Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 169 بعثت مبارکہ (حصہ گیارہواں)

(فترۃ الوحی ~ حصہ دوئم آخری حصہ) 


شیخ عرجون فرماتے ہیں کہ سند کے لحاظ سے اس بلاغ کو قابل اعتبار تسلیم کر بھی لیا جائے تو حدیث کی صحت کے لئے اتنا ہی کافی نہیں بلکہ سند کی صحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا متن بھی صحیح ہو اور متن کے صحیح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دین کے اصولوں میں سے کسی اصول کے ساتھ ٹکراتا نہ ہو۔

چنانچہ علامہ عرجون علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں۔
“فَصِحَةُ الْمَتَنِ شَرۡطٌ مَعَ صِحَةِ السَّنَدِ فِيۡ قُبُوۡلِ النَّصِ الْمَسْمُوۡعِ بِمَعْنَىۡ اَنَّ الْحَدِيۡثَ يَجِبُ اَنْ يَّكُوۡنَ صَحِيۡحَ السَّنَدِ مَرۡوِيًّا عَنِ الثِّقَاتِ وَالضَّابِطِيۡنَ وَيَجِبُ مَعَ ذٰلِكَ اَنْ يَّكُوۡنَ صَحِيۡحَ المَتَنِ فَلَا يَتَعَارَضُ مَعَ اَصْلٍ مِّنْ اُصُوۡلِ الْاِيۡمَانِ الْمُتَّفَقُ عَلَيْهَا بَيْنَ اَئِمَّةِ الدِّيۡنِ وَالْعِلْمِ وَلَا يَتَعَارَضُ مَعَ الدَّلَائِلِ الظَّاهِرَةِ الَّتِيۡ تُخَالِفُ مَدْلُوۡلَ النَّصِّ الْمَرْوِيِّ بِالسَّنَدِ الصَّحِيۡحِ”
ترجمہ: سند کے صحیح ہونے کے ساتھ ساتھ متن کا صحیح ہونا بھی شرط ہے۔ یعنی ضروری ہے کہ وہ حدیث ایسے راویوں سے مروی ہو جو ثقہ اور ضابط ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ متن بھی صحیح ہو۔ یعنی ایمان کے وہ اصول جو ائمہ دین کے نزدیک متفق علیہ ہیں ان اصولوں میں سے کسی اصول کے ساتھ یہ متن ٹکرا نہ رہا ہو۔ اور ان قوی دلائل کے مخالف نہ ہو۔
(محمد رسول الله ، جلد اول، صفحہ 386 – 387)

جب علماء حدیث کے نزدیک صحت حدیث کے لئے یہ تسلیم شدہ اصول ہے تو پھر یہ روایت صحیح نہیں ہو گی کیونکہ یہ اس معیار پر پوری نہیں اترتی۔ کیونکہ اس سے عصمت انبیاء کا عقیدہ مجروح ہو جاتا ہے اور یہ عقیدہ دین اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول ہے۔ حضورﷺ کا بار بار حالت یاس میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر اس ارادہ سے جانا کہ اپنے آپ کو گرا کر زندگی کا خاتمہ کر دیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ العیاذ باللہ حضورﷺ کو اپنی نبوت پر ایمان راسخ نہیں تھا۔ حضور ﷺ کی عصمت کی اجلی چادر پر اس سے زیادہ سیاہ داغ اور کیا لگایا جا سکتا ہے۔

اس روایت کے ضعیف ہونے کی دوسری دلیل یہ ہے۔ کہ فترة وحی کے بارے میں جو روایت مرفوعاً حضور سرور عالم ﷺ سے مروی ہے اس میں ان باتوں کا کوئی ذکر نہیں۔ یہ حدیث ہم امام بخاری علیہ الرحمۃ کے حوالہ سے اس بحث کی ابتدا میں نقل کر آئے ہیں آپ اس پر دوبارہ ایک نظر ڈال لیجئے آپ کو اس قسم کا کوئی اشارہ بھی وہاں نہیں ملے گا۔
مرفوع حدیث، مرسل حدیث سے یقیناً راجح ہوتی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ حدیث بھی امام زہری علیہ الرحمۃ کے واسطہ سے مروی ہے ہمارے سامنے امام زہری علیہ الرحمۃ کی دو روایتیں ہیں ایک مرفوع متصل اور دوسری مرسل اور مقطوع ۔ اب آپ فیصلہ کریں کہ ان میں سے آپ کس کو ترجیح دیں گے یقیناً مرفوع متصل کو ہی آپ ترجیح دیں گے اور اس میں اس واقعہ کے بارے میں اشارہ بھی کہیں ذکر نہیں اگرچہ شیخ عرجون علیہ الرحمۃ نے دلائل کے انبار لگا دیے ہیں اور ان کی ہر دلیل بڑی بصیرت افروز اور ایمان پرور ہے لیکن ہم انہیں دلائل کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں امید ہے قارئین کرام پر یہ حقیقت آشکارا ہو گئی ہو گی کہ وہ روایت جس میں پہاڑ سے اپنے آپ کو گرا دینے کے ارادے کا ذکر ہے پایۂ اعتبار سے ساقط ہے اس لئے قابل اعتنا نہیں۔

فترة وحی کے زمانے سے مراد یہ ہے کہ اس عرصہ میں وحی کا نزول نہیں ہوا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بارگاہ رسالتﷺ میں حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کی آمد و رفت کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔ اس میں حکمت یہ تھی کہ پہلی وحی کے نزول کے وقت جو رعب اور ہیبت طاری ہو گئی تھی اس کا اثر زائل ہو جائے نیز دوبارہ وحی کے نزول کے لئے ذوق شوق اپنے عروج پر پہنچے۔
اب ہم دوسرے سوال پر غور کرتے ہیں کہ فترة الوحی کا سلسلہ کتنے عرصہ تک جاری رہا؟

اس کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ امام احمد علیہ الرحمۃ نے اپنی تاریخ میں امام شعبی علیہ الرحمۃ سے یہ قول نقل کیا ہے۔
“اِنَّ فَتْرَةَ الْوَحْيِ كَانَتْ ثَلَاثَ سِنِيۡنَ” ترجمہ: کہ فترة الوحی کی مدت تین سال تھی۔
امام سہیلی علیہ الرحمۃ نے اڑھائی سال کی مدت بتائی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول یہ ہے کہ یہ مدت چالیس روز تھی۔ تفسیر ابن جوزی میں پندرہ دن اور مقاتل نے یہ مدت تین دن بتائی ہے امام محمد بن یوسف الصالحی علیہ الرحمۃ یہ اقوال لکھنے کے بعد فرماتے ہیں۔
“لَعَلَّ هٰذَا هُوَ الْاَشْبَهُ بِحَالِهٖ عِنْدَ رَبِّهٖ لَا مَا ذَكَرَهُ السُّهَيْلِيُّ وَاحۡتَجَّ لِصِحَّتِہٖ”
ترجمہ: بارگاہ الٰہی میں جو مقام حضور ﷺ کو حاصل ہے اس کے پیش نظر یہ آخری قول ( تین دن ) زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے بہ نسبت اس قول کے جو امام سہیلی علیہ الرحمۃ نے کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں۔
بعض لوگوں نے شعبی کی روایت کو صحیح قرار دیتے ہوئے فترہ کی مدت اڑھائی سال قرار دی ہے لیکن شعبی کی روایت مرسل ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مرفوع روایت کے معارض ہے جس کو ابن سعد علیہ الرحمۃ نے آپ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔
“وَلٰكِنْ يُعَارِضُہٗ مَا اَخْرَجَهٗ اِبْنُ سَعْدِِ مِنْ حَدِيۡثِ ابْنِ عَبَّاسِِ بِنَحْوِ هٰذَا الْبَلَاءِ الَّذِيۡ ذَكَرَهُ الزُّهْرِىۡ وَقَوْلُهٗ مَكَثَ اَيَّامًا بَعۡدَ مَجِيۡءِ الۡوَحۡيِ لَا يَرٰى جِبْرَئِيۡلَ ثُمَّ تَتَابَعَ الْوَحْىُ”
ترجمہ: امام شعبی علیہ الرحمۃ کی اس روایت کے بر عکس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنی روایت میں فترة وحی کی مدت صرف چند روز بتائی ہے جیسے ابن سعد علیہ الرحمۃ نے ان سے نقل کیا ہے۔ اور یہ روایت کیونکہ مرفوع ہے اس لئے شعبی کی روایت سے اقویٰ اور ارجح ہے۔
(فتح الباری، کتاب التعبیر، جلد اول، صفحہ313)

آخری تحقیق طلب امر یہ ہے کہ قرآن کریم کی کون سی آیات سب سے پہلے نازل ہوئیں۔ مشہور روایت تو یہ ہے کہ سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیتیں۔ “اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ” سب سے پہلے نازل ہونے والی آیتیں ہیں۔ چند روایات میں یہ مذکور ہے کہ سورۃ مدثر کی ابتدائی آیات کو اولیت کا شرف حاصل ہے۔ اور بعض روایات میں سورۃ والضحیٰ کو سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت کہا گیا ہے ان مختلف روایات کی تطبیق یوں کی گئی ہے کہ حقیقی اولیت کا شرف تو اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِىۡ آیۃ کو حاصل ہے اور فترة وحی کےاختتام پر سب سے پہلے جو آیتیں نازل ہوئیں وہ سورۃ المدثر کی پہلی آیتیں ہیں “یٰٓاَیُّھَا الۡمُدَّثِّرُ تا وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرُ” کیونکہ صحیحین کی روایت اس کی تائید کرتی ہے۔

چنانچہ علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں۔
“فَهٰذَا كَانَ اَوَّلُ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْاٰنِ بَعْدَ فَتْرَةِ الْوَحۡيِ لَا مُطۡلَقًا ذَاكَ قَوْلُهٗ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ”
ترجمہ: سورہ مدثر کو اول اس لحاظ سے کہا گیا ہے کہ فترة وحی کے بعد سب سے پہلے اس کا نزول ہوا۔ ورنہ مطلقاً اولیت کا شرف اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیۡ خَلَقَ کو حاصل ہے۔
(السيرة النبویہ ابن کثیر، جلد اول، صفحہ412)

پھر کچھ عرصہ بعد نبی کریم ﷺ بیمار ہو گئے علالت کی وجہ سے رات کا قیام بھی نہ ہو سکا جس پر ایک مشرک عورت نے بڑی بے حیائی کا ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ جو صحیح بخاری میں بایں الفاظ مروی ہے۔
“عَنْ جَنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوۡلَ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِشْتَكٰى فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ اَوْ ثَلَاثًا فَجَآءَتْ اِمْرَاَةٌ وَقَالَتْ يَا مُحَمَّدُ اِنِّيۡ لَاَرۡجُوۡ اَنْ يَّكُوۡنَ شَيْطَانُكَ قَدْ تَرَكَكَ لَمْ يَقْرُبۡكَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ اَوْثَلَاثٍ فَاَنْزَلَ اللهُ تَعَالٰى وَالضُّحٰى اِلٰى اٰخِرِ السُّوۡرَةِ”
ترجمہ: جندب بن سفیان البجلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ بیمار ہو گئے اور دو یا تین راتیں قیام نہ فرما سکے پس ایک مشرک عورت آئی اور کہنے لگی یا محمد(ﷺ) میں خیال کرتی ہوں کہ (نعوذ باللہ ) تیرے شیطان نے تجھے چھوڑ دیا ہے۔ اور دو تین رات سے تیرے قریب نہیں آیا (اس دلخراش اور نازیبا جملہ سے سرکار دو عالمﷺ کے قلب نازک کو جو تکلیف ہوئی ہوگی اس کا آپ بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں ) اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺ کی دلجوئی کے لئے یہ سورہ مبارکہ ( والضحی ) نازل فرمائی ۔
(صحیح بخاری کتاب التفسیر سورۃوالضحی)

ان تمام روایات کو سامنے رکھتے ہوئے بآسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وحی کا آغاز اِقۡرَاۡٔ سے ہوا کچھ عرصہ کے لئے نزول وحی کا سلسلہ منقطع رہا۔ جب از سر نو وحی کا نزول شروع ہوا تو پہلے یٰٓاَیُّھَا الۡمُدَّثِّرُ آیات نازل ہوئیں۔ پھر کچھ عرصہ بعد حضورﷺ کا مزاج ہمایوں نا ساز ہو گیا جس کی وجہ سے قیام لیل کا عمل موقوف ہو گیا۔ اس اثناء میں کفار نے طعن و تشنیع کے تیر چلانے شروع کر دیئے اس کے بعد سب سے پہلے سورۃ والضحیٰ نازل ہوئی۔ جس میں بڑے پیارے انداز میں رب کائنات نے اپنے محبوبﷺ کو دلاسے دیئے اور دلجوئیاں کیں۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top