Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 182دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: بارہواں}

(سب سے پہلے ایمان لانے والےحصہ :بارہواں)
《سیدنا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا: حصہ دوم آخری حصہ》


آپ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے سے عالم کفر پر ایک رعب طاری ہو گیا بے آسرا مسلمانوں پر ان کی ستم رانیوں میں بڑی حد تک کمی آ گئی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے اشعار جو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایمان لانے کی خوشی میں بطور شکر و حمد کہے ہیں آپ بھی انہیں پڑھئے اور لطف اٹھائیے۔

حَمِدۡتُ اللهَ حِيۡنَ هَدَى فُؤَادِيۡ
اِلَى الْاِسْلَامِ وَالدِّيۡنِ الۡحَنِيۡفٖ
میں اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں جب اس نے میرے دل کو ہدایت دی اسلام قبول کرنے کے لئے جو دین حنیف ہے۔

لِدِيۡنٍ جَآءَ مِنْ رَبٍّ عَزِيۡزٍ
خَبِيۡرٍ بِالْعِبَادِ بِهِمْ لَطِيۡفٖ
وہ دین جو رب کریم کی طرف سے آیا ہے، جو عزت والا ہے، جو اپنے بندوں کے حالات سے باخبر اور ان کے ساتھ لطف و احسان فرمانے والا ہے۔

اِذَا تُلِيَتْ رَسَائِلُهٗ عَلَيْنَا
تَحَدَّرَ دَمۡعُ ذِي اللُّبِّ الۡحَصِيۡفٖ
جب اس کے پیغاموں کی ہم پر تلاوت کی جاتی ہے تو ہر عقل مند اور زیرک انسان کے آنسو ٹپکنے لگتے ہیں۔
رَسَآئِلُ جَآءَ اَحْمَدُ مِنْ ھُدٰهَا
بِاٰيَاتٍ مُبَيِّنَةِ الْحُرُوۡفٖ
یہ ایسے پیغامات ہیں جو احمد مجتبیﷺ لے کر آئے ہیں ایسی آیات کے ساتھ جن کے حروف روشن ہیں۔

وَ اَحْمَدُ مُصْطَفٰى ﷺفِيۡنَا مُطَاعٌ
فَلَا تَغْسُوۡهُ بِالْقَوْلِ الضَّعِيۡفٖ
احمد مصطفیٰﷺ وہ ہیں جن کی ہم میں اطاعت کی جاتی ہے کوئی کمزور قول اور عقل و فہم سے گری ہوئی کوئی بات ان کا گھراؤ نہیں کرتی۔

مشہور سیرت نگار قاضی محمد سلیمان منصور پوری علیہ الرحمۃ نے اپنی سیرت کی کتاب ” رحمۃ للعالمین” میں حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کی ایک اور وجہ تحریر فرمائی جو بڑی ایمان افروز ہے لکھتے ہیں۔
قرابت کے جوش میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ ابو جہل کے پاس پہنچے اور اس کے سر پر اس زور سے کمان کھینچ ماری کہ وہ زخمی ہو گیا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ پھر نبیﷺ کے پاس گئے اور کہا بھتیجے! تم کو یہ سن کر خوشی ہو گی کہ میں نے ابو جہل سے تمہارا بدلہ لے لیا۔ نبیﷺ نے فرمایا چچا! میں ایسی باتوں سے خوش نہیں ہوا کرتا۔ ہاں آپ رضی اللہ عنہ مسلمان ہو جائیں تو مجھے بڑی خوشی ہو گی۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اسی وقت مسلمان ہو گئے۔
(رحمۃ للعالمین، مطبوعہ غلام علی اینڈ سینز لاہور ،جلد 1، صفحہ 63)

قاضی صاحب علیہ الرحمۃ نے اس کا حوالہ نہیں دیا۔ ہمارے پاس جتنے مراجع ہیں ہمیں ان میں سے کہیں اس کا سراغ نہیں ملا۔ لیکن قاضی صاحب علیہ الرحمۃ کی شفاعت کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یقیناً ان کے پاس اس کا مستند حوالہ ہو گا۔
آپ رضی اللہ عنہ کب ایمان لے آئے: اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اعلان نبوت کے پانچویں سال اور بعض نے اعلان نبوت کے چھٹے سال۔ لیکن علماء محققین کی تحقیق یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ اعلان نبوت کے دوسرے سال مشرف بہ اسلام ہوئے۔ چنانچہ علامہ ابن حجر علیہ الرحمۃ جو فن رجال کے امام ہیں تحریر فرماتے ہیں۔
“وَ اَسْلَمَ فِي السَّنَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ الْبِعْثَةِ وَ لَازَمَ نَصْرَ رَسُوۡلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَاجَرَ مَعَهٗ”
ترجمہ:آپ رضی اللہ عنہ بعثت کے دوسرے سال ایمان لائے دم واپسیں تک رسول اللہﷺکی نصرت میں کمر بستہ رہے اور مکہ سے مدینہ طیبہ ہجرت فرمائی۔
“اَسۡلَمَ فِي السَّنَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ الْمَبْعَثِ”
ترجمہ: آپ رضی اللہ عنہ نبوت کے دوسرے سال مشرف بہ اسلام ہوئے۔
انہوں نے سن چھ کا قول بھی لکھا ہے لیکن “قِیۡلَ” کے ساتھ جو ضعف پر دلالت کرتا ہے۔
علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں۔ “اَسْلَمَ فِي السَّنَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ الْمَبْعَثِ”
ترجمہ: آپ رضی اللہ عنہ بعثت کے دوسرے سال ایمان لے آئے۔
(اسد الغابہ، جلد 2، صفحہ 46)

علامہ احمد بن زینی دحلان “السیرۃ النبویہ” میں لکھتے ہیں۔
“كَانَ اِسْلَامُ حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي السَّنَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ النُّبُوَّةِ عَلَى الصَّحِيۡحِ وَقِيۡلَ فِي السَّنَةِ السَّادِسَةِ”
ترجمہ:صحیح قول یہ ہے کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نبوت کے دوسرے سال ایمان لائے اور بعض نے چھٹا سال لکھا ہے ۔
(السيرة النبویہ، احمد بن زینی دحلان، جلد 1، صفحہ 213)

فضیلۃ الشیخ محمد الصادق العرجون علیہ الرحمۃ اپنی سیرت کی کتاب میں رقمطراز ہیں۔
“فَقَدْ جَذَبَتْ اِلٰى سَاحَتِهَا فِي السَّنَةِ الثَّانِيَةِ مِنْ بَدَءِ وَحۡيِ الرِّسَالَةِ كَمَا قَطَعَ الْحَافِظُ ابْنُ حَجَرِِ بِهٖ فِي الْاِصَابَةِ وَصَدَّرَ بِہٖ اَبُوۡ عُمَرَ بۡنُ عَبۡدِ الۡبَرِّ فِى الْاِسْتِيْعَابِ وَتَبِعَهُمَا الۡقَسۡطَلَانِيُّ فِي الْمَوَاهِبِ اَعَزَّ فَتًى فِيۡ قُرَيْشٍ وَ اَشَدَّ شَکِيۡمَةً اَسۡدُ اللَّهِ وَ اَسَدُ رَسُوۡلِهٖ سَيِّدُ الشُّهَدَآءِ مَرَعْبِلَ كَتَآئِبِ الشِّرْكِ وَالْوَثْنِيَّةِ فِيۡ بَدَرِ وَرَافَعُ رَايَةَ الْاِسْلَامِ وَالتَّوْحِيۡدِ الْفَارِسَ الْمُعْلَمَ اَبُوۡ عَمَارَةَ حَمۡزَةُ بْنُ عَبْدُ الْمُطَّلِبۡ ، عَمُّ رَسُوۡلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ اَخُوۡهُ مِنَ الرِّضَاعِ وَابْنُ خَالِتِهٖ نَسَبًا وَمَنۡزَلَةً فَاُمُّهٗ هَالَۃُ بِنْتُ وهَيْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زَهْرَا اِبْنَةِ عَمِّ اٰمِنَةَ بِنْتِ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ اُمَّ سَيِّدِ الْخَلْقِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ”
ترجمہ:دعوت اسلامی نے وحی رسالت کے آغاز میں دوسرے سال اپنے آغوش میں قریش کے معزز ترین جوان ، بڑے طاقتور ، اللہ اور اس کے رسول ﷺکے شیر، سارے شہیدوں کے سردار ، میدان بدر میں شرک اور بت پرستی کے لشکروں کو تہس نہس کر دینے والے، اسلام اور توحید کے پرچم کو بلند کرنے والے، مشہور شہسوار ابو عمارہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو کھینچ لیا۔ علامہ ابن حجر علیہ الرحمۃ کی یہی قطعی رائے ہے علامہ ابن عبدالبر علیہ الرحمۃ نے “استیعاب” میں اور علامہ قسطلانی علیہ الرحمۃ نے “مواہب” میں اسی قول کو ترجیح دی ہے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے چچا بھی تھے اور رضاعی بھائی بھی تھے اور نسب کے اعتبار سے خالہ کے بیٹے بھی تھے۔ کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ حضر ت ھالہ ، وہیب کی بیٹی تھیں جو حضرت آمنہ جو سید الخلق ﷺ کی والدہ تھیں کے والد وھب کے بھائی تھے۔

بلاشبہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ جیسے مرد میدان، بہادر اور نڈر ، اور قریش کے معزز نوجوان کا بغیر کسی جبر اور بغیر کسی لالچ کے اسلام کو بطیب خاطر قبول کر لینا اسلام کی صداقت کی نا قابل تردید دلیل ہے اور نبی رحمتﷺ کا عظیم الشان معجزہ ہے ۔ یہ امر مسلم ہے کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ غزوہ احد میں شہید ہوئے اور غزوہ احد سنہ 3ھ میں وقوع پذیر ہوا۔ یہ امر بھی اسی قول کی تائید کرتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ دوسرے سال مشرف با اسلام ہوئے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top