(سب سے پہلے ایمان لانے والے:حصہ اول)
《ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا》
تمام ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ
“خَدِيۡجَةُ اَوَّلُ خَلْقِ اللهِ اَسْلَمَ بِاِجْمَاعِ الْمُسْلِمِيۡنَ لَمْ يَتَقَدَّمۡهَا رَجُلٌ وَّلَا اِمْرَاَةٌ”
ترجمہ: یعنی اللہ کی ساری مخلوق میں سب سے پہلے ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا اسلام لائیں۔ مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ کوئی مرد اور کوئی عورت آپ رضی اللہ عنہا سے پہلے اسلام نہیں لایا۔
(الکامل ابن اثیر، جلد دوم، صفحہ 37)
علامہ ابن ہشام علیہ الرحمۃ اپنی سیرت میں رقمطراز ہیں۔
“وَاٰمَنَتْ بِهٖ خَدِيۡجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِِ وَصَدَّقَتْ بِمَا جَآءَهٗ مِنَ اللهِ وَ وَازَرَتْہُ عَلٰٓى اَمْرِهٖ وَكَانَتْ اَوَّلُ مَنْ اٰمَنَ بِاللَّهِ وَبِرَسُوۡلِہٖ صَدَقَتْ بِمَا جَآءَ مِنْهُ وَخَفَّفَ اللهُ بِذٰلِكَ عَنْ نَبِيِّهٖ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْمَعُ شَيْئًا مِّمَّا يَكْرَهُہٗ مِنْ رَدٍّ عَلَيْهِ وَتَكْذِيۡبٍ لَهٗ فَيَحْزِنَهٗ ذٰلِكَ اِلَّا فَرَّجَ اللہُ عَنْهُ بِهَآ اِذَا رَجَعَ اِلَيْهَا تُثَبِّتُهٗ وَتُخَفِّفُ عَلَيْهِ وَتُصَدِّقُهٗ وَتُهَوِّنُ عَلَيْهِ اَمْرَ النَّاسِ رَحِمَهَا اللهُ تَعَالٰى”
ترجمہ: نبی کریم ﷺ پر حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ایمان لے آئیں۔ حضورﷺ کی تصدیق کی اور رسالت کی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں حضورﷺ کی ڈھارس بندھائی۔ آپ رضی اللہ عنہا سب سے پہلے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لے آئیں۔ حضورﷺ کی تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ اپنے محبوب نبیﷺ کے بوجھ کو ہلکا کیا۔ جب مخالفین حضورﷺ کے ساتھ تلخ کلامی کرتے یا جھٹلاتے تو حضورﷺ کو بہت دکھ ہوتا لیکن حضورﷺ جب گھر تشریف لاتے تو ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایسی گفتگو کرتیں کہ غم و اندوہ کے بادل چھٹ جاتے۔ وہ حضورﷺ کو ثابت قدمی پر ابھارتیں۔ اس غم کو ہلکا کرتیں۔ حضورﷺ کی تصدیق کرتیں۔ اس طرح لوگوں کی مخالفتوں کے باعث دل کو جو ملال اور رنج پہنچتا اس کا ازالہ کر دیتیں اللہ تعالیٰ کی آپ رضی اللہ عنہا پر رحمتیں ہوں ۔
(السيرة النبویہ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ259)
ایمان لانے میں سب سے سبقت لے جانے اور ہر مرحلہ پر نبی اکرم ﷺ کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی کرتے رہنے کا صلہ بارگاہ الہیٰ سے حضرت ام المؤمنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو یہ ملا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کو سرور انبیاءﷺ کے پاس بھیجا۔ جب حضورﷺ غار حرا میں تشریف فرما تھے۔ انہوں نے آ کر عرض کی۔
“اِقْرَاْ عَلَيْهَا السَّلَامُ مِنْ رَّبِّهَا وَمِنِّىۡ وَبَشِّرۡهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَّا صَخَبَ فِيۡهِ وَلَا نَصَبَ فَقَالَتْ هُوَ السَّلَامُ وَ مِنْهُ السَّلَامُ وَ عَلٰى جِبْرَئِيۡلَ السَّلَامُ وَعَلَيْكَ يَا رَسُوۡلَ اللهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهٗ”
ترجمہ: یا رسول اللہﷺ! اپنے رب کی طرف سے اور میری طرف سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سلام پہنچائیے اور انہیں خوشخبری دیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جنت میں موتیوں کا بنا ہوا ایک محل مخصوص کیا ہے جس میں کوئی شور نہیں ہو گا اور نہ کوئی کوفت۔ ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی سلام ہے ساری سلامتیاں اسی سے ہیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام پر سلام ہو۔ اور یا رسول اللہﷺ آپ ﷺپر سلام ہو نیز اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں ۔
(السيرة النبویہ ، احمد بن زینی دحلان، جلد اول، صفحہ175)
اس جواب میں بارگاہ صمدیتﷺ کے آداب کا جس طرح خیال رکھا گیا ہے اس سے جہاں آپ رضی اللہ عنہا کی عقلمندی اور دانشمندی کا پتہ چلتا ہے اس طرح آپ رضی اللہ عنہا کی ایمانی قوت اور یقین کی نور افشانیاں بھی نمایاں ہو رہی ہیں۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲