{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ چہارم}
(حضورﷺ کو اپنا ہم نوا بنانے کے لیے دیگر مساعی : حصہ دوم)
اس قسم کا ایک اور واقعہ بھی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں یہ پیش کش تنہا عتبہ نے کی تھی اور مندرجہ ذیل روایت میں یہی پیش کش پوری قوم کے سر بر آوردہ لوگ اجتماعی طور پر بارگاہ حبیب کبریاء ﷺ میں پیش کرتے ہیں اس کے علاوہ یہاں حضورﷺ کا جواب پہلے جواب سے مختلف ہے نیز حضورﷺ کے اس جواب کے بعد کفار نے شدید قسم کے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ یہ ساری چیزیں پہلی روایت میں نہیں ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت میں ایک دوسرے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما راوی ہیں۔ کہ کفار کی دن بدن صورت حال بگڑتی جا رہی تھی۔ حالات قابو سے باہر ہوتے جا رہے تھے۔ چنانچہ بگڑتی ہوئی صورت حال پر قابو پانے کے لئے سارے قبائل کے سردار جمع ہوتے ہیں جن میں سے چند سر بر آوردہ سرداروں کے نام یہ ہیں۔ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ ۔ حضرت ابو سفیان بن حرب، نضر بن حرث۔ ابو البختری بن ہشام ، اسود بن مطلب، زمعہ بن اسود، ولید بن مغیرہ ، ابو جہل بن ہشام ، عبداللہ بن ابی امیہ، عاص بن وائل ، نبیہ اور منبہ پسران حجاج ، امیہ بن خلف وغیره۔
(السيرة النبویہ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ315)
یہ سارے سردار غروب آفتاب کے بعد کعبہ شریف کی پشت کی سمت میں جمع ہوئے ۔ ان میں سے ایک بولا ۔ محمد (فداہ روحی و ابی و امی ﷺ) کو آدمی بھیج کر یہاں بلاؤ اور ان کے ساتھ دو ٹوک بات کرو چنانچہ ایک آدمی کو یہ پیغام دے کر حضورﷺ کی خدمت میں بھیجا گیا کہ آپ ﷺ کی قوم کے سارے سردار کعبہ کے پاس حرم میں اکٹھے ہیں۔ اور آپ ﷺ کا انتظار کر رہے ہیں وہ آج آپ ﷺ سے فیصلہ کن گفتگو کرنا چاہتے ہیں اس لئے آپ ﷺ آئے اور ان سے بات کیجئے۔ پیغام سنتے ہی سرکار دو عالمﷺ تشریف لے آئیں۔ اور ان کے پاس بیٹھ گئے ۔ انہوں نے گفتگو کا اس طرح آغاز کیا۔
اے محمد(ﷺ)! ہم نے آج آپ ﷺ کو بلا بھیجا ہے ہم آپ ﷺ کے ساتھ فیصلہ کن بات کرنا چاہتے ہیں خدا کی قسم ! جس مصیبت میں آپ ﷺ نے اپنی قوم کو مبتلاء کیا ہے ہم نہیں جانتے کہ کسی اور نے بھی اپنی قوم پر ایسی زیادتی کی ہو۔ آپ ﷺ ہمارے باپوں کو گالیاں دیتے ہیں ہمارے دین میں سو سو عیب نکالتے ہیں ہمارے خداؤں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ہمیں بے وقوف کہتے ہیں۔ آپﷺ نے ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ کوئی بری بات ایسی نہیں رہی۔ جس سے آپ ﷺ نے اپنی قوم کو پریشان نہ کیا ہو۔ اس ہنگامہ آرائی سے اگر آپﷺ کا مقصد دولت جمع کرنا ہے تو ہم آپﷺ کے لئے اتنا مال و زر جمع کر دیتے ہیں کہ آپﷺ ساری قوم میں امیر ترین آدمی بن جائیں گے اور اگر آپﷺ عزت و سیادت کے خواہش مند ہیں تو ہم سب آپﷺ کو بڑی خوشی سے اپنا سردار تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اور اگر تخت و تاج کی آرزو میں آپﷺ یہ سارے معاملات کر رہے ہیں تو آپﷺ ہمیں بتائیے ہم متفقہ طور پر بصد مسرت آپﷺ کے سر پر تاج شاہی سجانے کا اعزاز حاصل کریں گے اور اگر آسیب اور جنات کا اثر ہے جس سے مجبور ہو کر آپﷺ نے اپنی قوم کا امن و سکون برباد کر دیا ہے تب بھی بتا دیجئے ہم آپﷺ کا ماہر ترین طبیب سے علاج کرائیں گے خواہ اس علاج پر کتنا ہی روپیہ ہمیں خرچ کرنا پڑے ہمیں اس کی ذرا پروا نہیں۔
جب وہ اپنی تجاویز پیش کر چکے تو ہادی انس و جان ﷺ یوں گوہر فشاں ہوئے ان چیزوں میں سے میں کسی چیز کا طلب گار نہیں۔ نہ مجھے مال و دولت کی خواہش ہے اور نہ ہی عزت و سیادت کی آرزو اور نہ میری نگاہوں میں تخت و تاج سلطانی کی کوئی قدر و قیمت ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف اپنا رسول بنا کر مبعوث فرمایا ہے مجھ پر کتاب نازل کی ہے ۔ مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اس کی رحمت کا مژدہ سناؤں اور اس کے عذاب سے بر وقت خبردار کروں ۔ میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دیئے ہیں اور اپنی طرف سے تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کر دیا ہے۔ جو دعوت حق لے کر میں آیا ہوں اگر تم اس کو قبول کر لو گے تو دنیا و آخرت میں تم سعادت مند ہوگے اور اگر تم اس کو مسترد کر دو گے تو میں پھر بھی صبر کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرما دے۔ حضورﷺ کے فیصلہ کن انداز تکلم نے انہیں بے بس کر دیا اور لگے حجت بازیاں کرنے۔ کہنے لگے اگر آپﷺ ہماری ان تجاویز کو در خور اعتنا نہیں سمجھتے تو آپ ﷺکی مرضی ۔ پھر ہماری اس درخواست پر غور فرمائیں آپ ﷺجانتے ہیں کہ ہمارا شہر جس وادی میں آباد ہے وہ بڑی تنگ وادی ہے پانی نایاب ہے ہم سے زیادہ مشکل گزران کسی کی نہیں۔ آپﷺ اپنے رب سے جس نے آپﷺ کو رسول بنا کر بھیجا ہے یہ دعا کریں کہ وہ ان پہاڑوں کو یہاں سے دور ہٹا دے تاکہ میدان کشادہ ہو جائے شام و عراق کی طرح یہاں بھی دریا جاری کر دے ہمارے آباؤ اجداد سے چند بزرگوں کو زندہ کر دے ان میں قُصی بن کلاب کا زندہ ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ وہ راست گو شخص تھا۔ تاکہ ہم ان بزرگوں سے آپ ﷺکے بارے میں دریافت کریں کہ آپﷺ سچے ہیں یا نہیں۔ اگر انہوں نے آپ ﷺکی تصدیق کر دی اور آپ ﷺنے ہمارے دوسرے مطالبات بھی پورے کر دیئے تو ہم آپﷺ کی تصدیق کریں گے اس طرح ہمیں پتہ چل جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپﷺ کا بڑا رتبہ ہے اور آپﷺ اس کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ان کی ہرزہ سرائی سنی اور فرمایا۔ اے قریشیو! اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کاموں کے لئے مبعوث نہیں فرمایا میں تو اس کا ایک پیغام لے کر تمہاری طرف آیا ہوں اور میں نے وہ پیغام تمہیں پہنچا دیا ہے۔ اگر تم اسے قبول کر لو تو یہ تمہاری دارین کی خوش نصیبی ہے اور اگر تم اسے مسترد کر دو تو پھر بھی میں حکم الہٰی سے صبر کروں گا۔ یہاں تک کہ وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرما دے۔ وہ کہنے لگے کہ اگر آپ ﷺہمارے بھلے کے لئے کچھ نہیں کرتے تو نہ کریں ہمیں اصرار نہیں۔ لیکن اپنے لئے تو کچھ مانگیں زیادہ نہیں تو کم از کم آپﷺ کا رب ایک فرشتہ آپﷺکے ہمراہ کر دے جو آپﷺ کی ہر بات کی تصدیق کرے اور ہمیں آپ ﷺسے دور رکھے۔ نیز آپ ﷺاپنے رب سے سوال کریں کہ اس ریگزار میں باغات اُگا دے محلات تعمیر کر دے۔ زر و سیم کے خزانوں کے ڈھیر لگا دے تا کہ موجودہ افلاس اور تنگ دستی سے آپﷺ کو نجات مل جائے ۔ کسب معاش کی تکلیف سے آپﷺ بچ جائیں۔ آج کل تو آپﷺ بھی ہماری طرح بازار میں تشریف لے جاتے ہیں۔ اور ہماری طرح اس سلسلہ میں پریشانیاں برداشت کرتے ہیں اگر آپﷺ کے بارے میں آپ ﷺکی یہ دعائیں قبولیت کا شرف حاصل کر لیں تب ہم مانیں گے کہ واقعی آپﷺ اس رب کے سچے رسول ہیں۔
ان کی بے معنی باتیں سننے کے بعد حضور ﷺنے فرمایا میں تمہاری اس فرمائش پر عمل کرنے سے قاصر ہوں میں وہ نہیں جو اپنے رب سے ایسی حقیر چیزوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور نہ اس نے مجھے اس مقصد کے لئے مبعوث فرمایا ہے بلکہ اس نے مجھے بشیر و نذیر بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲