Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 184دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: چودہواں}

(سب سے پہلے ایمان لانے والےحصہ :چودہواں)
《سیدنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا: حصہ دوم》


یہ سارا انقلاب خود بخود رونما نہیں ہو رہا تھا۔ بلکہ اس کے پس پردہ محبوب رب العالمینﷺ کی دعا کی تاثیر کار فرما تھی۔ صرف ایک روز پہلے حضور سرور عالمﷺ نے اپنے مولا کریم کی بارگاہ بیکس پناہ میں دست مبارک اٹھا کر التجاء کی تھی۔
“اَللّٰهُمَّ اَعِزَّ الۡاِسْلَامَ بِاَحَبِّ الرَّجُلَيْنِ اِلَيْكَ بِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ اَوۡ بِعَمۡرِوۡ بۡنِ هَشَّامٍ”
ترجمہ: اے اللہ! ان دو آدمیوں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عمرو بن ہشام ( ابو جہل) میں سے جو تجھے زیادہ پسند ہے اس سے دین کو عزت عطا فرما۔
اور جو روایت حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔
“اَللّٰهُمَّ اَيِّدِ الۡاِسْلَامَ بِعُمَرَ” ترجمہ:اے اللہ ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مشرف بہ اسلام کر کے اسلام کی مدد فرما۔
اس روایت میں صرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لئے دعا فرمائی گئی ہے۔

در حقیقت اس مقبول دعا کی کمند حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے سخت دل کو کشاں کشاں رحمت للعالمین ﷺ کے دربار میں لا رہی تھی۔ حضورﷺ اس وقت دار ارقم میں اپنے جاں نثاروں کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ دروازہ بند تھا، اس پر دستک ہوئی ، کسی نے کواٹر (کھڑکی) کے سوراخ سے دیکھا کہ باہر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہیں۔ ننگی تلوار گلے میں لٹک رہی ہے صحابہ جھجکے۔ دروازہ کھولیں یا نہ کھولیں۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ موجود تھے فرمایا۔ مت ڈرو۔ دروازہ کھول دو اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اندر داخل ہو کر بارگاہ مصطفویﷺ کے آداب ملحوظ رکھیں گے تو ہم ادب و احترام سے اس کو خوش آمدید کہیں گے اور اگر ان کی نیت میں ذرا فتور محسوس ہوا تو ان کی تلوار ان سے چھین کر ان کا ہی سر اڑا دیا جائے گا۔
“وَقَالَ رَسُوۡلُ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِفْتَحُوۡا لَهٗ فَاِنَّهٗ اِنۡ يُّرِدۡ بِهٖ خَيْرًا يَّهْدِهٖ”
ترجمہ: رسول کریم ﷺ نے فرمایا دروازہ کھول دو۔ اللہ تعالیٰ نے اگر اس کی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے تو اس کو ہدایت دے دے گا۔

چنانچہ دروازہ کھولا گیا دو آدمیوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دونوں بازوؤں سے پکڑ لیا۔ یہاں تک کہ وہ رسول کریمﷺ کے قریب پہنچ گئے۔ حضورﷺ نے فرمایا انہیں چھوڑ دو۔ انہوں نے چھوڑ دیا حضور نبی کریمﷺاُٹھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی چادر کو پکڑ کر اسے زور سے جھٹکا دیا اور فرمایا۔
“اَسْلِمۡ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ اَللّٰهُمَّ اِهْدِ قَلْبَهٗ اَللّٰهُمَّ اِهْدِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اَللّٰهُمَّ اَعِزَّ الدِّيۡنَ بِعَمَرِ بْنِ الْخَطَّابِ اَللّٰهُمَّ اُخْرُجۡ مَا فِيۡ صَدْرِ عُمَرَ مِنْ غِلٍّ وَ اَبْدِلۡهُ اِيۡمَانًا”
ترجمہ:فرمایا اے عمر !اسلام قبول کر لو ۔ اے اللہ ! اس کے دل کو ہدایت کے نور سے روشن کر دے اے اللہ ! عمر بن خطاب کو ہدایت عطا فرما۔ اے اللہ ! عمر بن خطاب کے ذریعہ دین کو عزت بخش۔ اے اللہ ! عمر کے سینہ میں اسلام کی جو عداوت ہے اس کو نکال دے اور اس کو ایمان سے تبدیل کر دے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کے بعد عرض کی۔
“اَشْهَدُ اَنۡ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّكَ رَسُوۡلُ اللهِ ﷺ”
ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے بغیر اور کوئی عبادت کے لائق نہیں اور آپﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ﷺہیں۔
حضور ﷺنے جب یہ سنا تو فرط مسرت سے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ حضورﷺ کے نعرہ کے بعد تمام مسلمانوں نے اس زور سے نعرہ تکبیر لگایا کہ سارے مکہ کی گلیاں اور فضائیں اس نعرہ سے گونج اٹھیں۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جب مشرف با اسلام ہوا تو میں نے بارگاہ رسالت ﷺمیں عرض کی۔ “يَا رَسُوۡلَ اللهِ اَلَسۡنَا عَلَى الْحَقِّ اِنْ مُتْنَا وَاِنْ حُیِّيْنَا”
ترجمہ: اے اللہ کے پیارے رسولﷺ ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟خواہ ہم مریں خواہ ہم زندہ رہیں۔

حضورﷺ نے فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم حق پر ہو خواہ تم مردہ یا زندہ رہو۔ پھر میں نے عرض کی۔
“فَفِيۡمَ الْخِفَآءُ يَا رَسُوۡلَ اللَّهِ ﷺ عَلَامَ نُخْفِيۡ دِيۡنَنَا وَنَحْنُ عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ”
ترجمہ:اے اللہ کے رسول ﷺ! پھر ہم کیوں چھپتے ہیں۔ ہم اپنے دین کو کیوں چھپاتے ہیں حالانکہ ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر ہیں۔

حضورﷺ نے فرمایا اے عمر ! ہماری تعداد کم ہے اور تم دیکھتے ہو جو کفار ہمارے ساتھ برتاؤ کرتے ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی۔
“وَالَّذِيۡ بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا لَا يَبْقٰى مَجْلِسٌ جَلَسْتُ فِيۡهِ بِالۡكُفْرِ اِلَّا جَلَسْتُ فِيۡهِ بِالْاِيۡمَانِ”
ترجمہ: اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺکو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے تمام وہ مجلسیں جن میں، میں کفر کی حالت میں بیٹھا کرتا تھا اب مسلمان ہونے کے بعد میں ان سب میں بیٹھوں گا ۔
پھر ہم دار ارقم سے دو قطاریں بنا کر نکلے ۔ ایک قطار کے آگے آگے میں تھا اور دوسری قطار کے آگے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تھے یہاں تک کہ ہم مسجد حرام میں داخل ہوئے۔ جب قریش نے ہمیں اس حالت میں دیکھا تو ان پر کوہ الم ٹوٹ پڑا میں نے اپنے ایمان کی خبر کو مشتہر کرنے کے لئے جمیل بن معمر کو اطلاع دی۔ اور اس نے شور مچا دیا کہ خطاب کا بیٹا صابی ہو گیا۔ یعنی مرتد ہو گیا۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top