Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 180دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: دہم}

(سب سے پہلے ایمان لانے والے، حصہ :دہم)
(حضرت صہیب، حضرت حصین والد عمران اور عمرو بن عتبہ السلمی رضی اللہ عنہم کا ایمان)


حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا: ان کے والد کسریٰ کی حکومت میں اعلیٰ افسر تھے۔ جب رومی لشکر نے ایران پر حملہ کیا حضرت صہیب رضی اللہ عنہ جو کہ ابھی چھوٹے بچے تھے قیدی بنا کر لے گئے۔ انہوں نے روم میں ہی نشوو نما پائی۔ یہاں تک کہ جواں ہو گئے پھر عرب کا ایک گروہ روم گیا۔ ان میں سے کسی نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کو خرید لیا۔ وہ انہیں سوق عكاظ میں لے آیا اور یہاں انہیں فروخت کر دیا۔ پھر عبداللہ بن جدعان نے انہیں خرید لیا جب سرکار دو عالم ﷺ نے نبوت کا اعلان کیا تو ایک روز حضرت صہیب رضی اللہ عنہ حضورﷺ کے کاشانہ اقدس کے ارد گرد چکر لگا رہے تھے۔ وہاں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے پوچھا حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کدھر کا قصد ہے؟ انہوں نے کہا میں حضورﷺ کی گفتگو سننے کے لئے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا ہوں ۔حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا میرا بھی یہی ارادہ ہے دونوں اکٹھے خدمت اقدسﷺ میں حاضر ہوئے حضورﷺ نے انہیں خوش آمدید کہا۔ فرمایا بیٹھ جاؤ ۔ دونوں بیٹھ گئے سرکارﷺ نے دونوں کے سامنے اسلام کی تعلیمات پیش کیں اور قرآن کریم کی چند آیات تلاوت کر کے انہیں سنائیں دونوں کے دل نور ایمان سے منور ہو گئے انہوں نے فورا کلمہ شہادت پڑھ کر اپنے ایمان کا اعلان کر دیا شام تک وہیں حاضر رہے۔ شام کے وقت چھپ چھپا کر اپنے گھروں کو روانہ ہوئے ۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ جب گھر پہنچے والدہ نے پوچھا دن بھر کہاں غائب رہے؟ انہوں نے صاف صاف بات بتا دی اور یہ بھی کہہ دیا کہ وہ اس دین حق کو قبول کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے ماں باپ کے سامنے اسلام کی موثر تعلیمات پیش کیں قرآن کریم کی چند آیتیں جو آج ہی انہوں نے ازبر کی تھیں پڑھ کر سنائیں دونوں اتنے متاثر ہوئے کہ اسی وقت ایمان لانے کا اعلان کر دیا گویا اس ایک دن میں حضرات صہیب، حضرت عمار ، اور ان کے والدین حضرت یاسر اور حضرت سمیہ رضی اللہ عنہم چاروں حلقہ بگوش اسلام ہو گئے ۔
“اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيۡنَ”

حضرت حصین والد حضرت عمران رضی اللہ عنہما کا ایمان لانا: حضرت عمران، حضرت حصین رضی اللہ عنہما کے فرزند پہلے ہی مشرف بہ اسلام ہو چکے تھے۔ اور آج حضرت حصین رضی اللہ عنہ کی سوئی ہوئی قسمت کے بیدار ہونے کی ساعت سعید آ پہنچی تھی۔ ہوا یوں کہ قریش کا ایک وفد ان کے پاس آیا سارے قریش دل سے ان کا ادب و احترام کیا کرتے تھے انہوں نے ایک روز حضرت حصین رضی اللہ عنہ کو آ کر کہا کہ اس شخص نے (حضورﷺ ) ہمیں بہت تنگ کر رکھا ہے۔ ہمارے بتوں کی عیب جوئی کرتا رہتا ہے ہر لحظہ انہیں برا بھلا کہتا ہے۔ تم عقلمند اور زیرک آدمی ہو۔ ذرا جا کر ان کو سمجھاؤ کہ وہ اس سے باز آ جائیں ورنہ اس کا نتیجہ بڑا اندوہناک ہو گا۔ چنانچہ حضرت حصین رضی اللہ عنہ نے قوم کے اس وفد کو ہمراہ لے کر حضور ﷺسے گفتگو کرنے کی غرض سے حضور ﷺکے کاشانہ اقدس کا رخ کیا۔ اور حضورﷺ کے در اقدس کے نزدیک آ کر بیٹھ گئے۔ دوسرے لوگ باہر ٹھہرے رہے۔ اور حضرت حصین رضی اللہ عنہ خود اندر چلے گئے ۔ نبی کریمﷺ نے جب انہیں دیکھا تو اہل مجلس کو فرمایا کہ اپنے سردار کے لئے بیٹھنے کی جگہ کشادہ کرو۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ ان کا بیٹا پہلے ہی وہاں موجود تھے جب سب لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے تو حضرت حصین رضی اللہ عنہ نے سلسلہ گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔ مجھے آپﷺ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ آپﷺ ہمارے خداؤں کو برا بھلا کہتے ہیں اور ان کی ہجو کرتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا اے حصین! تم کتنے خداؤں کی عبادت کرتے ہو؟ انہوں نے کہا ہم سات خداؤں کی جو زمین میں ہیں اور ایک خدا کی جو آسمان میں ہے کی عبادت کرتے ہیں۔ حضورﷺ نے پوچھا کہ اگر تمہیں کوئی ضرر اور تکلیف پہنچے تو کس خدا کو پکارتے ہو۔ کہا اس ایک خدا کو جو آسمان میں ہے پھر پوچھا اگر مال ہلاک ہو جائے تو پھر کس کو پکارتے ہو؟ تو کہا آسمان والے ایک خدا کو۔ حضورﷺ نے فرمایا بڑے افسوس کی بات ہے کہ تمہاری دعائیں تو ایک آسمانی خدا قبول کرتا ہے مصیبتوں سے وہی اکیلا تمہیں نجات دیتا ہے لیکن جب عبادت کا وقت آتا ہے تو زمین کے بے فیض خداؤں کی پوجا بھی کرنے لگتے ہو کیا تم اس شرک کو پسند کرتے ہو؟ اے حصین! اسلام کو قبول کر لو عذاب الہیٰ سے بچ جاؤ گے۔حضورﷺ کی نگاہ کرم سے دلوں پر پڑے ہوئے پردے اٹھ گئے اسی وقت انہوں نے اسلام قبول کر لیا، ان کا بیٹا حضرت عمران رضی اللہ عنہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے وہ اٹھے اپنے والد رضی اللہ عنہ کے سر کو چوما۔ ان کے ہاتھوں کو اور اس کے پاؤں کو بوسہ دیا۔ رؤف و رحیم نبیﷺ کی مبارک آنکھوں سے فرط مسرت سے اشکوں کے موتی ٹپکنے لگے فرمایا میں تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے متاثر ہو کر اشک بار ہوا ہوں۔ حضرت حصین رضی اللہ عنہ جب یہاں آئے تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ بیٹھے رہے جب یہ مسلمان ہو گئے تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ وارفتگی کے عالم میں والد کے پاس دوڑ کر پہنچے ان کے سر کو چوما۔ ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو بوسے دینے لگے۔ ان کے اس طرز عمل سے میں بہت متاثر ہوا ہوں جب حضرت حصین رضی اللہ عنہ واپس جانے لگے ۔
“قَالَ رَسُوۡلُ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِاَصْحَابِهٖ شَيِّعُوۡهُ اِلٰى مَنۡزِلِهٖ”
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ حضرت حصین رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر تک پہنچا آئیں ۔
حضرت حصین رضی اللہ عنہ کے قومی بھائی باہر ان کا انتظار کر رہے تھے انہوں نے دہلیز سے جب قدم باہر رکھا تو ان کے چہرے پر انوار الہیٰ کا ہجوم دیکھ کر سہم گئے اور سمجھ گئے کہ یہ کفر سے رشتہ توڑ چکے ہیں۔ معبودان باطل کی بندگی کی قید سے آزاد ہو چکے ہیں اب یہ ہمارے کسی مصرف کے نہیں۔
(السيرة الحلبیہ ، جلد 1، صفحہ 269 و دیگر کتب سیرت)

حضرت عمرو بن عتبہ السلمی رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا: حضرت عمرو بن عتبہ رضی اللہ عنہ اپنے ایمان لانے کا واقعہ خود بیان فرماتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں ہی میں اپنی قوم کے معبودوں سے بیزار اور متنفر ہو چکا تھا ایسے بتوں کی پرستش کرنا جو نہ نفع پہنچا سکتے ہوں اور نہ نقصان ۔ میرے نزدیک بڑا احمقانہ فعل تھا میں نے اہل کتاب کے ایک عالم سے پوچھا کہ افضل ترین دین کون سا ہے؟ اس نے بتایا کہ عنقریب مکہ میں ایک آدمی ظاہر ہو گا جو اپنی قوم کے معبودوں سے بیزاری کا اعلان کرے گا اور ایک دوسرے خدا کی عبادت کی دعوت دے گا جو دین لے کر وہ آئے گا۔ وہ افضل الادیان ہو گا تم جب اس شخص کے ظہور کے بارے میں سنو تو فورا اس کی اطاعت اختیار کر لو۔ مکہ میں مجھے اور کوئی کام نہ تھا۔ میں بار بار وہاں جاتا تاکہ اس نبی منتظر کے بارے میں معلومات حاصل کروں۔ میں تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد مکہ جایا کرتا۔ اور جا کر دریافت کرتا کہ کیا کوئی نیا واقعہ رو پذیر ہوا ہے۔ جب نفی میں جواب ملتا تو واپس چلا آتا۔ مکہ جانے والی شاہراہ جو ہمارے علاقہ سے گزرتی تھی وہاں سے گزرنے والے قافلوں سے بھی میں ہی استفسار کرتا رہتا آخر ایک روز جب میں مکہ کی شاہراہ پر محو انتظار تھا تو ایک قافلہ کا وہاں سے گزر ہوا۔ میں نے کسی سے پوچھا بتاؤ مکہ کی کوئی نئی بات اس نے کہا نئی بات یہ ہے کہ وہاں ایک شخص ظاہر ہوا ہے جس نے اپنی قوم کے معبودوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور خدائے واحد کی عبادت کی لوگوں کو دعوت دیتا ہے۔ یہ سن کر میری خوشی کی کوئی حد نہ رہی گویا مجھے گوہر مقصود مل گیا۔ سفر کے لئے سامان باندھا اور میں فورا مکہ روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچ کر اپنی سابقہ قیام گاہ پر اپنا سامان رکھا اور اس شخص کی تلاش شروع کر دی آخر اسے ڈھونڈ نکالا وہ وہاں ایک مکان میں خفیہ طور پر لوگوں کو اپنی دعوت پہنچا رہے تھے قریش ان کی مخالفت میں دیوانے ہو رہے تھے بڑی مشکل سے میں ان کے پاس پہنچنے میں کامیاب ہوا وہاں جا کر سلام عرض کیا اور پوچھا آپ ﷺکون ہیں ؟انہوں نے فرمایا میں اللہ کا نبی ہوں ۔ میں نے پوچھا نبی اللہ کیا ہوتا ہے؟ فرمایا وہ اللہ کا فرستادہ ہوتا ہے۔ میں نے پوچھا آپﷺ کو کس نے رسول بنا کر بھیجا؟ فرمایا اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کیا پیغام پہنچانے کے لئے آپﷺ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟
“قَالَ اَنْ تُوۡصِلَ الرِّحْمَ وَتُحْقِنَ الدِّمَآءَ وَ تَاْمَنَ السَّبِيۡلَ وَ تَكۡسُرَ الْاَوْثَانَ وَ تَعْبُدَ اللهَ لَا تُشْرِكَ بِهٖ شَيْئًا”
ترجمہ:آپﷺ نے فرمایا۔ اس نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ میں تمہیں یہ چیزیں بتاؤں کہ صلہ رحمی کیا کرو۔ خونریزی سے اجتناب کیا کرو۔ راستوں کو پر امن رکھا کرو۔ بتوں کو توڑ دو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت بناؤ ۔

یہ سن کر میں نے عرض کی۔ یہ بہترین دعوت ہے۔ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں آپﷺ پر ایمان لے آیا ہوں اور آپﷺ کی تصدیق کرتا ہوں۔ پھر میں نے کہا۔ کیا میں آپﷺ کے پاس ٹھہروں یا واپس وطن چلا جاؤں۔ آپﷺ کی مرضی کیا ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا لوگ ہم سے جس طرح نفرت کرتے ہیں وہ تم دیکھ رہے ہو۔ سر دست تم اپنے گھر واپس چلے جاؤ جب تمہیں پتہ چلے کہ میں مکہ سے ہجرت کر کے کہیں باہر چلا گیا ہوں تو پھر میرے پاس آ جانا۔ کچھ عرصہ بعد مجھے معلوم ہوا کہ حضور ﷺمدینہ منورہ ہجرت کر کے چلے گئے ہیں تو میں بھی حضورﷺ کی خدمت میں وہاں جا پہنچا۔ میں نے عرض کی یا نبی اللہﷺ! کیا آپﷺ نے مجھے پہچان لیا ہے؟ فرمایا ہاں ۔ تم سلمیٰ ہو تم مکہ میں میرے پاس آئے تھے اور میں نے تمہیں یہ یہ باتیں کہی تھیں۔ پھر میں نے عرض کی یا رسول اللہﷺ! دعا کی قبولیت کی بہترین ساعتیں کون سی ہیں؟
“قَالَ جَوۡفُ اللَّيْلِ الْاٰخَرِ وَالصَّلَاةُ مَشْهُوۡدَةٌ مُّتَقَبَّلَةٌ”
ترجمہ: نصف رات کا پچھلا حصہ اور نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ بھی قبولیت دعا کا وقت ہوتا ہے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top