر ! تم نے ہی اسے خراب کیا ہے اگر تمہیں اس پر زیادہ ترس آتا ہے تو اس کو چھڑا لو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے پاس ایک حبشی غلام ہے جو اس سے مضبوط اور توانا ہے، تیرا ہم مذہب ہے ایسا کرو۔ وہ تم لے لو۔ اور یہ نحیف و نزار غلام مجھے دے دو۔ امیہ نے کہا مجھے یہ سودا منظور ہے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنا جوان اور تنومند غلام امیہ کو دے دیا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو خود لے لیا۔ پھر انہیں اپنے محبوب کریمﷺ کی بارگاہ جمال میں پیش کیا اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! آپﷺ کے روئے زیبا کے صدقے میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو آزاد کر دیا۔
( السيرة الحلبیہ، امام محمد ابو زہرہ ، جلد اول، صفحہ 474)
مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ اس واقعہ کو اپنے خاص انداز میں یوں نظم کرتے ہیں۔
سید کونین و سلطان جہاں
در عتاب آمد زمانے بعد ازاں
سید کونین اور سلطان جہاں ﷺایک دن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر ناراض ہوئے۔
گفت اے صدیق آخر گفتمت
کہ مرا انباز کن در مکرمت
حضورﷺ نے فرمایا۔ اے صدیق ! کیا میں نے تجھے کہا نہیں تھا کہ مجھے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو آزاد کرنے کے شرف میں شریک کرنا۔
تو چرا تنہا خریدی بہر خویش
باز گو احوال اے پاکیزہ کیش
تو نے کیوں اس کو اپنے لئے تنہا خریدا ہے۔ اے پاکیزہ فطرت آدمی مجھے اپنے حال سے مطلع کر ۔
گفت ما دو بندگان کوئے تو
کردمش آزاد من بر روئے تو
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہﷺ ! ہم دونوں آپ کی گلی کے غلام ہیں میں نے آپ ﷺکے روئے تاباں کے صدقے ان کو آزاد کر دیا ہے۔
تو مرا میدار بنده و یار غار
ہیچ آزادی نخواہم زینہار
لیکن یا رسول اللہﷺ ! خدارا مجھے اپنا غلام اور یار غار بنائے رکھنے میں اس غلامی سے ہرگز آزادی نہ چاہوں گا۔
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بدلے اپنا غلام قسطاس امیہ کو دیا تھا قسطاس کی قیمت کئی ہزار دینار تھی۔ وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایک کاروباری ادارہ کا انچارج تھا اتنا قیمتی غلام دے کر خستہ جان حضرت بلال رضی اللہ عنہ لے لیا۔ کیونکہ ایمان اور عشق مصطفیٰﷺ نے اس کو انمول بنا دیا تھا جب مشرکین کو پتہ چلا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اتنی گراں قیمت ادا کر کے امیہ سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ خریدا ہے اور پھر انہیں آزاد کر دیا ہے تو یہ بات ان کی سمجھ میں نہ آئی اور حیرت کا اظہار کرنے لگے۔ ان میں سے ایک سیانے نے کہا کہ حیرت کی کوئی بات نہیں۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر کوئی احسان کیا ہو گا اس احسان کا بدلہ چکانے کے لئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں گراں قیمت پر خرید کر آزاد کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر اس غلط فہمی کی تردید کر دی فرمایا۔
وَ مَا لِاَحَدٍ عِنۡدَہٗ مِنۡ نِّعۡمَۃٍ تُجۡزٰۤی ﴿19﴾ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ رَبِّہِ الۡاَعۡلٰی ﴿20﴾
ترجمہ:اور کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو۔ مگر (وہ) صرف اپنے ربِ عظیم کی رضا جوئی کے لئے (مال خرچ کر رہا ہے)۔
( سورۃ الیل،آیۃ : 19 – 20)
قربان جائیں مصطفی کریمﷺ کے ان جان نثار غلاموں پر کہ اگر ان کے خلوص پر کوئی شک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے کلام ازلی سے ان کی نیت کے خلوص کی گواہی دے دیتا ہے۔ اور اس علیم بذات الصدور کی شہادت کے بعد کسی اور گواہ کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے صرف مؤذن بارگاہ رسالتﷺ کو ہی اس کے ظالم اور کافر آقا سے اس کی منہ مانگی قیمت ادا کر کے اور اسے لِوَجْہِ اللہِ تعالیٰ آزاد کر کے سرمدی سعادت حاصل نہیں کی بلکہ ان کے علاوہ بہت سے اسیران جور و جفا ۔ جو اسلام قبول کرنے کے جرم میں اپنے مشرک آقاؤں کے ظلم کی چکی میں پس رہے تھے ان کو بھی قیمت خرید کر ان کے پنجہ استبداد سے رہائی دلائی اور آزادی کی نعمت سے مالا مال کیا تا کہ وہ جیسے چاہیں۔ اپنے خداوند قدوس کی حمد و تسبیح اور عبادت میں مشغول رہیں اور جس وقت چاہیں۔ جتنا چاہیں اس کے محبوب کریمﷺ کی بارگاہ حسن و جمال میں حاضر ہو کر شربت دیدار سے اپنے دل کی پیاس بجھاتے رہیں۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲