Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 201دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: اکتیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ تیرہواں}
(پیکر حسن و جمالﷺ پر کفار کا ہولناک ظلم و تشدد :حصہ چہارم)


حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اس سلسلہ میں ایک دوسری روایت بھی منقول ہے۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ قریش کی حضورﷺ کو اذیت رسانی کا کوئی واقعہ سنائیے تو انہوں نے بتایا ایک روز قریش کے رؤساء حجر میں اکٹھے تھے رسول کریم ﷺ کا ذکر چل نکلا کہنے لگے کہ ہم نے اس شخص کے طرز عمل پر جتنا صبر کیا ہے کبھی ایسا صبر ہم نے نہیں کیا اس نے ہمیں احمق کہا، ہمارے آباء و اجداد کو برا بھلا کہا، ہمارے دین کے عیب نکالے ، ہمارے خداؤں کو گالیاں دیں اور ہمارے قومی اتحاد و اتفاق کو پارہ پارہ کر دیا اس نے ہمیں بہت بڑی مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے وہ اس قسم کی گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک حضور پر نور ﷺ دور سے آتے ہوئے دکھائی دیئے۔ حضورﷺ آہستہ آہستہ کعبہ شریف تک پہنچے حجر اسود کو بوسہ دیا۔ پھر طواف کرنے لگے جب قریش کے مجمع کے پاس سے گزرے۔ تو انہوں نے پھبتیاں کسیں اور نا زیبا جملے کہے جن کو سن کر حضورﷺ کے رخ انور پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے۔ جب دوسری مرتبہ طواف کرتے ہوئے حضورﷺ ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پھر وہی حرکت کی۔ میں نے دیکھ لیا۔ ناراضگی کے اثرات پھر چہرہ اقدس پر نمایاں تھے لیکن حضورﷺ خاموشی سے طواف میں مصروف رہے۔ تیسری مرتبہ طواف کرتے ہوئے جب حضورﷺ کا گزر ان کے پاس سے ہوا تو انہوں نے پھر وہی نا زیبا حرکت کی۔ تو حضورﷺ رک گئے بڑے غصہ سے فرمایا۔
“اَ تَسْمَعُوۡنَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اَمَا وَالَّذِيۡ نَفْسِيۡ بِيَدِهٖ لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبۡحِ”
ترجمہ: اے گروہ قریش ! میری بات سن رہے ہو ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تمہارے پاس تمہارے قتل و ہلاکت کا پیغام لے کر آیا ہوں۔

یہ سن کر قریش کے اوسان خطا ہو گئے سب یوں سہم گئے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں حتی کہ ان میں سے جو بڑے تیز و طرار تھے وہ بھی بڑی نرمی سے محبت بھری باتیں کرنے لگے۔
“اِنْصَرِفْ اَبَا الْقَاسِمِ رَاشِدًا فَمَا كُنْتَ بِجَهُوۡلٍ فَانْصَرَفَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ”
ترجمہ: اے ابو القاسمﷺ ! تشریف لے جائیے۔ آپ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں۔ آپ ناواقف نہیں۔ ایسا تلخ جواب آپﷺ کی عادت نہ تھی۔
(السيرة النبویہ ابن کثیر، جلد اول، صفحہ 471)

چنانچہ حضورﷺ وہاں سے چلے گئے دوسرے روز کفار پھر حجر میں اکٹھے تھے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بھی ان میں موجود تھا۔ ایک دوسرے کو کل کے واقعہ پر ملامت کرتے ہوئے کہنے لگے ۔ کل تم اس موضوع پر گفتگو کر رہے تھے کہ اس نے تمہارے ساتھ کیا کیا اور تم نے اس کے ساتھ کیا کیا۔ پھر جب وہ آیا اور اس نے تمہارے منہ پر تمہیں جھڑکا تو تم جواب تک نہ دے سکے اور خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے۔ تمہارے لئے یہ بزدلی باعث ننگ و عار ہے وہ اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ حضور پر نور ﷺ پھر نمودار ہوئے۔ حضورﷺ کو دیکھتے ہی سب نے مل کر حضورﷺ پر ہلہ بول دیا اور گھیرے میں لے لیا اور بڑ بڑانے لگے ۔ تم وہ ہو جو ایسا کہتے ہو۔ تم ہمارے بتوں کے بارے میں ایسا کہتے ہو ۔ ہمارے دین کا مذاق اڑاتے ہو ۔ سرور عالم ﷺ بڑی جرأت اور حوصلہ سے ان کو جواب دیتے رہے ۔
“نَعَمۡ اَنَا الَّذِيۡ اَقُوۡلُ ذٰلِكَ” ترجمہ: ہاں بیشک میں ایسا کہتا ہوں ۔
اسی اثناء میں ایک شخص نے حضور ﷺکی چادر کے پلو پکڑ لئے۔ ان کے اس جمگھٹے میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی پہنچ گئے۔ کفار کی اس زیادتی کو دیکھ کر ان کی آنکھوں سے اشک رواں ہو گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ انہیں بلند آواز سے ڈانٹ رہے تھے۔
“وَيْلَكُمْ اَتَقْتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوۡلَ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ انْصَرَفُوْا عَنْهُ”
ترجمہ: خدا تمہیں ہلاک کرے۔ کیا تم ایک ایسی ہستی کو قتل کرنا چاہتے ہو۔ جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے آپ رضی اللہ عنہ کے ڈانٹنے سے وہ کافر منتشر ہو گئے۔
(السيرة النبویہ، ابن کثیر، جلد اول، صفحہ471 )

ان سنگدلانہ ایذاء رسانیوں کا سلسلہ سالہا سال جاری رہا۔ حضور ﷺاپنے رب کریم کے نام کو بلند کرنے کے لئے اور اس کی وحدانیت کے عقیدہ کو عام کرنے کے لئے ان تمام سختیوں کو ہنستے مسکراتے برداشت فرماتے رہے ارشاد گرامی ہے۔
لَقَدْ اُوۡذِيْتُ فِي اللهِ وَمَا يُؤْذَىۡ اَحَدٌ وَّ اُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَ مَا يَخَافُ اَحَدٌ وَّلَقَدْ اَتَتْ عَلَىَّ ثَلَاثُوۡنَ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَ مَا لِيۡ وَلِبِلَالٍ مَا يَاْكُلُهٗ ذُوۡ كَبِدٍ اِلَّا مَا يُوَارِيۡ اِبْطُ بِلَالٍ. (اَخْرَجَهُ التِّرْمَذِيُّ قَالَ حَسَنٌ صَحِيۡحٌ )
ترجمہ: مجھے اللہ کی راہ میں اتنی اذیت دی گئی کہ اور کسی کو نہیں دی گئی اور اللہ کی راہ میں مجھے اتنا خوفزدہ کیا گیا جتنا اور کسی کو نہیں کیا گیا۔ مجھ پر تیس دن اور راتیں ایسی بھی گزریں کہ میرے لئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے لئے کھانے کے لئے کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی جسے کوئی جاندار کھا سکتا ہے مگر قلیل مقدار ۔
(السيرة النبویۃ، ابن کثیر، جلد اول، صفحہ471 -472)

اگرچہ سارے مشرکین مکہ حضورﷺ کو اذیت پہنچانے اور حضورﷺ پر زبان طعن دراز کرنے میں مقدور بھر کوشاں رہتے تھے لیکن پانچ سردار سرکار دو عالمﷺ پر ظلم و تشدد کرنے اور طرح طرح کے الزامات عائد کرنے اور پھبتیاں کَسنے میں دیگر سب کفار سے بازی لے گئے تھے جب ان کی دل آزاریاں انتہاء کو پہنچ گئیں اور حبیب کبریاء ﷺکے دل نازک کو ہر وقت دکھ پہنچانا اس کا شعار ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔
اِنَّا کَفَیۡنٰکَ الۡمُسۡتَہۡزِءِیۡنَ ﴿95﴾ الَّذِیۡنَ یَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ ۚ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿96﴾
ترجمہ: بیشک مذاق کرنے والوں (کو انجام تک پہنچانے) کے لئے ہم آپ کو کافی ہیں۔ جو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود بناتے ہیں سو وہ عنقریب (اپنا انجام) جان لیں گے۔
(سورة الحجر،آیۃ:95 -96 )

ان پانچوں کے نام یہ ہیں۔
ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، حرث بن قیس، اسود بن عبد يغوث اور اسود بن مطلب۔
ان واقعات سے آپ نے اندازہ لگا لیا کہ کفار کے دل میں حضورﷺ کے بارے میں نفرت، حقارت، عداوت اور عناد کے کتنے جذبات شعلوں کی طرح بھڑک رہے تھے۔ اس کے باوجود حضورﷺ کی محبوب شخصیت کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ اگر بڑے سے بڑا دشمن بھی حضورﷺ کے رو برو ہوتا تو تعمیل حکم کو اپنے لئے باعث شرف سمجھتا۔
اس سلسلہ میں ایک واقعہ پیش خدمت ہے۔ اراش کا ایک آدمی اپنے اونٹ فروخت کرنے کے لئے مکہ آیا ابو جہل کو اونٹ پسند آ گئے اور اس سے خرید لئے۔ لیکن قیمت ادا کرنے میں ٹال مٹول کرنے لگا۔ صبح کو دے دوں گا شام کو آ کر رقم لے جانا اس صبح شام کے چکر میں کئی دن گزر گئے وہ بیچارا مایوس ہو گیا تنگ آ کر وہ وہاں پہنچا جہاں قریش اپنی مجلسیں جمائے بیٹھے تھے سرکار دو عالم ﷺبھی حرم شریف میں پاس ہی مصروف عبادت تھے اس مظلوم اور پردیسی شخص نے قریش سے اپنا ماجرا بیان کیا اور فریاد کی کہ کون ہے جو مجھ غریب الوطن اور بے یار و مدد گار کی امداد کرے اور ابو جہل سے میری رقم لے کر دے۔ قریش نے از راہ تمسخر حضورﷺ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے کہا کہ اگر یہ صاحب ابو جہل کو کہے تو تیرا کام بن جائے گا۔ وہ شخص جو یہاں کے حالات سے بے خبر تھا۔ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی پریشانی کا ذکر کیا اور مدد کی درخواست کی۔ رحمت عالمﷺ جو کسی ضرورت مند کو مایوس نہیں لوٹایا کرتے تھے آپﷺ نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ اس کو ابو جہل سے اپنے تعلقات کی نوعیت سے آگاہ کر کے معذرت کر دیں، اس طرح تو وہ نا امید ہو جائے گا اس کا دل ٹوٹ جائے گا اور یہ کریمﷺ ٹوٹے ہوئے دلوں کو بس جوڑنا ہی جانتا تھا ۔ حضورﷺ بلا تامل کھڑے ہو گئے اراشی کو ہمراہ لیا۔ اور ابو جہل کے گھر کی طرف چل دیئے ۔ کفار نے ایک آدمی کو ساتھ بھیج دیا کہ جائے اور واپس آ کر بتائے کہ کیا بات ہوئی اور کس طرح ابو جہل نے ڈھٹائی اور بے ادبی سے نہ کر دی۔ حضورﷺ ابو جہل کے گھر پہنچے دروازہ بند تھا۔ دستک دی۔ اس نے اندر سے پوچھا۔ کون؟ حضورﷺ نے فرمایا محمد(ﷺ) باہر آؤ وہ فوراً باہر آ گیا شدت خوف سے اس کا چہرہ زرد ہو گیا تھا حضورﷺ نے اسے فرمایا۔ اس کی رقم ابھی ادا کرو، اس نے دست بستہ عرض کی ابھی رقم حاضر کرتا ہوں گھر گیا اور چند لمحوں میں رقم لے کر آیا اور اراشی کے حوالے کر دی حضورﷺ واپس تشریف لائے اور اپنے اراشی مہمان کو رخصت کیا۔ وہ شخص خوش و خرم قریش کی محفل میں آیا حضورﷺ کو دعائیں دینے لگا اور شکر ادا کیا کہ حضورﷺ نے خود قدم رنجہ فرما کر مجھے میری ساری رقم لے کر دی ہے۔ اتنے میں وہ آدمی بھی پہنچ گیا جسے قریش نے بھیجا تھا۔ سب نے بڑی بے صبری سے پوچھا بتاؤ کیا دیکھا؟ کہنے لگا عجیب و غریب بات دیکھی۔ جونہی آپﷺ نے ابو جہل کے دروازے پر دستک دی اور بتایا کہ میں محمدﷺ ہوں باہر آؤ۔ اس وقت وہ باہر آیا۔ اس کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ گویا اس کے جسم میں جان ہی نہیں آپﷺ نے فرمایا اس کا حق ابھی ادا کرو کہنے لگا ابھی تعمیل ارشاد کرتا ہوں۔ گھر گیا اور ساری رقم لا کر اراشی کی جھولی میں ڈال دی۔ تھوڑی دیر گزری ابو جہل بھی منہ لٹکائے آ گیا۔ سب نے اس کو گھیر لیا اور کہنے لگے تیرا برا ہو تو نے یہ کیا کیا کہنے لگا تمہیں کیا خبر کہ مجھ پر کیا بیتی۔ میں گھر میں تھا جب انہوں نے باہر سے آواز دی۔ میں خوف و دہشت سے لرز گیا۔ جب باہر آیا تو دیکھا کہ ایک بڑی کھوپڑی اور ایک موٹی گردن والا اونٹ مجھ پر لپک رہا ہے۔ اگر میں ذرا لیت و لعل(پس و پیش) کرتا تو وہ مجھے چبا ڈالتا۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top