Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 170 بعثت مبارکہ (حصہ بارہواں)

(آغاز رسالت و حکم الٰہی)


آغاز رسالتﷺ: نبوت کا اظہار تو سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات کے نزول سے ہو گیا۔ لیکن رسالت کا آغاز اُس وقت ہوا جب سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں۔ ارشاد فرمایا گیا۔
یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿1﴾ قُمۡ فَاَنۡذِرۡ ۪ۙ﴿2﴾ وَ رَبَّکَ فَکَبِّرۡ ۪﴿3﴾ وَ ثِیَابَکَ فَطَہِّرۡ ۪﴿4﴾وَ الرُّجۡزَ فَاہۡجُرۡ ۪﴿ۙ5﴾ وَ لَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَکۡثِرْ ۪﴿6﴾ وَ لِرَبِّکَ فَاصۡبِرۡ ؕ﴿7﴾
ترجمہ:اے چادر اوڑھنے والے (حبیب!)۔ اُٹھیں اور (لوگوں کو اللہ کا) ڈر سنائیں۔اور اپنے رب کی بڑائی (اور عظمت) بیان فرمائیں۔اور اپنے (ظاہر و باطن کے) لباس (پہلے کی طرح ہمیشہ) پاک رکھیں۔اور (حسبِ سابق گناہوں اور) بتوں سے الگ رہیں۔اور (اس غرض سے کسی پر) احسان نہ کریں کہ اس سے زیادہ کے طالب ہوں۔اور آپ اپنے رب کے لئے صبر کیا کریں۔

اور اپنے رب کی رضا کے لئے صبر کیجئے۔ اپنے رب کریم کا یہ حکم ملتے ہی سرور عالم ﷺ نے کمر ہمت باندھ لی حق کا علم بلند کرنے کے لئے، ظلمت کدہ عالم کو نور توحید سے منور کرنے کے لئے باطل کو ہر میدان میں شکست فاش دینے کے لئے یتیم مکہ نے عزم مصمم کر لیا۔ بادیہ ضلالت میں صدیوں سے بھٹکنے والے قافلہ انسانیت کو منزل مراد تک پہنچانے کے لئے جو قدم اٹھا۔ وہ ہمیشہ آگے ہی بڑھتا گیا۔ مخالفت کا کوئی طوفان اس کی برق رفتاری کو متاثر نہ کر سکا۔ عداوت و حسد کے کتنے ہی آتش کدے بھڑکائے گئے لیکن اس بشیر و نذیر رسولﷺ کے مبارک قدموں کی برکت سے وہ گلستانوں میں تبدیل ہوتے گئے۔ تند و تیز آندھیاں اس کے روشن کئے ہوئے چراغوں کو بجھا نہ سکیں، اس کے جاں نثاروں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے لیکن ان کی حوصلہ مندیوں میں ذرا فرق نمایاں نہ ہوا۔ یہ وہ آیات طیبات ہیں جن سے رسالت محمدیﷺ کا آغاز ہوا۔

حکم الہیٰ: نزول وحی کے بعد سب سے پہلا حکم الہیٰ نماز ادا کرنے کے بارے میں تھا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام ، حضور ﷺ کو ہمراہ لے کر ایک وادی میں سے گزرے۔حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنا پَر مارا۔ وہاں سے پانی کا ایک چشمہ ابل پڑا۔ حضور ﷺ کی موجودگی میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے وضو کیا۔ پھر سرکار دو عالم ﷺ نے اسی طرح وضو کیا پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضورﷺ کی معیت میں نماز ادا کی یہ نماز دو رکعتوں پر مشتمل تھی۔ اس کی ادائیگی کے دو وقت تھے طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے۔ پانچ وقت کی نماز تو “اسراء” کی رات فرض ہوئی۔ ان کے اوقات کی تعلیم کے لئے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام دو روز برابر حاضر ہوتے رہے اور حضورﷺ کو نماز پڑھنے کا طریقہ اور اس کے اوقات کی تعلیم دیتے رہے۔

چنانچہ علامہ محمد بن یوسف صالحی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں۔
“قَالَ السُّهَيۡلِيُّ ذَكَرَ الْحَرَبِيُّ وَيَحْيٰى بْنُ سَلَامٍ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ قَبْلَ الْاِسْرَآءِ صَلٰوةٌ قَبْلَ غُرُوۡبِ الشَّمْسِ وَصَلٰوةٌ قَبْلَ طُلُوۡعِهَا، وَنَقَلَ ابْنُ الْجُوۡزِيِّ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ فَرَضَ اللهُ تَعَالٰى عَلَى الْمُسْلِمِيۡنَ فِيۡ اَوَّلِ الْاِسْلَامِ رَکَعۡتَيْنِ بِالْغَدَاةِ وَرَكْعَتَيْنِ بِالْعَشِيِّ”
ترجمہ:امام سہیلی علیہ الرحمۃ کہتے ہیں کہ حربی اور یحیٰ بن سلام علیہما الرحمۃ نے کہا کہ شب معراج سے قبل دو نمازیں فرض تھیں، ایک غروب آفتاب سے پہلے اور ایک طلوع آفتاب سے پہلے ابن جوزی علیہ الرحمۃ نے مقاتل بن سلیمان علیہ الرحمۃ سے نقل کیا ہے کہ ابتدائے اسلام میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر دو رکعتیں صبح کو اور دو رکعتیں شام کو فرض کی تھیں۔
(سبل الہدیٰ والرشاد جلد دوم، صفحہ200)

وضو کی آیت تو مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی ۔ لیکن وضو کی فرضیت کا حکم پہلی نماز کی فرضیت کے ساتھ دیا گیا حضور نبی کریمﷺ نے بغیر وضو کے کوئی نماز ادا نہیں کی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس آیت کو آیت تیمّم فرمایا کرتی تھیں کیونکہ تیمّم کا حکم پہلی بار اس آیت میں نازل ہوا۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top