{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ گیارہواں}
(پیکر حسن و جمالﷺ پر کفار کا ہولناک ظلم و تشدد : حصہ دوم)
علامہ سیوطی علیہ الرحمۃ نے “دُرّ منثور” میں یہ روایت نقل کی ہے ایک روز حضورﷺ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے وہ آئی اور کہنے لگی یا محمد(ﷺ)! آپ ﷺنے کس بناء پر میری ہجو کی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا بخدا میں نے تیری مذمت نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ نے تیری ہجو کی ہے وہ کہنے لگی آپﷺ نے مجھے کبھی ایندھن سر پر اٹھائے دیکھا کہ جو مجھے حَمَّالَةَ الۡحَطَبِ کہا ہے اور کبھی میرے گلے میں کھجور کی چھال کی رسی دیکھی ہے کہ میرے بارے میں کہا: “فِيۡ جِيۡدِ هَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ” اس کے اس قول سے ان مفسرین کے قول کی تائید ہوتی ہے جنہوں نے “حَمَّالَةَ الۡحَطَبِ” کا معنی “چغل خوری کرنے والی” کیا ہے اور اس رسی سے وہ رسی مراد ہے جو آگ سے بنی ہو گی اور ستر گز لمبی ہو گی اور دوزخ میں اس کے گلے میں ڈالی جائے گی۔ اکثر علماء نے اس کا ترجمہ ایندھن اٹھانے والی کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دن بھر جنگل میں کانٹے اور خار دار ٹہنیاں چنتی رہتی تھی اور رات کو حضور ﷺ کے راستہ میں پھینک دیتی تھی بعض روایات میں ہے جب سورة لہب نازل ہوئی تو ام جمیل نے سنی غصے سے بے قابو ہو گئی اور اپنے بھائی حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے گھر گئی اور انہیں جا کر کہا اے میرے بہادر بھائی !کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں ہوا کہ محمد (ﷺ) نے میری ہجو کی ہے، کہنے لگے میں ابھی اس کا بدلہ لیتا ہوں پھر تلوار لے کر بجلی کی سرعت کے ساتھ گھر سے نکل گئے تھوڑی دیر کے بعد تیزی سے بھاگتے ہوئے لوٹ آئے۔ ام جمیل نے پوچھا کہ کیا انہیں قتل کر آئے ہو؟ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے بڑی حسرت سے پوچھا اے میری بہن ! کیا یہ بات تمہیں خوش کرتی ہے کہ تیرے بھائی کا سر کسی اژدھا کے منہ میں ہو۔ اس نے کہا ہر گز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب میں تلوار لے کر ان کے قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک اژدھا منہ کھولے میری طرف بڑھ رہا ہے اور مجھے نگلنا چاہتا ہے۔ اس کے خوف سے میں پیچھے بھاگ آیا۔
ابتداء میں مشرکین سے مومن عورتوں کے نکاح کی ممانعت کا حکم نازل نہیں ہوا تھا حضورﷺ کی دو صاحب زادیاں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا ابو لہب کے دونوں بیٹوں عتبہ اور عتیبہ کے عقد میں تھیں۔ جب یہ سورت نازل ہوئی تو ابو لہب نے اپنے دونوں بیٹوں کو بلا کر حکم دیا کہ تم فورا ان کی لڑکیوں کو طلاق دے دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو میرا تمہارا کوئی تعلق باقی نہیں رہے گا۔ ابھی ان دو صاحب زادیوں کی رخصتی نہیں ہوئی تھی چنانچہ ظالم باپ کے بے رحم بیٹوں نے حضور ﷺ کے قلب نازک کو دکھ اور رنج پہنچانے کے لئے انہیں طلاق دے دی۔ اذیت پہنچانے کا کوئی ایسا طریقہ نہ تھا جس سے انہوں نے رحمت دو عالمﷺ کو دکھ نہ پہنچایا ہو۔ مندرجہ بالا طریقوں کے علاوہ اپنے بغض باطنی کا اس طرح بھی اظہار کیا کرتے تھے کہ اپنے گھروں کا کوڑا کرکٹ اکٹھا کر کے حضورﷺ کے کاشانہ اقدس میں ڈال دیا کرتے تھے۔ چنانچہ ابو لہب ، عقبہ بن ابی معیط ،حکم بن ابی العاص حضور ﷺکے پڑوسی تھے اور ان کا ہر روز کا یہ معمول تھا۔ حضورﷺ صبر و تحمل کے ساتھ ان کی اس رذیل حرکت کو بھی برداشت فرماتے اور اس کوڑے کو اٹھا کر باہر پھینکتے اور صرف اتنا فرماتے۔
“يَا بَنِيۡ عَبْدِ مَنَافٍ اَيُّ جَوَارٍ هٰذَا”
ترجمہ: اے عبد مناف کے بیٹو! تم ہمسائیگی کا حق خوب ادا کر رہے ہو ۔
(السيرة النبویہ، ابن ہشام، جلد اول، صفحہ210)
عقبہ بن ابی معیط بے حیائی اور خبث باطنی میں سب سے آگے تھا۔ وہ حضورﷺ کا پڑوسی بھی تھا۔ وہ غلاظت اکٹھی کر کے حضورﷺ کے دروازے پر پھینک دیا کرتا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔
“كُنۡتُ بَيْنَ شَرِّ جَارَيْنِ اَبِيۡ لَهَبٍ وَ عُقْبَۃَ بْنِ اَبِيۡ مُعَيْطِِ اِنۡ کَانَا لَيَاۡتِيَانِيۡ بِالْفُرُوۡثِ فَيَطْرِحَانِهَا عَلٰى بَابِيۡ”
ترجمہ:میں دو شریر پڑوسیوں میں گھرا ہوا تھا ایک طرف ابو لہب اور دوسری طرف عقبہ بن ابی معیط تھا۔ وہ دونوں لید اور گوبر اکٹھا کر کے لے آتے اور میرے دروازے پر آ کر پھینک دیا کرتے۔
(السيرة النبویۃ، احمد بن زینی دحلان، جلد اول، صفحہ226)
اپنے خبث باطنی اور بغض کے باعث ان سے رذیل حرکتیں سر زد ہوا کرتیں۔ ایک روز عقبہ بن ابی معیط نے سرکار دو عالم ﷺ کے رخ روشن پر تھوکنے کی گستاخی کی بجائے اس کے کہ تھوک آگے جائے وہ آگ کا انگارہ بن کر اس کے رخسار پر آ گری اور اس کو جلا کر رکھ دیا جس کا برص کی طرح سفید داغ ساری عمر اس کے چہرے پر باقی رہا۔
علامہ برہان الدین حلبی علیہما الرحمۃ نے اپنی سیرت میں ایک واقعہ لکھا ہے۔
کہ سرور عالمﷺ عقبہ بن ابی معیط کے پاس بکثرت تشریف لے جاتے تھے ایک دفعہ عقبہ اپنے سفر سے واپس آیا تو قریش کے تمام رؤساء کی ضیافت کا اہتمام کیا اور حضورﷺ کو بھی دعوت دی۔ حضور ﷺ نے اس کا کھانا کھانے سے انکار کر دیا۔ فرمایا جب تک تم “لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ” کی شہادت نہ دو۔ میں تمہارا کھانا نہیں کھاؤں گا عقبہ نے کہا ! “اَشۡہَدُ اَنۡ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ اَشۡهَدُ اَنَّکَ رَسُوۡلُ اللہِ”
چنانچہ حضورﷺ نے اس کی ضیافت میں شرکت کی اور کھانا تناول فرمایا۔ فارغ ہو کر لوگ چلے گئے عقبہ، اُبی بن خلف کا دوست تھا۔ لوگوں نے اسے بتایا کہ عقبہ نے تو کلمہ شہادت پڑھ لیا ہے۔ اُبی اس کے ہاں آیا اور اس سے پوچھا اے عقبہ ! کیا تم مرتد ہو گئے ہو اس نے کہا بخدا نہیں بات یہ ہوئی کہ ایک مرد شریف میرے گھر آیا اور اس نے میرا کھانا کھانے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ میں کلمہ شہادت پڑھوں ۔ مجھے شرم محسوس ہوئی کہ میرے گھر سے کوئی شخص کھانا کھائے بغیر چلا جائے اس لئے زبان سے میں نے کلمہ شہادت پڑھا ہے۔ میرے دل نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ ابی نے کہا ! جب تک تو محمد (ﷺ ) سے ملاقات کر کے اس کی گردن پر اپنے پاؤں نہ رکھے اس کے چہرے پر نہ تھوکے اس کی آنکھوں پر طمانچے نہ لگائے اس وقت تک میرا چہرہ دیکھنا تجھ پر حرام ہے عقبہ نے اس سے ایسا کرنے کا وعدہ کیا پھر جب عقبہ حضورﷺ کے رو برو ہوا تو اس نے رخ انورﷺ پر تھوکنے کی جسارت کی اللہ تعالیٰ نے اس کو آگ کا انگارہ بنا دیا اور اسے واپس اس کے منہ پر دے مارا جہاں وہ لگا وہ جگہ جل گئی اور برص کی طرح وہاں سفید داغ پڑ گیا جو اس کی موت تک باقی رہا اس بد بخت کے بارے میں ہی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
وَ یَوۡمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیۡہِ یَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِی اتَّخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِیۡلًا ﴿27﴾ یٰوَیۡلَتٰی لَیۡتَنِیۡ لَمۡ اَتَّخِذۡ فُلَانًا خَلِیۡلًا ﴿28﴾ لَقَدۡ اَضَلَّنِیۡ عَنِ الذِّکۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِیۡ ؕ وَ کَانَ الشَّیۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا ﴿29﴾
ترجمہ: اور اس دن ہر ظالم (غصہ اور حسرت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹ کاٹ کھائے گا (اور) کہے گا: کاش! میں نے رسولِ (اکرم ﷺ) کی معیّت میں (آکر ہدایت کا) راستہ اختیار کر لیا ہوتا۔ہائے افسوس! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔بیشک اس نے میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد مجھے اس سے بہکا دیا، اور شیطان انسان کو (مصیبت کے وقت) بے یار و مددگار چھوڑ دینے والا ہے۔
(سورۃ الفرقان ،آیۃ:27 تا 29)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲