Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 187دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: سترہواں}

{دعوت اسلام کا دوسرا دور : حصہ اول}
(قریبی رشتہ داروں کو دعوت حق دینے کے لیے حکم الہٰی : حصہ اول)

بعثت کے بعد تین سال کا عرصہ خاموشی سے تبلیغ کرنے میں گزرا۔ اس عرصہ میں اسلام نے جن اولو العزم ہستیوں کو اپنے پرچم کے نیچے جمع کر لیا۔ اس کے بارے میں تفصیلات کا آپ مطالعہ کر چکے ہیں۔ ان عظیم لوگوں کا اس دین کو قبول کر لینا حضور پر نور ﷺ کے پُر امن جہاد کی شاندار اور بے مثال فتوحات تھیں۔ اب وہ وقت آ گیا تھا کہ دعوت توحید کے دائرہ کو مزید وسعت دی جائے۔ چنانچہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام خداوند قدوس کی جانب سے یہ حکم لے کر تشریف لائے۔
وَ اَنۡذِرۡ عَشِیۡرَتَکَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ ﴿214﴾ وَ اخۡفِضۡ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿215﴾
ترجمہ:اور (اے حبیبِ مکرّم!) آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو (ہمارے عذاب سے) ڈرائیے۔اور آپ اپنا بازوئے (رحمت و شفقت) ان مومنوں کے لئے بچھا دیجئے جنہوں نے آپ کی پیروی اختیار کر لی ہے۔ ( سورة الشعرآء،آیۃ 214 – 215)

اس حکم خداوندی کی تعمیل ضروری تھی لیکن یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ کفر و شرک کے خوگر معاشرہ میں ایسے لوگوں کو توحید کی دعوت دینا جو صد ہا سال سے پتھر کے بنے ہوئے اندھے، بہرے، بے جان بتوں کی پوجا کے متوالے تھے اور ان کی آن پر اپنی جان تک قربان کرنا اپنے لئے سرمایہ سعادت تصور کرتے تھے اور وہ بھی اس طرح کہ یہ دعوت ان کے دلوں میں اُتر جائے ان کے ذہنوں میں اُجالا کر دے، اور ان کی روح بن کر ان کے رگ و پے میں سرایت کر جائے یہ بڑا کٹھن کام تھا کئی ہفتوں تک حضور ﷺ اس سوچ میں مستغرق رہے۔ رات اور دن اسی غور و فکر میں بیت جاتے ۔ حضورﷺ گھر میں گوشہ نشین رہے۔ اس خاموشی اور عزلت گزینی کے باعث حضورﷺ کی پھوپھیوں کو یہ اندیشہ لاحق ہو گیا کہ حضورﷺ کہیں بیمار تو نہیں ۔ عیادت کے لئے جب آئیں تو حضورﷺ نے بتایا کہ میری صحت بالکل ٹھیک ہے لیکن میں اس سوچ میں کھویا کھویا رہتا ہوں کہ اپنے رب کے اس حکم کی تعمیل کیسے کروں۔

انہوں نے عرض کی آپﷺ بیشک عبد المطلب کی ساری اولاد کو بلا کر یہ پیغام پہنچائیں لیکن عبد العزٰی ( ابولہب ) کو نہ بلائیں۔ وہ آپ ﷺکی بات نہیں مانے گا۔دوسرے روز رسول اللہ ﷺ نے بنو عبد المطلب کو بلا بھیجا وہ بھی آئے اور عبد مناف کی اولاد میں سے بھی چند لوگ پہنچ گئے ۔ سب کی تعداد پینتالیس کے قریب تھی اس سے پیشتر کہ حضورﷺ اپنا مدعا بیان فرماتے ابو لہب نے گفتگو کا آغاز کر دیا۔ اس نے کہا۔ یہ آپﷺ کے چچے ہیں۔ اور چچازاد بھائی ہیں اب آپﷺ جو کہنا چاہتے ہیں کہئے لیکن یہ بات نہ بھولئے کہ آپ
ﷺ کی قوم میں اتنی قوت نہیں کہ وہ سارے اہل عرب کا مقابلہ کر سکے مناسب تو یہ ہے کہ جو کام آپﷺ نے شروع کیا ہے آپﷺ کے قبیلے والے اور آپﷺ کے قریبی رشتہ دار آپﷺ کو اس سے روک دیں یہ ان کے لئے آسان ہے بجائے اس کے کہ قریش کے سارے خاندان آپﷺ کے خلاف متحد ہو کر مقابلہ کے لئے کھڑے ہو جائیں اور عرب کے سارے لوگ ان کی تائید کر رہے ہوں۔ اے میرے بھتیجے ! کوئی آدمی ایسا فتنہ و فساد کا پیغام لے کر اپنی قوم کے پاس نہیں آیا جس فتنہ و فساد کا پیغام لے کر آپﷺ آئے ہیں۔ ابو لہب کہتا رہا۔ حضورﷺ خاموش رہے اور اس مجلس میں کوئی گفتگو نہ کی ۔
(سبل الہدی، جلد دوم، صفحہ 432، السیرة الحلبیہ، جلد اول، صفحہ271)

چند روز خاموشی سے گزر گئے پھر حضرت جبرائیل امین علیہ السلام آئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا کہ آپﷺ دین حق کی تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھیں اللہ تعالیٰ آپﷺ کا معاون و مدد گار ہو گا۔ دوسری بار پھر حضورﷺ نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو اپنے پاس بلا بھیجا جب وہ سب جمع ہو گئے تو مندرجہ ذیل ارشاد فرمایا۔
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ اَحْمَدُهٗ وَاسْتَعِيۡنُہٗ وَ اُوْمِنُ بِهٖ وَ اَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ وَ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيۡكَ لَهٗ، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ الرَّائِدَ لَا يَكْذِبُ اَهْلَهٗ وَاللَّهِ لَوْ كَذِبۡتُ النَّاسَ جَمِيۡعًا مَا كَذَبْتُكُمْ وَلَوْ غَرَرْتُ النَّاسَ مَا غَرَرْتُكُمْ وَاللَّهِ الَّذِيۡ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ اِنِّيۡ لَرَسُوۡلُ اللَّهِ اِلَيْكُمْ خَاصَةً وَاِلَى النَّاسِ كَافَةً وَ اللَّهِ لَتَمُوۡتُنَّ كَمَا تَنَامُوۡنَ وَلَتُبْعَثُنَّ كَمَا تَسْتَيْقِظُوۡنَ وَ لَتُحَاسَبُنَّ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ وَلَتُجْزَوُنَّ بِالْاِحْسَانِ اِحْسَانًا وَبِالسُّوۡءِ سُوۡءًا وَ اِنَّهَا لِلْجَنَّةِ اَبَدًا اَوِ النَّارِ اَبَدًا وَاللَّهِ يَا بَنِيۡ عَبْدِ الْمُطْلِبۡ مَا اَعْلَمُ شَابًّا جَاءَ قَوْمَهٗ بِاَفْضَلَ مِمَّا جِئْتُكُمْ بِهٖ اِنِّيۡ قَدْجِئْتُكُمْ بِاَمْرِ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ۔
ترجمہ: سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں میں اس کی حمد کرتا ہوں اور اس سے مدد طلب کرتا ہوں اور اس پر ایمان لایا ہوں اور اسی پر توکل کرتا ہوں ۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی عبادت کے لائق نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے جو یکتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔پھر فرمایا ! قافلہ کا پیشرو اپنے قافلہ والوں سے جھوٹ نہیں بولتا بفرض محال اگر میں دوسرے لوگوں سے جھوٹ بولوں تو بخدا میں تم سے جھوٹ نہیں بول سکتا۔ بفرض محال اگر میں ساری دنیا کے ساتھ دھوکہ کروں تو تم سے میں دھوکہ نہیں کر سکتا۔ اس ذات کی قسم جس کے بغیر اور کوئی معبود نہیں میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف بالخصوص اور ساری انسانیت کی طرف بالعموم ۔ بخدا تمہیں موت اس طرح آئے گی جس طرح تمہیں نیند آتی ہے اور قبروں سے زندہ یوں اٹھائے جاؤ گے جیسے تم خواب سے بیدار ہوئے ہو۔ اور جو عمل تم کرتے ہو ان کا تم سے محاسبہ ہو گا تمہارے اچھے اعمال کی اچھی جزاء اور برے کاموں کی بری جزاء تمہیں دی جائے گی۔ ٹھکانہ یا ابدی جنت ہے یا ابدی جہنم ۔ بخدا اے فرزندان عبد المطلب! میں کسی ایسے نوجوان کو نہیں جانتا جو اس چیز سے بہتر اپنی قوم کے پاس لے کر آیا ہو جو میں لے کر آیا ہوں میں تمہارے پاس دینا و آخرت کی فوز و فلاح لے کر آیا ہوں۔
(السيرة الحلبیہ، جلد اول، صفحہ 272 ، السيرةالنبویہ، زینی دحلان، جلد اول، صفحہ 198)

دوسرے لوگوں نے تو ان ارشادات کا معقول جواب دیا لیکن ابو لہب نے بڑی خست اور رذالت کا ثبوت دیا وہ بولا۔ اے فرزندان عبد المطلب! ایسی چیز ہمارے لئے ذلت و رسوائی کا باعث بنے گی تم آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ پکڑ لو۔ اس سے پیشتر کہ دوسرے لوگ اس کے ہاتھوں کو پکڑیں۔ اس وقت اگر تم اس کو ان کے حوالے کر دو گے تو تم ذلیل و رسوا ہو گے اور اگر تم اس کا دفاع کرو گے تو وہ لوگ تمہیں تہ تیغ کر دیں گے۔ حضرت صفیہ جو رسول اللہﷺ کی پھوپھی تھیں وہ ابو لہب کی یہ بات سن کر ضبط نہ کر سکیں انہوں نے فرمایا اے بھائی ! کیا تمہیں یہ بات زیب دیتی ہے کہ تو اپنے بھتیجے کو بے یار و مددگار چھوڑ دے بخدا آج تک ہمیں اہل علم یہ بتاتے رہے ہیں کہ عبد المطلب کی نسل سے ایک نبی ظاہر ہو گا بخدا یہ وہی نبی ہیں۔ اور ابو لہب کہنے لگا کہ یہ ساری باتیں بے سر و پا اور خوش فہمیاں ہیں اور پردہ نشین عورتوں کی باتیں ہیں۔ جس وقت قریش کے سارے خاندان تمہارے خلاف کھڑے ہو جائیں گے اور جزیرہ عرب کے سارے قبیلے ان کی امداد کر رہے ہوں گے تو اس وقت ہمیں اپنی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ اس کے بعد ابو طالب اُٹھے اور انہوں نے اعلان کر دیا۔
“وَ اللَّهِ لَنَمْنَعَنَّهٗ مَا بَقِيْنَا” ترجمہ: بخدا جب تک ہمارے جسم میں جان ہے ہم ان کی حفاظت اور دفاع کریں گے۔
ان پہلے دو اجتماعات میں صرف عبد المطلب کا خاندان مدعو تھا اور وہی لوگ شریک ہوئے تھے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top