{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ پندرہواں}
(صحابہ کرام پر ظلم و ستم کی روح فرسا داستانیں :حصہ اول)
حضور نبی رؤوف و رحیمﷺ کی اپنی ذات، اپنی صفات حمیدہ کے باعث خود بھی بڑی محترم اور معظم تھی خواہ مخواہ دل حضورﷺ سے پیار کرنے پر اور حضورﷺ کی تعظیم بجا لانے پر مجبور ہوتے تھے۔ پھر حضورﷺ کو اپنے محترم چچا حضرت ابو طالب اور سارے خاندان بنو ہاشم اور بنو مطلب کی اس معاملہ میں تائید حاصل تھی کسی کو جرأت نہیں ہوتی تھی کہ حضورﷺ پر حملہ آور ہو سکے ورنہ جوانان بنی ہاشم اور مطلب کی شمشیریں حضورﷺ کے دفاع میں بے نیام ہو جاتیں لیکن آپ نے مطالعہ فرمایا کہ اس شخصی عظمت اور خاندانی سطوت کے باوجود مشرکین مکہ حضور ﷺ کو کس کس طرح ستایا کرتے تھے۔ طعن و تشنیع کے سارے تیر جو ان کی ترکش میں تھے ان کو وہ بے رحمی سے استعمال کرتے تھے جھوٹے الزامات اور بہتانوں کی بارش کرتے تھے۔ راستہ میں کانٹے بچھایا کرتے تھے۔ اپنے گھروں کا کوڑا کرکٹ حضور ﷺکے صحن میں پھینک دیا کرتے تھے۔ غلاظتیں اٹھا کر در اقدس پر ڈھیر کر دیا کرتے تھے، نماز بھی سکون اور اطمینان سے پڑھنے کی فرصت نہیں دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اگر اپنی خصوصی مہربانی سے اپنے حبیبﷺ کی حفاظت کا اہتمام نہ فرماتا تو ابو جہل اور ابو لہب کے ارادے تو بڑے ہی خطرناک تھے جب حضورﷺ سے ان کا یہ معاملہ تھا تو جو لوگ حضور ﷺ پر ایمان لائے تھے ان کے ساتھ ان کے جور و ستم کا کیا عالم ہو گا۔
اگر ان کا بس چلتا تو وہ ان صحابہ کو بھی اپنے ظلم کا ہدف بنانے سے باز نہ آتے جو اپنے خاندان اور معاشرہ میں بڑے با عزت مقام کے مالک تھے آپ پڑھ آئے ہیں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جب حرم شریف میں بلند آواز سے قرآن کریم کی تلاوت شروع کی تو کافروں نے آپ کو اس قدر مارا کہ آپ بے ہوش ہو کر گر پڑے اور اسی غشی کی حالت میں آپ کو گھر اٹھا کر لایا گیا اور کئی پہر گزرنے کے بعد آپ کو ہوش آیا۔ یہ اس حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی دست درازی تھی جو مکہ کا ایک با اثر با رسوخ اور متمول تاجر تھا اور اپنے قبیلہ بنی تیم کا سردار تھا۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی قبیلہ بنو امیہ کے معزز رکن تھے جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی کوشش سے وہ مشرف بہ اسلام ہوئے تو ان کا چچا ان کو کچے چمڑے میں لپیٹ کر اور اسے رسی میں باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا کرتا تھا۔ کچے چمڑے کی بدبو اس پر عرب کی دھوپ، آپ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تکلیف کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
اسی طرح حضرت سعد رضی اللہ عنہ جب مشرف بہ اسلام ہوئے۔ تو ان کو ایسے ابتلا کا سامنا کرنا پڑا جس کی شدت سے پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتے۔ آپ کے خاندان والوں کو ان کے مسلمان ہونے کا جب علم ہوا تو انہوں نے ان کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لئے سارے حیلے کئے لیکن بے سود ان کی والدہ بھی اپنے کفر میں بڑی پختہ تھی اسے جب پتہ چلا کہ اس کے لخت جگر نے اس کے معبودوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا ہے اور قبیلہ کے لوگوں نے ان کو اس بغاوت سے دستبردار ہونے کے لئے بڑے جتن کئے ہیں لیکن وہ بری طرح نا کام ہوئے ہیں تو ماں کو بڑا صدمہ ہوا آخری حربہ کے طور پر اس نے اپنے بیٹے کو بلا کر کہا کہ بیٹا! بہتر ہے کہ اس نئے مذہب کو چھوڑ دو۔ اگر تم میری یہ بات نہیں مانو گے تو میں بھوک ہڑتال کر دوں گی۔ نہ کچھ کھاؤں گی اور نہ پیوں گی۔ دھوپ میں پڑی رہوں گی۔ یہاں تک کہ مجھے موت آ جائے ۔ اگر اس طرح میں مر گئی تو سارے عرب میں تم بدنام و رسوا ہو جاؤ گے۔ کہ یہ وہ بیٹا ہے کہ جس کی ضد نے اپنی ماں کی جان لے لی ۔ چند روز حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس بات کو کوئی اہمیت نہ دی یہی خیال کیا ہو گا کہ جب بوڑھی اماں کو بھوک اور پیاس تنگ کرے گی تو وہ خود ہی کھانا پینا شروع کر دے گی لیکن وہ بھی ہٹ کی پکی تھی۔ کئی دن گزر گئے نہ اس نے کھایا، نہ پیا ۔ نقاہت اس حد تک پہنچ گئی کہ اس کی موت یقینی نظر آنے لگی اس نے لوگوں کو کہا کہ سعد کو میرے پاس لے آؤ اس کو یہ خیال تھا کہ مجھے اس نزع کی حالت میں دیکھ کر یقینًا سعد کا دل پسیج جائے گا اور وہ اپنے اس نئے دین کو ترک کر دے گا جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور انہوں نے اپنے ماں کی یہ حالت دیکھی تو ایک سچے مومن کی طرح ماں کو بلند آواز سے مخاطب کر کے فرمایا۔
“تَعْلَمِيۡنَ وَاللَّهِ يَا اُمَّاهُ لَوْ كَانَتْ لَكِ مِائَةُ نَفْسٍ فَخَرَجَتْ نَفْسًا نَفْسًا مَا تَرَكْتُ دِيۡنِيۡ هٰذَا لِشَيْءٍ فَكُلِيۡ اِنْ شِئْتِ اَوْ لَا تَاْكُلِىۡ”
ترجمہ: اے میری ماں ، تم جانتی ہو کہ اگر تیری سو جانیں ہوں ۔ اور ہر جان ایک ایک کر کے تیرے بدن سے نکلے تب بھی میں بخدا اپنا دین نہیں چھوڑوں گا۔ اب تیری مرضی تو کچھ کھا یا نہ کھا۔
ماں نے اپنے بیٹے کا جب یہ عزم مصمم دیکھا تو اس نے بھوک ہڑتال ختم کر دی اور کھانا پینا شروع کر دیا اللہ تعالیٰ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے اس مؤقف کی تائید اور توصیف کرتے ہوئے فرمایا۔
“وَ اِنۡ جَاہَدٰکَ عَلٰۤی اَنۡ تُشۡرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ۙ فَلَا تُطِعۡہُمَا”
ترجمہ:اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کی کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس (کی حقیقت) کا تجھے کچھ علم نہیں ہے تو ان کی اطاعت نہ کرنا۔
(سورة لقمان ،آیۃ:15)
جب ان با اثر اور متمول لوگوں کے ساتھ کفار کا یہ رویہ تھا کہ جتنا ان کا قابو چلتا وہ ان پر جور و تشدّد کرنے میں ذرا تساہل نہ کرتے۔ تو اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو غریب اور بے آسرا تھے جن کا کوئی حامی و ناصر، پرسان حال نہ تھا، یا جو بے یار و مدد گار غلام تھے۔ کون سا ایسا ظلم ہو گا جو ان مسکینوں پر اس جرم میں نہ توڑا گیا ہو گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک کیوں ماننے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر چند حضرات کے حالات پیش خدمت ہیں۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲