Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 200دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: تیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ بارہواں}
(پیکر حسن و جمالﷺ پر کفار کا ہولناک ظلم و تشدد :حصہ سوم)


ابو لہب کے بارے میں یہی ہے کہ وہ حضورﷺ کو اپنی زبان سے طعن و تشنیع کر کے غمزدہ کیا کرتا باز نہیں آتا تھا۔ لیکن ابو جہل کی عداوت میں نخست اور کمینگی بھی تھی وہ دست تعدّی دراز کرنے سے بھی باز نہیں آتا تھا۔
حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ آپ فرماتے ہیں میں ایک دن مسجد میں تھا۔ ابو جہل ملعون آ گیا اور کہنے لگا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی نذر مانی ہے کہ اگر میں محمد ( ﷺ ) کو سجدہ کی حالت میں دیکھوں گا تو اپنا قدم آپﷺ کی گردن پر رکھوں گا۔ یہ سن کر میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے مذموم ارادہ سے آگاہ کیا۔ حضورﷺ غضبناک ہو کر اُٹھے اور مسجد حرام میں تشریف لے گئے میں نے کہا کہ آج بڑا شر و فساد کا دن ہے۔ حضور ﷺ نے وہاں جا کر سورہ علق کی تلاوت شروع کی جب اس آیت پر پہنچے۔
کَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَیَطۡغٰۤی ۙ﴿6﴾ اَنۡ رَّاٰہُ اسۡتَغۡنٰی ﴿7﴾
ترجمہ: (مگر) حقیقت یہ ہے کہ (نا فرمان) انسان سر کشی کرتا ہے۔اس بناء پر کہ وہ اپنے آپ کو (دنیا میں ظاہراً) بے نیاز دیکھتا ہے۔
(سورۃ العلق ،آیۃ6 – 7)

کسی نے ابو جہل کو کہا یہ محمدﷺ ہے اس بد باطن کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس کو اس کی نذر یاد دلائے۔ ابو جہل کہنے لگا۔
“اَلَا تَرَوْنَ مَا اَرَى وَاللَّهِ لَقَدْ سُدَّ اُفُقُ السَّمَآءِ عَلَىَّ”
ترجمہ: کہ تم وہ نہیں دیکھ رہے جو میں دیکھ رہا ہوں ۔ بخدا آسمان کا سارا افق مجھ پر مسدود کر دیا گیا ہے ۔
جب سرکارﷺ اس سورت کی انتہاء تک پہنچے تو آپﷺ نے سجدہ کیا۔

امام بخاری علیہ الرحمۃ سے یہ روایت منقول ہے کہ ابو جہل نے ایک دن کہا اگر میں نے محمد (ﷺ) کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے دیکھا تو میں اپنے پاؤں سے ان کی گردن کو پامال کروں گا۔جب اس کی یہ بات رسول اللہﷺ کو پہنچی تو حضورﷺ نے فرمایا اگر اس نے ایسا کرنے کی جرأت کی تو فرشتے اس کو پکڑ کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے سب لوگ اپنی آنکھوں سے اس بات کا مشاہدہ کریں گے۔
(السيرة النبویہ، ابن کثیر، جلد اول، صفحہ466)

ایک روز حضور ﷺ کعبہ شریف کے قریب نماز پڑھ رہے تھے تو یہ مغرور کہنے لگا کیا میں نے یہاں نماز پڑھنے سے تمہیں منع نہیں کیا تھا۔ تمہیں معلوم نہیں کہ جتنے میرے دوست ہیں اتنے اور کسی کے نہیں، نبی کریم ﷺ نے اسے جھڑک دیا اسی وقت حضرت جبرائیل امین علیہ السلام حاضر ہوئے اور یہ پیغام ربانی سنایا۔
فَلۡیَدۡعُ نَادِیَہٗ ﴿17﴾ سَنَدۡعُ الزَّبَانِیَۃَ ﴿18﴾
ترجمہ: پس وہ اپنے ہم نشینوں کو (مدد کے لئے) بلا لے۔ہم بھی عنقریب (اپنے) سپاہیوں (یعنی دوزخ کے عذاب پر مقرر فرشتوں) کو بلا لیں گے۔(سورۃ العلق ،آیۃ18 – 17)

حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے کہا اللہ کی قسم اگر اس نے اپنے دوستوں کو بلایا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیں گے۔ ایک روز پھر اس بد بخت نے حضورﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا تو بکنے لگا کہ کیا تمہارے سامنے محمدﷺ اپنے چہرہ کو خاک آلود کرتا ہے یعنی سجدہ کرتا ہے لوگوں نے کہا ہاں۔ اس ملعون نے کہا لات و عزیٰ کی قسم اگر میں نے اس کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا تو اس کی گردن کو اپنے پاؤں سے روند ڈالوں گا۔ اور اس کے چہرے کو گرد آلود کر دوں گا۔ایک روز حضورﷺ نماز پڑھ رہے تھے تو وہ نزدیک آیا تا کہ اپنے خبیث ارادہ کی تکمیل کرے لیکن قریب آتے ہی اچانک الٹے پاؤں پیچھے بھاگا اور اپنے ہاتھوں سے اپنا بچاؤ کرنے لگا اسے کہا گیا تمہیں کیا ہو گیا۔ کیا کر رہے ہو اس نے کہا میرے درمیان اور ان کے درمیان ایک خندق ہے جس میں آگ بھڑک رہی ہے ایک ہولناک منظر ہے اور فرشتے پر مارتے نظر آ رہے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا اگر وہ بد بخت میرے قریب آتا تو فرشتے اس پر جھپٹ پڑتے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔

پیکر حلم و رحمتﷺ کفار کی اذیت رسانیوں کو صبر اور حوصلہ سے برداشت کرتے تھے۔ وہ نابکار حضورﷺ کے علم کو کمزوری پر محمول کرتے اور اپنی دل آزاریوں میں اضافہ کرتے جاتے اس کے باوجود حضورﷺ نے کبھی ان کے بارے میں بد دعا نہ کی ایک روز کفار کا مجمع حرم میں لگا ہوا تھا۔ دو تین روز پہلے یہاں سے تھوڑے فاصلے پر لوگوں نے اونٹ ذبح کئے تھے ان کی اوجڑیاں وغیرہ وہاں پڑی تھیں ان میں سے ایک بد بخت کہنے لگا تم میں سے کون ایسا بہادر ہے جو ان بدبو دار اوجڑیوں کو اٹھا لائے اور جب یہ سجدہ میں گرے ہوں تو ان گندی اوجڑیوں کو ان کی گردن اور پشت پر ڈال دے تو مزہ ہی آجائے۔ عقبہ بن ابی معید! بولا یہ کارنامہ انجام دینے کے لئے میں تیار ہوں وہ گیا اور ان گندی اور بدبو دار اوجڑیوں کو اٹھا لایا۔ جب نظافت و لطافت کا یہ پیکر دلرباﷺ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوا تو وہ بد بخت اٹھا اور ان غلیظ اوجڑیوں کو حضورﷺ کی مبارک گردن پر ڈال دیا۔ کفار یہ منظر دیکھ کر خوشی سے دیوانے ہو رہے تھے۔ ہنستے تھے قہقے لگاتے تھے اور ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ ہوئے جاتے تھے اس حالت میں حضورﷺ کو اس سجدہ میں کیا لطف و سرور حاصل ہوا ہو گا۔ ذوق و شوق کے دریا میں موجیں اٹھنے لگی ہوں گی۔ کیف و سرور کی جو کیفیت طاری ہوئی ہو گی اس قلب طیب و طاہر کے بغیر کون اندازہ لگا سکتا ہے۔

یہ خیال کہ حضورﷺ ان کے بوجھ کی وجہ سے سر مبارک اٹھا نہ سکے ہر گز قابل قبول نہیں دس بیس سیر زیادہ سے زیادہ من سوا من ان کا وزن ہو گا۔ یہ کون سا ایسا بوجھ تھا جسے بآسانی حضورﷺ پرے نہ پھینک سکتے حقیقت یہ ہے کہ جو سرور اس سجدہ میں آیا اس کی کیفیت ہی نرالی تھی دل چاہتا تھا کہ اس حالت میں یہ سر اپنے خداوند قدوس کی بارگاہ میں سجدہ ریز رہے زبان اس کی تسبیح کے مزے لوٹتی رہے اور دل ان خصوصی عنایات ربانی سے سیر کام ہوتا رہے آخر حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے ان اوجڑیوں کو ہٹایا۔ حضورﷺ نے سر مبارک سجدہ سے اٹھایا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد دعا کے لئے ہاتھ بلند ہوئے۔ یہ دعا کیا تھی اس کے بارے میں نہ پوچھیے اس کے اثر نے کفر و باطل کی بنیادوں کو لرزا کر رکھ دیا ان کی شوکت و جبروت کے محلوں کو مسمار کر کے رکھ دیا کفار مکہ کی ذلت و بربادی اور شکست کے دور کا آغاز ہو گیا۔ اس دعا کا انجام یہ ہوا کہ صرف مکہ ہی نہیں بلکہ سارا جزیرہ عرب جو بتوں کی پرستش کا مرکز بنا ہوا تھا۔ ان کے نا پاک وجود سے پاک ہو گیا۔ اس ملک کے دشت و جبل، اس کے شہروں کے در و بام، نور توحید سے جگمگا اٹھے ۔ اور جن بد بختوں نے اللہ کے حبیبﷺ کی اذیت کے لئے یہ اہتمام کیا تھا ان کی رسوا کن موت کا فیصلہ کر دیا گیا۔

اس دعا کے الفاظ یہ تھے۔
“اَللّٰهُمَّ عَلَيْكَ بِهٰذَا الْمَلَاِ مِنْ قُرَيْشٍ اَللّٰهُمَّ عَلَيْكَ بِعُتۡبَۃَ بْنِ رَبِيۡعَةَ اَللّٰهُمَّ عَلَيْكَ بِشَيْبَةَ بْنِ رَبِيۡعَةَ اَللّٰهُمَّ عَلَيْكَ بِاَبِيۡ جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ اَللّٰهُمَّ عَلَيْكَ بِعُقْبَةَ بْنِ اَبِيۡ مُعَيْطٍ اَللّٰهُمَّ عَلَيْكَ بِاُبَيَّ بْنِ خَلَفِِ اَوْ اُمَيَّةَ بْنِ خَلَفِِ”
ترجمہ: الہی! ان دشمنان حق کو ہلاک کر دے۔حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کے نام لے کر حضورﷺ نے بد دعا فرمائی وہ تمام بدر کے میدان میں موت کے گھاٹ اتارے گئے پھر ان کو ان کے مقتلوں سے گھسیٹ کر لایا گیا اور ایک گڑھے میں پھینک دیا گیا سوائے اُبی بن خلف یا امیہ بن خلف کے کہ اس کا جسم بھاری تھا اور وہ باہر ہی پھول کر پھٹ گیا اور ریزہ ریزہ ہو گیا۔
(السيرة النبویۃ، ابن کثیر، جلد اول، صفحہ468)

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ مجھے کوئی واقعہ سنائیے جب کہ کفار نے سرکار دو عالمﷺ کو اذیت پہنچائی ہو۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا ایک روز سرکار دو عالمﷺ حرم شریف میں نماز ادا فرما رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اس نے اپنی چادر حضورﷺ کی گردن میں ڈال دی اور اسے بل دینے شروع کئے اور اس زور سے بھینچا کہ دم گھٹنے لگا اچانک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آ گئے آپ یہ منظر دیکھ کر بے چین ہو گئے عقبہ کو اس کے کندھے سے جا پکڑا اور اسے اس زور سے دھکا دیا کہ وہ دور جا گرا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا۔
“اَتَقْتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوۡلَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَآءَ كُمۡ بِالْبَيِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّكُمۡ”
ترجمہ: (بے شرمو) تم ایسی ہستی کو قتل کرتے ہو ؟ جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمہارے سامنے اس پر دلائل بھی پیش کرتا ہے۔ (بخاری)
(السيرة النبویۃ ابن کثیر، جلد اول، صفحہ 470)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top