Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 193 دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: تئیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ پنجم}
(حضورﷺ کو اپنا ہم نوا بنانے کے لیے دیگر مساعی : حصہ سوم)


پھر وہ بولے۔ اگر ان کاموں میں سے کوئی کام آپﷺ نہیں کر سکتے تو چلیے آسمان کا ایک ٹکڑا ہم پر گرا کر ہمارا قصہ پاک کر دیں۔ حضورﷺ نے فرمایا یہ کام اللہ کی مرضی پر موقوف ہے جو وہ چاہے تمہارے ساتھ کرے۔
(السيرة النبویہ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ315 -317)

ان کے ان مطالبات کو قرآن کریم میں مختلف مقامات پر ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ الإسراء کی مندرجہ ذیل آیات میں تقریباً ان کے سارے مطالبات یکجاء کر دیئے گئے ہیں ارشاد خداوندی ہے۔
وَ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ یَنۡۢبُوۡعًا ﴿90﴾ اَوۡ تَکُوۡنَ لَکَ جَنَّۃٌ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡہٰرَ خِلٰلَہَا تَفۡجِیۡرًا ﴿91﴾ اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمۡتَ عَلَیۡنَا کِسَفًا اَوۡ تَاۡتِیَ بِاللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیۡلًا ﴿92﴾ اَوۡ یَکُوۡنَ لَکَ بَیۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ اَوۡ تَرۡقٰی فِی السَّمَآءِ ؕ وَ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیۡنَا کِتٰبًا نَّقۡرَؤُہٗ ؕ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا ﴿93﴾
ترجمہ: اور وہ (کفّارِ مکّہ) کہتے ہیں کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری کر دیں۔ یا آپ کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو تو آپ اس کے اندر بہتی ہوئی نہریں جاری کر دیں یا جیسا کہ آپ کا خیال ہے ہم پر (ابھی) آسمان کے چند ٹکڑے گرا دیں یا آپ اللہ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئیں۔یا آپ کا کوئی سونے کا گھر ہو (جس میں آپ خوب عیش سے رہیں) یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں، پھر بھی ہم آپ کے (آسمان میں) چڑھ جانے پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ آپ (وہاں سے) ہمارے اوپر کوئی کتاب اتار لائیں جسے ہم (خود) پڑھ سکیں، فرما دیجئے: میرا رب (ان خرافات میں الجھنے سے) پاک ہے میں تو ایک انسان (اور) اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں۔(سورہ بنی اسرآئیل،آیۃ:90 -93)

آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم نے تحقیق کی ہے ہمیں پتہ چلا ہے کہ یمامہ کا ایک شخص جس کا نام رحمن ہے وہ آپ ﷺکو یہ سب کچھ سکھاتا ہے آپ ﷺاس سے سیکھ کر ہمیں سنا دیتے ہیں ہم بخدا رحمن پر ہر گز ایمان نہیں لائیں گے یا محمد ( ﷺ ) ! ہم نے آج اپنی طرف سے حجت پوری کر دی ہے۔ اب ہم آپﷺ کا مقابلہ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آپﷺ ختم ہو جائیں یا ہم ہلاک ہو جائیں۔ (السيرة النبویہ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ 317، سیرت ابن کثیر، جلد اول، صفحہ 481)

ان کی یہ باتیں سن کر رحمت عالم ﷺ وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور گھر کی طرف چل پڑے حضورﷺ کے ساتھ ہی حضورﷺ کی پھوپھی عاتکہ بنت عبد المطلب کا لڑکا عبداللہ بن امیہ بن مغیرہ بھی ساتھ اٹھا۔ اور حضورﷺ کے ساتھ ساتھ چل پڑا راستہ میں اس نے حضورﷺ کو کہا یا محمد ( روحی فداک ) میری قوم نے بہت سی تجویزیں آپ ﷺکے سامنے پیش کیں آپﷺ نے ان میں سے کوئی تجویز نہیں مانی۔ پھر انہوں نے اپنے لئے چند مطالبات کئے وہ بھی آپﷺ نے مسترد کر دیئے ۔ پھر یہاں تک کہا اگر آپﷺ ہمارے لئے کچھ نہیں مانگتے تو آپﷺ کی مرضی۔ اپنے لئے تو اپنے رب سے باغات ، محلات اور خزانے مانگیں اگر وہ آپﷺ کو بھی یہ چیزیں دے دے تو پھر بھی وہ آپﷺ پر ایمان لے آئیں گے وہ بھی آپﷺ نے ٹھکرا دی پھر انہوں نے وہ عذاب نازل کرنے کا مطالبہ کیا جس سے آپﷺ ہر وقت ان کو ڈراتے رہتے تھے یہ بات بھی آپﷺ نے نہ مانی۔
بخدا میں تو اب کسی قیمت پر آپﷺ پر ایمان نہیں لاؤں گا۔ یہ لاف زنیاں کرتا ہوا وہ اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔ سرکار دو عالم ﷺ اپنے کاشانہ اقدس کی طرف مراجعت فرما ہوئے۔ لیکن اپنی قوم کی اس ہٹ دھرمی اور محرومی پر حضورﷺ از حد کبیدہ خاطر اور غمزدہ تھے۔ حضورﷺ کے وہاں سے چلے آنے کے بعد قریشی ابھی وہیں بیٹھے تھے کہ ابو جہل کہنے لگا اے گروہ قریش ! اب تم نے دیکھ لیا ہماری اتنی مغز ماری کے باوجود وہ اپنی تبلیغ سے پیچھے نہیں رہے۔ ہمارے دین کی عیب جوئی ، ہمارے بتوں کی توہین، اور ہمیں احمق و بے وقوف کہنے سے نہیں رکے۔میں نے بھی قسم کھائی ہے کہ کل میں بہت بھاری پتھر جتنا میں اٹھا سکتا ہوں لے کر ان کی انتظار میں بیٹھوں گا جونہی وہ سجدہ میں مجھے نظر آئیں گے ( العیاذ باللہ ) ان کے سر پر دے ماروں گا پھر تم مجھے ان کے حوالے کر دینا یا میرا دفاع کرنا۔ یہ تمہاری مرضی اس کے بعد بنو عبد مناف جو چاہیں میرے ساتھ کریں مجھے اس کی پروا نہیں۔ سامعین نے اس کا پروگرام سن کر پسندیدگی کا اظہار کیا اور اسے یقین دلایا۔
“وَاللَّهِ مَا نُسْلِمُكَ لِشَیْئٍ اَبَدًا فَامْضِ مَا تُرِيۡدُ”
ترجمہ: خدا کی قسم ! ہم تمہیں کسی قیمت پر ان کے حوالے نہیں کریں گے۔ اب جاؤ جو چاہتے ہو کرو۔
(السيرة النبویہ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ 318)

دوسرے روز علی الصبح ابو جہل نے حسب وعدہ بھاری پتھر اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیا اور حضور ﷺکی آمد کا انتظار کرنے لگا۔ حضور ﷺحسب معمول صبح سویرے تشریف لائے حجر اسود اور رکن یمانی کی دیوار کو قبلہ بنا کر نماز کی نیت باندھ لی ۔ ہجرت سے پہلے حضورﷺ جب بھی نماز ادا کرنے لگتے اس جگہ کھڑے ہوتے۔ کعبہ کو اپنے اور بیت المقدس کے درمیان رکھتے۔ قریش بھی ادھر ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے تھے کہ ابو جہل کیا کرتا ہے۔ حضورﷺ جب اپنے رب کی جناب میں سر بسجود ہوئے تو ابو جہل اٹھا۔ پتھر اٹھایا اور حضورﷺ کی طرف چل پڑا جب قریب پہنچا تو دفعتہ پیچھے کی طرف بھاگا چہرہ کا رنگ فق ہو گیا تھا رعب سے رعشہ طاری تھا۔ جس ہاتھ میں اس نے پتھر اٹھایا ہوا تھا وہ سوکھ گیا یہاں تک کہ اس نے پتھر پھینک دیا قریش دوڑ کر اس کے پاس آئے۔ پوچھا ابو الحکم ۔ کیا بات ہے۔ کہنے لگا۔ کہ جب پتھر اٹھا کر میں ان کے نزدیک پہنچا اور ارادہ کیا کہ اسے آپﷺ کے سر پر دے ماروں تو ایک نر اونٹ منہ کھولے مجھے کھانے کے لئے میری طرف لپکا اس کی کھوپڑی اتنی بڑی تھی اور اس کی گردن اتنی موٹی تھی کہ میں نے آج تک کسی اونٹ کی نہیں دیکھی۔ کفار نے پہلے حضرت ابو طالب کے ذریعہ حضورﷺ کو اپنے مشن سے دست بردار کرنا چاہا اس میں ناکامی ہوئی پھر براہ راست حضور ﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر طرح طرح کی پیش کشیں شروع کر دیں۔ کبھی انفرادی طور پر کبھی اجتماعی طور پر ۔ اس میں بھی وہ بری طرح ناکام ہوئے۔ لیکن ابھی تک وہ اس زعم باطل میں مبتلاء تھے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اور افہام و تفہیم کے ذریعہ اسلام کی اس تحریک کو بال و پر نکالنے سے پہلے موت کی نیند سلا دیں گے۔ ان سابقہ کوششوں کے بعد ایک بار پھر وہ ایک وفد کی شکل میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آج ہم آپﷺ کی خدمت میں صرف ایک تجویز پیش کرنے کے لئے آئے ہیں اور اس کے مان لینے میں سو فیصد آپﷺ کا ہی بھلا ہے ۔ حضور ﷺنے پوچھا وہ تجویز کیا ہے انہوں نے کہا کہ۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top