Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 197دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: ستائیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ نہم}
(کفار مکہ اور اہل کتاب سے استفتاء)


حضورﷺ کو اپنے اس تبلیغی مشن سے باز رکھنے کے لئے کفار مکہ نے بڑے جتن کئے لیکن ان کی کوئی تدبیر کارگر ثابت نہ ہوئی۔ ان کی پے در پے کوششیں ناکام ہو چکی تھیں لیکن ابھی تک اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کی مخالفت اور عداوت کی آگ ان کے سینوں میں بھڑک رہی تھی جب ان کی آخری سازش بھی ناکام ہو گئی تو پھر وہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھے۔ نضر بن حارث نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر ہمارا ایک وفد یثرب جائے اور وہاں اہل کتاب کے علماء احبار سے ملاقات کرے اور ان سے ان کے بارے میں پوچھے کیا یہ سچے نبی ہیں یا نہیں۔ ممکن ہے ان کی راہنمائی سے ہم کسی حتمی نتیجہ پر پہنچ جائیں اور اس مصیبت سے نجات کی کوئی صورت نکل آئے چنانچہ کفار مکہ نے اس مقصد کے لئے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کو نامزد کیا اور انہیں کہا کہ آپ یثرب جائیں۔ وہاں کے یہودی علماء اور احبار سے ملاقات کریں اور ان صاحب کے حالات سے ان کو تفصیل سے آگاہ کریں پھر ان سے پوچھیں کیا یہ سچا نبی ہے یا نہیں۔ چونکہ ان کے پاس آسمانی صحیفہ تورات موجود ہے وہی اس عقدہ کو حل کر سکتے ہیں اور ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں۔ چنانچہ وہ دونوں اس مہم پر روانہ ہوئے، لق و دق صحراؤں، بنجر میدانوں، خشک پہاڑوں کو عبور کرتے ہوئے کئی دنوں کے بعد وہ یثرب پہنچے وہاں کے جید علماء سے رابطہ قائم کیا اور انہیں بتایا کہ ہمیں اہل مکہ نے آپ کی خدمت میں ایک خاص مقصد کے لئے روانہ کیا ہے۔
“قَدْ جِئْنَاكُمْ لِتُخْبِرُوۡنَا عَنْ صَاحِبِنَا هٰذَا”
ترجمہ: ہم اتنا طویل سفر طے کر کے اس لئے آپ کے پاس آئے ہیں کہ آپ اس مدعی نبوت کے بارے میں ہمیں آگاہ کریں کہ وہ سچا ہے یا نہیں۔
انہوں نے حضورﷺ کے سارے حالات تفصیل سے ان کو بتائے۔ ان احبار نے کہا کہ ہم تمہیں تین سوالات بتاتے ہیں تم واپس جا کر ان سے یہ تین سوال پوچھو اگر وہ ان کے جوابات دے دیں تو وہ سچے ہیں ورنہ وہ دھوکا باز اور ملمع ساز شخص ہے۔ تم جس طرح چاہو اس کے ساتھ نمٹ سکتے ہو۔

ان سوالات میں سے پہلا سوال یہ تھا کہ وہ نوجوان کون تھے جنہوں نے گزشتہ زمانہ میں ایک ظالم بادشاہ کے خوف سے اپنا وطن چھوڑا تھا تا کہ وہ انہیں کافر ہونے پر مجبور نہ کر دے۔

دوسرا سوال یہ تھا کہ وہ سیاحت کرنے والا شخص کون تھا جو زمین کے مشارق و مغارب تک پہنچا۔

تیسرا سوال یہ تھا کہ روح کی حقیقت کیا ہے۔
ان سوالات کو اچھی طرح ذہن نشین کر کے وہ دونوں صاحب مکہ واپس روانہ ہوئے جب وہ مکہ پہنچے تو بڑے خوش و خرم تھے اور اپنی قوم کو انہوں نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ہم تمہارے پاس ایک فیصلہ کن چیز لے آئے ہیں اس سے ہم سب کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ سچے نبی ہیں یا نہیں اب مزید پریشان ہونےکی ضرورت نہیں۔ پھر انہوں نے اہل مکہ کو وہ تین سوال بھی بتائے جو احبار یہود نے حضورﷺ کی صداقت کو جاننے کے لئے انہیں بتائے تھے۔ مکہ میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی گویا اب یہ معمہ حل ہوا چاہتا ہے۔ اس کے بعد کوئی ذہنی اضطراب ان کا تعاقب نہیں کرے گا۔ سب اکٹھے ہو کر نبی کریم ﷺ کا امتحان لینے کے لئے حضورﷺ کے پاس آئے اور کہا اگر آپ سچے نبی ہیں تو ان سوالات کا جواب دیجئے حضورﷺ نے نزول وحی کے بعد ان کا جواب دینے کا وعدہ فرمایا چنانچہ چند روز بعد (بعض روایات میں پندرہ دن اور بعض میں تین دن ) کے بعد حضرت جبرائیل امین علیہ السلام سورہ کہف لے کر نازل ہوئے اس سورت میں ان تینوں سوالات کا مکمل جواب تھا۔ حضور ﷺ نے یہ سورت پڑھ کر کفار کو سنائی۔ اس میں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ وہ نوجوان اصحاب کہف تھے۔ وہ سیاح ذو القرنین تھا۔ اور روح کی حقیقت جو تمہیں بتائی جا سکتی ہے وہ صرف اتنی ہے کہ یہ امر الہی ہے۔ روح کے بارے میں اس سے زائد کچھ جاننا انسان کی عقل و فہم سے ما وراء ہے۔
(سیرت ابن ہشام، جلد اول، صفحہ 322 – 320)

اس سورت کی پہلی آیت میں ہی حضورﷺ کی رسالت کا اعلان موجود ہے۔
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰی عَبۡدِہِ الۡکِتٰبَ وَ لَمۡ یَجۡعَلۡ لَّہٗ عِوَجًا ؕ﴿1﴾
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے اپنے (محبوب و مقرّب) بندےﷺ پر کتابِ (عظیم) نازل فرمائی اور اس میں کوئی کجی نہ رکھی۔
(سورۃ الکہف،آیۃ:1)

اگرچہ ان کے اپنے تسلیم کردہ معیار کے مطابق سرکار دو عالمﷺ کی سچائی ثابت ہو چکی تھی۔ لیکن ہدایت انہیں ہی نصیب ہوتی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ اس نعمت سے سرفراز کرنے کا فیصلہ صادر کرتا ہے۔


🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top