{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ ہفتم}
(قرآن کریم کی اثر آفرینی :حصہ اول)
کفار اگرچہ بظاہر ضد اور تعصب کا مظاہرہ کرتے رہتے تھے۔ لیکن ان میں یہ جرأت بھی نہ تھی کہ حضورﷺ کی دعوت حق کو کلیۃ مسترد کر دیں۔ اس پاکیزہ اور رسیلی صدا کی گونج وہ اپنے نہاں خانہ دل میں واضح طور پر محسوس کرتے تھے جب کبھی انہیں خلوت میسر آتی یا رات کے سناٹے میں ان کی آنکھ کھل جاتی وہ اس دعوت کے اثرات کو اپنے آبائی عقائد پر یلغار کرتے ہوئے محسوس کرتے اور اس یلغار کے سامنے انہیں اپنے توہمات کے یہ قلعے ریت کے گھروندے محسوس ہونے لگتے اپنے، دلوں کی اس بے چینی سے نجات پانے کے لئے وہ طرح طرح کے حیلے کرتے لیکن بے چینی اور قلق ان کا پیچھا نہ چھوڑتا، انتہائی ضبط اور احتیاط کے باوجود کفر کے بڑے بڑے سرغنوں کی زبان پر بے ساختہ ایسے فقرے آ جاتے جو اُس کشمکش کا راز فاش کر دیتے جو ان کے قلوب و اذہان میں بڑے زور و شور سے برپا تھی۔ مثال کے طور پر چند واقعات ملاحظہ فرمائیے۔
نضر بن حارث بن علقمہ بن کلدہ بن عبد مناف: نضر قریش کا ایک رئیس تھا۔ پرلے درجے کا بد باطن اور خبیث النفس۔ اس کا شمار شیاطین قریش میں ہوتا تھا۔ اس کا دل حضورﷺ کے بغض اور عناد سے لبریز تھا۔ یہ حیرہ گیا وہاں ایران کے باشاد ہوں اور وہاں کے پہلوانوں، رستم و اسفند یار کے قصے کہانیاں سیکھ کر واپس آیا اور اپنے ساتھ ان کہانیوں کی کتابیں بھی لے آیا۔ حضورﷺ جب اپنے مواعظ حسنہ سے فارغ ہو کر واپس تشریف لے جاتے تو یہ اس مجلس میں آ کر برا جمان ہو جاتا اور لوگوں کو ایران کے بادشاہوں اور پہلوانوں کے عجیب و غریب قصے اور کہانیاں سناتا۔ پھر کہتا میرے جیسا حسن بیان کسے میسر ہے جس دل نشین انداز سے میں ان تاریخی واقعات کو بیان کرتا ہوں بھلا اور کون کر سکتا ہے۔ اس قماش کا آدمی جس کی رگ و پے میں اسلام کی عداوت سرایت کئے ہوئے تھی وہ بھی قرآن کریم سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ ابو جہل نے جب اپنے منصوبہ کی ناکامی کی وجہ بیان کی کہ وہ کیوں نہ حسب وعدہ حضورﷺ کو اپنے پتھر کا نشانہ بنا سکا تو نضر بھی اسی محفل میں موجود تھا اس سے ضبط نہ ہو سکا۔ اُٹھ کھڑا ہوا اور یوں گویا ہوا۔ اے گروہ قریش! جس بڑی مصیبت میں تم مبتلا ہو اس سے نجات کی کوئی صورت تمہیں نہیں سوجھتی۔ یہ وہی محمدﷺ ہیں جو کل تک جب جوان تھے۔ تو سب کی آنکھوں کا نور تھے۔ تم میں سے سب سے زیادہ سچی بات کرنے والے تھے۔ تم میں سب سے زیادہ دیانتدار اور امین تھے۔ آج جب ان کی کنپٹی کے بالوں میں سفیدی آ گئی ہے اور تمہارے پاس ایک مخصوص پیغام لائے ہیں جو تم نے سن لیا ہے تو آج تم کہتے ہو کہ یہ جادو گر ہیں۔ “لَا وَاللهِ مَا هُوَ بِسَاحِرٍ” ترجمہ: نہیں بخدا وہ جادو گر نہیں ہیں۔ ہم نے جادو گر بھی دیکھے ہوئے ہیں اور ان کی گرہیں لگا کر ان میں پھونک مارنے کے انداز بھی ہمیں معلوم ہیں۔ آج تم کہتے ہو وہ کاہن ہیں۔ “لَا وَاللهِ مَا هُوَ بِکَاھِنٍ” ترجمہ: نہیں بخدا وہ کاہن نہیں ہیں۔ ہم نے کاہن دیکھے ہیں اور ان کے مسجع، مقفی جملے بار ہا سنے ہیں آج تم کہتے ہو یہ شاعر ہیں۔ “لَا وَاللهِ مَا هُوَ بِشَاعِرٍ” ترجمہ: نہیں بخدا وہ شاعر نہیں ہیں۔ ہمیں شعر کی حقیقت معلوم ہے۔ اس کی ساری صنفوں سے بھی ہم باخبر ہیں آج تم کہتے ہو وہ مجنون ہیں۔ “لَا وَاللهِ مَا هُوَ بِمَجْنُوۡنٍ” ترجمہ: نہیں بخدا وہ مجنون نہیں ہیں۔ ہم جنون کی حالت سے بھی بے خبر نہیں اور اس حالت کی وسوسہ اندازیوں اور خلط ملط سے بھی ہم خوب واقف ہیں۔ اے گروہ قریش! اپنی حالت پر مزید غور کرو بے شک تمہیں ایک بڑی مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔
(السيرة النبویۃ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ 319 -320)
ولید بن مغیرہ کے خیالات: حج کا موسم قریب آ رہا تھا۔ جزیرہ عرب کے گوشہ گوشہ سے آنے والے حاجیوں کے قافلوں کی آمد آمد تھی۔ اہل مکہ اپنے ان مہمانوں کی پیشوائی اور خاطر مدارات کے لئے انتظامات میں مصروف تھے ایک روز سب اکابر قریش ولید بن مغیرہ کے پاس جمع تھے ایام حج کی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آہونے کے لئے باہم مشورے کر رہے تھے۔ ولید بن مغیرہ، عمر میں بھی سب سے بڑا تھا اور قومی معاملات میں وسیع تجربہ رکھنے کے باعث لوگ اس کی عزت و احترام کرتے تھے۔ اس نے سلسلہ گفتگو کا آغاز کیا اس نے کہا۔ تمہیں معلوم ہے کہ حج کا موسم آ گیا ہے۔ دور دراز علاقوں سے مختلف قبائل کے وفود یہاں آئیں گے یہ خبر تو ہر جگہ پہنچ چکی ہے کہ یہاں ایک ایسا شخص ظاہر ہوا ہے جو ہمارے بتوں کو برا بھلا کہتا ہے۔ ان کی عبادت کی بجائے اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرنے کی دعوت دیتا ہے وہ اس کے بارے میں ضرور ہم سے پوچھیں گے اگر ہم نے ایک متفقہ جواب نہ دیا بلکہ ہر ایک نے الگ الگ جواب دیا تو وہ لوگ ہمارا مذاق بھی اڑائیں گے اور ہمیں جھوٹا بھی سمجھیں گے اس لئے ہمیں اس کے بارے میں ایک جواب پر متفق ہو جانا چاہیے آج ہم اتفاق سے اکٹھے بیٹھے ہیں۔ اس کے بارے میں ہمیں کوئی فیصلہ کر لینا چاہئے سب نے کہا اے ابا عبد شمس! آپ ہی کہیں۔ آپ سے زیادہ سیانا اور کون ہے آپ جو طے کریں گے اس پر ہم سب عمل کریں گے اس نے کہا نہیں آپ لوگ بتائیں میں سنوں گا۔ ولید کے اصرار پر لوگوں نے اپنی اپنی رائے کا اظہار شروع کیا کسی نے کہا کہ ہمیں لوگوں کو بتانا چاہئے کہ یہ کاہن ہیں۔ ولید نے کہا! بخدا وہ کاہن تو نہیں ہیں ۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے نہ اس کے کلام میں کاہنوں جیسی گنگناہٹ ہے اور نہ سجع ہے۔ چند اور لوگ بولے پھر ہمیں کہنا چاہئے کہ یہ مجنون ہیں۔ ولید نے اس سے بھی اتفاق نہ کیا۔ کہا وہ ہرگز مجنون نہیں ہیں۔ جنون کی کوئی ایک نشانی بھی تو ان میں نہیں پائی جاتی۔ نہ ان کے اعضاء از خود کپکپاتے ہیں اور نہ ان کی زبان سے کوئی مہمل اور بے معنی بات نکلتی ہے۔ چند اور نے یہ تجویز دی کہ پھر بہتر ہے کہ ہم انہیں شاعر کہیں۔ ولید نے کہا ہم انہیں شاعر کیونکر کہہ سکتے ہیں ہم خود اہل زبان میں شعر کی تمام صنفوں سے بخوبی واقف ہیں جو کلام یہ سناتے ہیں وہ شعر کی جملہ صنفوں سے کسی صنف کے نیچے مندرج نہیں ہو سکتا۔ ساری محفل پر سکوت چھا گیا، دیر تک سر جھکائے سوچ و بچار کرتے رہے پھر کسی نے سر اٹھایا اور کہا ہم انہیں ساحر کہیں گے ولید نے اس رائے کو بھی مسترد کر دیا کہ کیا ہم جادو گروں اور ان کے جادو سے واقف نہیں۔ نہ یہ ان کی طرح پھونکیں مارتے ہیں نہ تاگوں میں گرہیں لگاتے ہیں۔ جب ان پیش کردہ ساری آراء کو ولید نے خلاف حقیقت اور غلط قرار دے دیا تو سب نے عاجز ہو کر کہا کہ پھر تم ہی بتاؤ کہ ہمیں لوگوں کو ان کے بارے میں کیا بتانا چاہئے، ولید نے کہا۔ بخدا! جو کلام یہ سناتے ہیں اس میں ایک عجیب قسم کی مٹھاس ہے یہ ایسا سر سبز و شاداب تنا ہے جس سے بے شمار شاخیں پھوٹی ہوئی ہیں اس کی ٹہنیاں پکے پھلوں سے لدی ہوئی ہیں۔ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی ہم کہیں گے تو لوگ جھٹ کہیں گے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ اس کے بغیر ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں کہ ان کے بارے میں ہم سے جو کوئی پوچھے تو ہم کہیں کہ وہ ساحر ہیں انہوں نے اپنے سحر کے اثر سے باپ سے بیٹے کو، بھائی سے بھائی کو، شوہر سے بیوی کو، دوست کو دوست سے جدا کر دیا ہے اور سارے قبیلے میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ آخر اسی بات پر اتفاق رائے ہو گیا اور سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ جب ایام حج میں حجاج کے قافلے مختلف سمتوں سے آنے شروع ہوئے تو یہ لوگ مختلف راستوں پر بیٹھ گئے اور جو شخص حضورﷺ کے بارے میں ان سے دریافت کرتا سب وہی طے شدہ جواب دیتے کہ وہ بڑا جادو گر ہے اس نے اپنے جادو کے زور سے مکہ کے پر امن معاشرہ میں فتنہ و فساد برپا کر دیا ہے۔ اس واقعہ سے آپ نے اندازہ لگا لیا کہ مکہ کے دانشور خوب سمجھتے تھے کہ حضورﷺ نہ کاہن ہیں نہ مجنون نہ شاعر ہیں اور نہ ساحر ہیں۔ قرآن کریم کے بارے میں بھی وہ دل کی گہرائیوں سے تسلیم کرتے تھے کہ اسلام کے شجر دعوت کا تنا اتنا سر سبز و شاداب ہے کہ اس سے بے شمار شاخیں پھوٹ رہی ہیں اور ہر شاخ میٹھے اور پکے ہوئے پھلوں سے جھوم رہی ہے۔
ولید نے قرآن کریم کے بارے میں جو رائے دی۔ اس کے یہ الفاظ ہیں۔
“اِنَّ اَصْلَهٗ لَعَذَقٌ وَاِنَّ فَرْعَہٗ لَجَنَاةٌ اَلْعَذَقَ الۡكَثِيۡرُ الشَّعْبِ وَالْاَطْرَافِ”
ترجمہ: عذق وہ تنا جس سے بکثرت شاخیں پھوٹی ہوئی ہوں۔
“لَجَنَاةٌ اَىۡ فِيۡهِ یُجۡنٰی” ترجمہ: یعنی ایسا پھل جو پکا ہوا ہو اور جس کو توڑنے والے توڑتے ہیں۔
یہ سب کچھ جاننے اور ماننے کے باوجود وہ حضورﷺ پر ایمان لانے کے لئے تیار نہ تھے یہ ان کی حرماں نصیبی تھی جس کا سبب ان کا اندھا تعصب تھا۔
(السيرة النبویہ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ 283 -284)
چنانچہ اسی ولید کے بارے میں قرآن کریم کی یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
ذَرۡنِیۡ وَ مَنۡ خَلَقۡتُ وَحِیۡدًا ﴿11﴾ وَّ جَعَلۡتُ لَہٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا ﴿12﴾ وَّ بَنِیۡنَ شُہُوۡدًا ﴿13﴾ وَّ مَہَّدۡتُّ لَہٗ تَمۡہِیۡدًا ﴿14﴾ ثُمَّ یَطۡمَعُ اَنۡ اَزِیۡدَ ﴿15﴾ کَلَّا ؕ اِنَّہٗ کَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیۡدًا ﴿16﴾ سَاُرۡہِقُہٗ صَعُوۡدًا ﴿17﴾ اِنَّہٗ فَکَّرَ وَ قَدَّرَ ﴿18﴾ فَقُتِلَ کَیۡفَ قَدَّرَ ﴿19﴾ ثُمَّ قُتِلَ کَیۡفَ قَدَّرَ ﴿20﴾ ثُمَّ نَظَرَ ﴿21﴾ ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَ ﴿22﴾ ثُمَّ اَدۡبَرَ وَ اسۡتَکۡبَرَ ﴿23﴾ فَقَالَ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ یُّؤۡثَرُ ﴿24﴾ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ ﴿25﴾
ترجمہ: آپ مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا (اِنتقام لینے کے لئے) چھوڑ دیں۔ اور میں نے اسے بہت وسیع مال مہیا کیا تھا۔ اور (اس کے سامنے) حاضر رہنے والے بیٹے (دئیے) تھے۔ اور میں نے اسے (سامانِ عیش و عشرت میں) خوب وُسعت دی تھی۔ پھر (بھی) وہ حرص رکھتا ہے کہ میں اور زیادہ کروں۔ ہرگز (ایسا) نہ ہو گا، بے شک وہ ہماری آیتوں کا دشمن رہا ہے۔ عنقریب میں اسے سخت مشقت (کے عذاب) کی تکلیف دوں گا۔ بے شک اس نے سوچ بچار کی اور ایک سازش وضع کر لی۔ بس اس پر (اللہ کی) مار (یعنی لعنت) ہو، اس نے کیسی سازش تیار کی۔ اس پر پھر (اللہ کی) مار (یعنی لعنت) ہو، اس نے (یہ) کیسی سازش کی۔ پھر اس نے (اپنی تجویز پر دوبارہ) غور کیا۔ پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑا۔ پھر (حق سے) پیٹھ پھیر لی اور تکبّر کیا۔ پھر کہنے لگا کہ یہ (قرآن) جادو کے سوا کچھ نہیں جو (اگلے جادو گروں سے) نقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ یہ (قرآن) بجز اِنسان کے کلام کے (اور کچھ) نہیں۔
( سورۃ المدثر،آیۃ:11 تا25 )
کفار مکہ نے اپنے پروگرام کے مطابق باہر سے آنے والے حاجیوں کو حضورﷺ کے بارے میں بتایا کہ آپ ساحر ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ قافلے واپسی میں جہاں جہاں سے گزرتے جہاں جہاں پہنچے وہ حضورﷺ کے بارے میں سب کو بتاتے گئے، چنانچہ حضورﷺ کے ذکر سے عرب کی سر زمین کا چپہ چپہ گونجنے لگا۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲