Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 178{دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: ہشتم}

(سب سے پہلے ایمان لانے والےحصہ :ہشتم)
  حضرت عبداللہ بن مسعود اور خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہما کا ایمان لانا 

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا: امام ابو داؤد طیالسی علیہ الرحمۃ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان کے ایمان لانے کا واقعہ ان کی زبانی یوں بیان کیا ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اپنی نو عمری کے زمانہ میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں مکہ کے گرد و نواح میں چرایا کرتا تھا۔ ایک روز میرے پاس حضور نبی کریم ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور مجھے فرمایا اے نوجوان ! کیا ہمیں دودھ پلاؤ گے؟ میں نے جواب دیا کہ دودھ تو ہے لیکن میں امین ہوں ۔ امانت میں خیانت نہیں کر سکتا اس لئے آپ حضرات کو دودھ پلانے سے معذور ہوں ۔

حضورﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس ایسی پٹھ ہے جس سے کسی نر نے جفتی نہ کی ہو۔ میں نے عرض کی جی ہاں چنانچہ میں ایک پٹھ کو پکڑ کر لے آیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے رسی سے جکڑا اور نبی مکرم ﷺنے اس کی کھیری کو پکڑ کر دعا کی وہ اسی وقت دودھ سے لبریز ہو گئی۔ حضورﷺ نے اسے دوہا۔ پہلے وہ دودھ مجھے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پلایا پھر خود نوش فرمایا۔ پھر اس کھیری کو حکم دیا: “اِقۡلِصۡ” ترجمہ: سکڑ جا۔
وہ پہلے کی طرح سکڑ گئی۔ یہ معجزہ دیکھ کر میں نے اسلام قبول کیا اور عرض کی :
“یَا رَسُوۡلَ اللہِ ﷺ عَلِّمۡنِيۡ” ترجمہ: مجھے کچھ سکھائیے۔ حضورﷺ نے میرے سر پر دست شفقت پھیرا اور فرمایا: “بَارَكَ اللهُ فِيۡكَ فَاِنَّكَ غُلَامٌ مُعَلِّمٌ: ترجمہ: اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی برکتوں سے نوازے۔ تم تعلیم یافتہ نوجوان ہو۔

حضورﷺ کے اس ارشاد کی برکت سے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا شمار طبقہ صحابہ کے جلیل القدر علماء میں ہوتا تھا۔ حضورﷺان کا بہت احترام کرتے بارگاہ رسالتﷺ میں ہر وقت حاضری کی انہیں اجازت تھی۔ حضورﷺ کی خدمت میں ہر وقت مشغول رہتے ۔ حضورﷺ غسل فرماتے تو یہ پردہ تان کر کھڑے ہو جاتے۔ نعلین مبارک پہناتے۔ حضورﷺ جب اپنی نعلین اتارتے تو وہ انہیں اٹھا کر اپنی آستین میں رکھ لیتے۔ سرکار دو عالم ﷺنے انہیں جنت کی خوشخبری سے نوازا تھا۔
(ان السيرة الحلبیہ، جلد 1، صفحہ 266 ، السيرة النبویہ ، لابن کثیر، جلد 1، صفحہ 444)

حضرت خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا: انہوں نے ایک رات خواب دیکھا کہ وہ آگ کے ایک وسیع و عریض گڑھے کے کنارے پر کھڑے ہیں۔ کوئی شخص انہیں دھکا دے کر اس گڑھے میں گرانا چاہتا ہے۔ لیکن حضور سرور عالم ﷺ نے انہیں کمر سے پکڑ رکھا ہے اور اس گڑھے میں انہیں گرنے نہیں دیتے۔ گھبرا کر جاگ اٹھے اور اپنے آپ سے کہنے لگے بخدا یہ سچا خواب ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ چونکہ خوابوں کی تعبیر میں بڑے ماہر تھے اس لئے ان کے پاس گئے اور اپنا خواب سنایا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر بڑا احسان کیا ہے یہ اللہ کے رسولﷺ ہیں۔ ان کا دامن پکڑ لو، ان کی برکت سے تمہیں دولت ایمان نصیب ہو گی تم مسلمان ہو جاؤ گے، اور اسلام تمہیں دوزخ میں گرنے سے بچا لے گا۔ اس وقت حضور ﷺ محلہ اجیاد میں رونق افروز تھے خدمت عالیٰ میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے۔عرض کی یا رسول اللہﷺ ! آپﷺ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا۔ میں تمہیں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک مانو۔ مجھے اس کا بندہ اور رسول یقین کرو۔ اور جن پتھروں کی تم عبادت کیا کرتے تھے۔ جو نہ سن سکتے نہ دیکھ سکتے نہ ضرر پہنچا سکتے اور نہ نفع پہنچا سکتے ہیں ان سب کی عبادت کا طوق اپنے گلے سے اتار کر پھینک دو۔حضورﷺ کے اس وعظ سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے دل کی دنیا بدل گئی۔ اور بے ساخۃ کہہ اٹھے۔
“فَاِنِّيۡ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ وَ اَشْهَدُ اَنَّكَ رَسُوۡلُ اللَّهِ ﷺ.” حضورﷺ کو ان کے ایمان لانے سے از حد مسرت ہوئی۔

ایمان لانے کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ اپنے والد کے ڈر سے رو پوش ہو گئے والد کو جب ان کے مسلمان ہونے کی خبر ملی۔ تو ان کی تلاش میں کسی کو بھیجا چنانچہ انہیں پکڑ کر والد کے سامنے پیش کیا گیا والد نے پہلے زبانی سرزنش کی۔ اور جب اس کا خاطر خواہ اثر نہ ہوا تو ایک ڈنڈے سے ان کے سر پر ضربیں لگانا شروع کیں یہاں تک کہ وہ ڈنڈا ٹوٹ گیا۔ پھر دھمکی دی کہ اگر تم باز نہیں آؤ گے تو میں رزق کے دروازے تمہارے لئے بند کر دوں گا۔ یہاں تک کہ تم بھوک سے ایڑیاں رگڑتے رگڑتے دم توڑ دو گے۔ لیکن جن کے سروں میں عشق کا خمار سما جاتا ہے۔ وہ ایسی باتوں کو کب خاطر میں لاتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ بڑے صبر سے مار پیٹ سہتے رہے ۔ والد کی کڑوی کسیلی باتیں اور دھمکیاں سنتے رہے ۔ اور آخر میں ایک جملہ سے اپنا مدعا بیان کر دیا۔ کہا “اِنْ مَّنَعْتَنِيۡ فَاِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُنِيۡ مَا اَعِيۡشُ بِهٖ” ترجمہ: اے ابا جان! اگر آپ میرا آب و دانہ بند کر دیں گے تو میرا اللہ میرے رزق کا سامان فرما دے گا جس پر میں زندگی گزاروں گا۔
یہ کہہ کر حضورﷺ کی خدمت عالیٰ میں حاضر ہو گئے حضورﷺ ان کی بڑی عزت فرماتے اور آپ رضی اللہ عنہ ہمیشہ حضورﷺ کے قدموں میں حاضر رہتے۔
(السيرة النبویہ ، ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 445)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top