Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 168بعثت مبارکہ: حصہ دہم}

(فترۃ الوحی:حصہ اول)


یہ بات وضاحت سے لکھی جا چکی ہے کہ جب سرور عالمﷺ کی حیات طیبہ کے چالیس سال پورے ہو گئے تو ماہ ربیع الاول میں آثار نبوت کا ظہور سچے خوابوں کی صورت میں شروع ہو گیا۔ چھ ماہ تک یہ سلسلہ جاری رہا پھر رمضان المبارک کے مہینہ میں جب حضور پر نور ﷺ حسب معمول غار حرا کی خلوتوں میں گوشہ نشین تھے عبادت و ذکر الہیٰ اور آیات ربانی میں غور و تدبر میں شب و روز منہمک تھے اس ماہ کی ایک با برکت رات کی ایک سعید ترین ساعت میں نزول وحی کا آغاز ہوا اور حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے حضور ﷺکو آپﷺ کے رب قدوس کا پہلا روح پَرْوَرٗ پیغام پہنچایا۔ “اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ”
( سورۃ علق، آیات1تا5 )

کچھ عرصہ کے لئے نزول وحی کا سلسلہ رک گیا۔ کان، سَروشِ غَیب (فرشتے کی آواز) کی لذتوں سے آشنا ہو چکے ہیں۔ روح اس پیغام کی لطافتوں کا مزا چکھ چکی ہے ۔ دل بے قرار کو ان پیارے پیارے جملوں میں سکون و اطمینان کا ایک گراں بہا خزانہ مل گیا ہے غار حرا کا خلوت نشین اس لطف عمیم کے لئے سراپا انتظار ہے وہ لمحہ اب کب آتا ہے جب محبوب حقیقی کی دل نواز صدا فردوس گوش بنے گی۔ روح کو قرار اور دل کو چین نصیب ہو گا۔ کئی راتیں گزر گئی ہیں۔ کئی دن بیت گئے ہیں۔ لیکن وہ سعادت آگیں گھڑی دوبارہ نہیں آئی۔ معلوم نہیں وہ قاصد فرخندہ پھر کب آئے گا۔ اگر وہ نہ آیا تو پھر کیا ہو گا ، اس جان حزیں پر کیا گزرے گی، دل مضطرب کا کیا حال ہو گا۔

اللہ تعالیٰ کو اپنے محبوبﷺ کی یہ بے قراری اور بے چینی گوارا نہ ہوئی ۔ کچھ عرصہ بعد نزول وحی کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کا ذکر امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں یوں کیا ہے۔
“قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَ اَخْبَرَنِيۡ اَبُوۡ سَلۡمَةَ اِبْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْاَنْصَارِيَّ قَالَ وَ هُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحۡيِ وَقَالَ فِيۡ حَدِيۡثِہٖ بَيْنَ اَنَا اَمْشِيۡ اِذْ سَمِعْتُ صَوۡتًا مِّنَ السَّمَآءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِىۡ فَاِذَا الْمَلَكُ الَّذِيۡ جَآءَنِيۡ بِحِرَآءَ جَالِسٌ عَلٰى كُرۡسِيٍّ بَيْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ فَرُعِبْتُ مِنْهُ فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُوۡنِيۡ فَاَنْزَلَ اللهُ تَعَالٰى يٰاَیُّهَا الْمُدَّثِرُ قُمْ فَاَنْذِرُ○ اِلٰى قَوْلِهٖ “وَالرُّجۡزَ فَاهْجُرُ” فَحَمَى الْوَحْىُ وَ تَتَابَعَ”
ترجمہ: ابن شہاب زہری علیہ الرحمۃ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے خبر دی کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ جب فترة وحی کی حدیث بیان کر رہے تھے تو انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ نے فرمایا: دریں اثنا میں ( حراء سے واپسی پر وادی میں ) چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے آواز سنی۔ میں نے اپنی نگاہیں اوپر اٹھا کر دیکھا تو اچانک مجھے وہ فرشتہ نظر آیا جو حراء میں میرے پاس آیا تھا۔ وہ فرشتہ زمین و آسمان کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اسے اس حالت میں دیکھ کر میں مرعوب سا ہو گیا پھر میں گھر لوٹ آیا میں نے کہا مجھے چادر اوڑھا دو جب میں چادر اوڑھ کر لیٹا ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات مجھ پر نازل فرمائیں۔
“يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ○ قُمْ فَأَنْذِرْ○ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ○ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ○ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ○”
ترجمہ: اے چادر اوڑھنے والے! اٹھئے اور لوگوں کو ڈرائیے اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کیجئے اور اپنے لباس کو پاک رکھئے اور بتوں سے (حسب سابق ) دور رہیے۔

اس کے بعد نزول وحی کا سلسلہ بڑی سر گرمی سے شروع ہو گیا۔ یہاں چند اہم امور غور طلب ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے ان پر غور کرنا ضروری ہے۔
1) اس روایت کی اصلیت کیا ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ فترة وحی کے عرصہ میں حضور کریم ﷺ نے مایوسی کی حالت میں پہاڑ کی چوٹی سے اپنے آپ کو نیچے گرا دینے کا کئی بار قصد کیا۔ ہر بار حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے ظاہر ہو کر حضورﷺ کو اطمینان دلایا کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
2) فترة وحی کی مدت کے بارے میں صحیح قول کون سا ہے۔
3) سب سے پہلے قرآن کریم کی کون سی آیات نازل ہوئیں۔
پہلے ہم مذکورہ بالا روایت کے بارے میں عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔امام بخاری علیہ الرحمۃ نے “کتاب التعبیر” میں یہ روایت بایں الفاظ بیان کی ہے۔

“وَ فَتَرَ الْوَحۡىِ فَتْرَةً حَتّٰى حَزِنَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِيۡ مَا بَلَغْنَا حُزْنَا غَدًا مِّنْهُ مِرَارًا كَيۡ يَتَرَدّٰى مِنْ رُّؤُسِ الْجِبَالِ فَكُلَّمَا اَوْفٰى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَىۡ يُلْقِيۡ مِنْهُ بِنَفْسِهٖ يَتَرَاٰى لَهٗ جِبۡرَئِيۡلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اِنَّكَ رَسُوۡلُ اللَّهِ حَقًّا فَيَسْكُنُ لِذٰلِكَ جَاْشُهٗ وَتُقِرُّ عَيْنُهٗ حَتّٰى يَرْجِعَ فَاِذَا طَالَتْ عَلَيْهِ فَتْرَةُ الْوَحِيۡ غَدَا لِمِثْلِ ذٰلِكَ فَاِذَا اَوْفٰى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ يَتَرَاٰى لَهٗ جِبْرَئِيۡلُ فَقَالَ لَهٗ مِثْلَ ذٰلِكَ”
ترجمہ: کچھ عرصہ کے لئے نزول وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا جس سے حضور پر نور ﷺ از حد غمگین ہوئے کئی بار پہاڑوں کی چوٹیوں پر اس لئے گئے کہ وہاں سے اپنے آپ کو نیچے پھینک دیں جب بھی اس خیال سے حضورﷺ پہاڑی کی کسی چوٹی پر پہنچے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام سامنے نظر آنے لگتے اور یہ کہتے: “يَا مُحَمَّدُ اِنَّكَ رَسُوۡلُ اللهِ حَقًّا”
ترجمہ: اے محمدﷺ ! آپ ﷺبلا شبہ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
یہ سن کر حضورﷺ کے دل کو قرار آتا اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور حضورﷺ واپس چلے آتے۔ پھر جب کچھ وقت گزر جاتا اور وحی کا سلسلہ منقطع رہتا تو حضورﷺ پھر بے چین اور مضطرب ہو کر پہاڑ کی کسی چوٹی کا رخ کرتے تاکہ وہاں سے اپنے آپ کو نیچے گرا دیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام پھر نمودار ہو کر وہی تسلی آمیز جملہ دہراتے۔

اس روایت کے مطالعہ سے دل میں طرح طرح کے شبہات انگڑائیاں لینے لگتے ہیں۔ کیا نبی کریم ﷺ کو اپنی نبوت کے بارے میں یقین راسخ نہ تھا؟ کیا حضورﷺ کسی شک و شبہ میں مبتلا تھے؟جس کے باعث حضورﷺ بار بار اپنی زندگی کا چراغ گل کرنے کا ارادہ کر کے پہاڑ کی کسی چوٹی پر پہنچتے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کو نمودار ہو کر روکنا پڑتا۔ اور ‘اِنَّكَ رَسُوۡلُ اللهِ حَقًّا” کہہ کر شک و شبہ سے نجات دلانا پڑتی۔ کوئی امتی اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک اپنے نبی کی نبوت پر اسے یقین راسخ نہ ہو۔ اسی طرح نبی پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی نبوت پر محکم ایمان لے آئے ۔ اس لئے ہم سرکار دو عالمﷺ کے بارے میں یہ کیونکر تصور کر سکتے ہیں کہ حضورﷺ ایسا کرتے تھے۔ یا مایوس ہو جاتے کیا نبی کا ظرف اتنا چھوٹا اور حوصلہ اتنا تنگ ہوتا ہے کہ معمولی معمولی بات پر مایوس ہو جائے۔ اور مایوس بھی اتنا کہ زندہ رہنے پر موت کو ترجیح دینے لگے۔اس روایت کے بارے میں سیر حاصل بحث تو فضیلۃ الشیخ محمد الصادق ابراہیم عرجون نے اپنی کتاب ” محمد رسول اللہﷺ ” میں کی ہے جو تقریباً سو صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ حق تو یہ ہے کہ انہوں نے اس بحث کا حق ادا کر دیا ہے یہاں اس کو مِن و عَن نقل کرنے کی تو گنجائش نہیں البتہ ان کی بحث کا خلاصہ پیش کرنے کی کوشش ہم کریں گے۔ امید ہے اس کے مطالعہ سے قارئین کے شبہات کا مکمل طور پر ازالہ ہو جائے گا۔ بحث کا آغاز وہ اپنے اس پُر جلال جملہ سے کرتے ہیں۔
“هٰذَا الْبَلَاغُ اللَصِيۡقُ بِحَدِيۡثِ بَدِءِ الْوَحۡيِ بَاطِلٌ زَائِفٌ وَ ذٰلِكَ مِنۡ وُجُوۡهٍ”
ترجمہ: یعنی یہ فقرے جو بد ءالوحی کی حدیث کے ساتھ باہر سے چسپاں کر دیئے گئے باطل ہیں۔ کھوٹے اور مردود ہیں اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔

قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ جو علوم حدیث کے ماہر اور سنت نبویہ مطہرہﷺ کے ائمہ کے سردار ہیں انہوں نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس بلاغ کی نسبت معمر کی طرف ہو یا زہری کی طرف یہ مرفوع نہیں ہے درمیان میں دو یا تین واسطوں کا ذکر تک نہیں۔ معلوم نہیں یہ کس قسم کے لوگ تھے۔ یہ تسلیم کہ معمر اور زہری خود ثقہ ہیں۔ ان کا شمار ائمہ حدیث میں ہوتا ہے۔ لیکن جن لوگوں سے انہوں نے یہ روایت نقل کی ہے ان کا نام تک بھی نہیں لیا گیا۔ تاکہ ہم تحقیق کر کے ان کے بارے میں فیصلہ کر سکیں کہ یہ ثقہ تھے یا غیر ثقہ ۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر ثقہ راوی ہمیشہ ثقہ راوی سے ہی روایت کرتا ہے کبھی غیر ثقہ راویوں سے بھی ثقہ راوی روایت کرتے ہیں اس احتمال نے روایت کو پایہ اعتبار سے ساقط کر دیا ہے۔ اس لئے یہ حدیث ضعیف ہوگی۔ لکھتے ہیں۔
“قَدْ يَرْوِي الثِّقَةُ عَنْ غَيْرِ الثِّقَةِ لِاَنَّهٗ فِيۡ نَظْرِهٖ وَتَقْدِيۡرِهٖ ثِقَةٌ وَهُوَ عِنْدَ غَيْرِهٖ ضَعِيۡفٌ لَا تُقْبَلُ رَوَايَتُهٗ”
ترجمہ: کبھی ثقہ غیر ثقہ سے روایت کرتا ہے کیونکہ وہ اس کی نظر میں ثقہ ہوتا ہے لیکن دوسرے علماء کے نزدیک وہ ضعیف ہے۔ اور اس کی روایت قابل قبول نہیں۔
(محمد رسول الله ، جلد اول، صفحہ 386-387)

یہ روایت زیادہ سے زیادہ امام زہری علیہ الرحمۃ کی مرسلات میں سے ہوگی اور ان کی مرسلات کے بارے میں علماء جرح و تعدیل نے طویل گفتگو کی ہے ان کی مرسلات پر تنقید کرنے والوں میں یحییٰ بن سعید قطان علیہ الرحمۃ پیش پیش ہیں اور یہ یحییٰ علماء ناقدین کے امام ہیں۔ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ امام زہری علیہ الرحمۃ کی قوت حافظہ بے نظیر تھی۔ اس کے باوجود وہ معصوم نہ تھے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top