Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 164بعثت مبارکہ: حصہ ششم)

(وحی الہیٰ کے مراتب)


وحی الہیٰ جو انبیاء کرام کے ساتھ مخصوص ہے اس کے متعدد مراتب و انواع ہیں۔
(1) رؤیا صادقہ (سچے خواب): حضور نبی کریمﷺ کی طرف وحی کا آغاز رؤیا صادقہ سے ہوا۔ حضورﷺ جو خواب دیکھا کرتے اس کی تعبیر دوسرے روز ہو بہو صبح کے اجالے کی طرح نمودار ہو جاتی۔
(2) وحی کا دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ فرشتہ دکھائی دیئے بغیر حضورﷺ کے قلب مبارک میں القا کر دیا کرتا تھا۔ ارشاد رسالت مآب ﷺ ہے۔
“اِنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِيْ روْعِىْ اَنَّهٗ لَنْ تَمُوْتَ نَفْسٌ حَتّٰى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاجْمِلُوْا فِي الطَّلْبِ وَلَا يَحْمِلَنَّكُمْ اِسْتِبْطَآءُ الرِّزْقِ عَلٰى اَنْ تَطْلُبُوْهُ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ فَاِنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ لَا يَنَالُ اِلَّا بِطَاعَتِهٖ”
ترجمہ:روح القدس حضرت ( جبرائیل ) علیہ السلام نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ کوئی شخص اس وقت تک نہیں مر سکتا جب تک وہ اپنا رزق مکمل نہ کر لے اس لئے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور طلب رزق میں خوبصورت طریقے اختیار کرو۔ رزق کے ملنے میں اگر دیر ہو جائے تو اس کو خدا کی نا فرمانی سے مت طلب کرو کیونکہ جو چیز اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ اس کی اطاعت سے ہی مل سکتی ہے۔

(3) فرشتہ انسان کی شکل میں حاضر ہو اور حضورﷺ سے مخاطب ہو۔ ایسی حالت میں کبھی کبھی صحابہ کرام بھی اس فرشتہ کو دیکھ لیا کرتے تھے۔
(4 ) وحی کا چوتھا مرتبہ یہ ہے کہ گھنٹی کی آواز کی طرح وحی کی آواز سنائی دے ۔ وحی کا یہ انداز حضورﷺ کے لئے بہت مشکل ہوا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ سخت سردی کے موسم میں بھی پیشانی مبارک سے پیسنے کے قطرے ٹپکنے لگتے تھے۔ اگر حضورﷺ کسی اونٹنی پر سوار ہوتے تو وہ اونٹنی بھی اس بوجھ کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی بلکہ گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتی تھی۔ ایک دفعہ حضور انور ﷺ کی ران مبارک حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی ران پر تھی کہ وحی کی یہ کیفیت طاری ہوئی حضرت زید رضی اللہ عنہ کو یوں محسوس ہونے لگا گویا ان کی ران ٹوٹ رہی ہے۔
(5) کبھی فرشتہ اپنی اصلی صورت میں نمودار ہوتا اور اللہ تعالیٰ کا پیغام حضورﷺ کو پہنچاتا۔
(6) وہ وحی جس سے اللہ تعالیٰ نے کسی فرشتہ کے بغیر اپنے حبیبﷺ کو خود مشرف فرمایا جیسے شب معراج، نماز کی فرضیت کا حکم اور دیگر راز و نیاز کی باتیں ۔
(7) اللہ تعالیٰ کا کسی فرشتہ کے بغیر حضورﷺ سے ہم کلام ہونا۔ جس طرح اللہ تعالی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا۔
(8) لذت دید اور شرف تکلم سے بیک وقت مشرف فرمایا جیسے شب معراج مقام دَنَا فَتَدَلّٰی پر ( رؤیت باری کی بحث اپنے مقام پر تفصیل سے آئے گی ) ۔
وحی کے یہ مراتب اور اقسام تمام شُرَّاح حدیث نے تحریر کئے ہیں۔ ہم نے علامہ ابن قیم علیہ الرحمۃ کی زاد المعاد سے ان مراتب کو ان کی ترتیب کے مطابق یہاں نقل کیا ہے۔
(زاد المعاد مطبوعہ بیروت، جلد اول، صفحہ78 – 80)

بعض تنگ نظر، متعصب مستشرقین نے سرور انبیاءﷺ کی ان کیفیات کے بارے میں جب پڑھا جو نزول وحی کے وقت حضورﷺ پر طاری ہوتی تھیں۔ تو اپنے خبث باطن کی وجہ سے یہ کہنے میں ذرا تأمل نہ کیا کہ یہ صرع یعنی مرگی کے دوروں کی کیفیت تھی اور جس چیز کو مسلمان بطور عقیدت وحی الہیٰ کہتے ہیں یہ اس قسم کی باتیں ہیں جو مرگی کا مریض اس مرض کے دورہ کے وقت کہا کرتا ہے العیاذ باللہ ۔

ہم ان مدعیان علم و دانش سے حق و صداقت کا واسطہ دے کر (اگر حق و صداقت نامی کوئی چیز دنیا میں موجود ہے تو ) ایک بات پوچھتے ہیں کہ مرگی کے مریض ہر ملک میں ہر قوم میں اور ہر زمانہ میں سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں ہوئے ہیں اور آج بھی اعلیٰ ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ ممالک کے ہسپتالوں میں بھی اس مرض کے لئے مخصوص وارڈ اس بیماری کے مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں کیا۔

ماضی بعید میں یا ماضی قریب میں یا زمانہ حال میں اس بیماری کے بیماروں میں سے کوئی ایسا بیمار گزرا ہے جس نے کوئی محیر العقول کتاب عالم انسانیت کو دی ہو۔ جس اقدس و اطہر ہستی نے قرآن حکیم جیسا صحیفہ ہدایت بنی نوع انسان کو عطا فرمایا ہے اس نے روز اول سے ہی اپنے سنگ دل بے رحم اور ان گنت ناقدین اور منکرین کو چیلنج کیا کہ اگر اس کتاب کے کلام الہیٰ ہونے میں تمہیں شک ہے تو تم میں سے جس کا جی چاہے اس جیسی کتاب لکھ کر پیش کرے اگر تم فرداً فرداً ایسا نہیں کر سکتے تو سارے زمانہ کے فصحاء اور بلغاء سر جوڑ کر بیٹھیں اور اس جیسی کتاب پیش کریں اگر پوری کتاب نہیں پیش کر سکتے تو اس کی ایک چھوٹی سی سورت جیسی کوئی سورت ہی لا کر دکھائیں یہ چیلنج اسلام اور قرآن حکیم کے ہر زمانہ کے ناقدین کے لئے ہے چودہ صدیوں کا طویل عرصہ گزر چکا ہے پندرہویں بھی شروع ہو چکی ہے اسلام کو مٹانے کے لئے کون سی کوشش ہے جو دشمنان اسلام نے نہیں کی جنگیں لڑی گئیں ان میں ہزاروں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں امت مسلمہ کی جغرافیائی اور نظریاتی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے کون سا دقیقہ ہے جو فرو گزاشت کیا گیا ہو۔ سینکڑوں ہزاروں ادارے قائم ہیں ان پر کروڑوں ڈالر سالانہ خرچ ہو رہے ہیں جن میں موجودہ وقت کے نابغہ روز گار فضلاء اپنی تصنیفات کے انبار لگارہے ہیں لیکن آج تک کسی دشمن اسلام کو کسی منکر عظمت مصطفیٰﷺ کو یہ جرأت نہ ہو سکی کہ اس چیلنج کو قبول کر سکے زیادہ نہیں تو سورۃ الکوثر جیسی تین آیات پر مشتمل ایک سورت ہی پیش کر سکے۔ خود سوچئے اگر دشمنان اسلام کے بس میں ہوتا تو کیا وہ یہ آسان کام کر نہ گزرتے لیکن منکران شان محمدیﷺ کان کھول کر سن لیں کہ وہ نہ اب تک ایسا کر سکے ہیں اور نہ تا قیام قیامت ایسا کر سکیں گے کیونکہ جس خداوند ذوالجلال کا یہ کلام ہے اس کا یہ فرمان ہے۔

وَاِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ وَادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِنْ دُوْنِ اللَّهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ○ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيْ وَقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ○
ترجمہ:اگر تمہیں شک ہو اس میں جو ہم نے نازل کیا اپنے برگزیدہ بندےﷺ پر تو لے آؤ ایک سورت اس جیسی۔ اور بلا لو اپنے حمایتیوں کو اللہ کے سوا اگر سچے ہو۔ پھر تم اگر ایسا نہ کر سکو اور ہر گز تم ایسا نہ کر سکو گے۔ تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں جو تیار کی گئی ہے کافروں کے ہے۔
(سورۃ البقرہ،آیۃ :23 -24)

صرف فصاحت و بلاغت میں ہی یہ کتاب عدیم النظیر اور بے مثال نہیں بلکہ اپنے معانی اور معارف میں بھی یہ لاجواب ہے جن عقائد پر ایمان لانے کی اس کتاب نے بنی نوع انسان کو دعوت دی۔ خود انصاف کرو کیا ایسی کتاب مرگی کے کسی مریض کے افکار و خیالات کا مجموعہ ہو سکتی ہے کیا شرف انسانیت کو جلاء دینے کے لئے اس سے بہتر کوئی مجموعہ عقائد پیش کیا جا سکتا ہے۔ اپنے خالق کریم کے ساتھ بندگی کا رشتہ مستحکم کرنے کے لئے جو نظام عبادات قرآن کریم نے بتایا ہے کیا اس سے بہتر کوئی اور نظام عبادت تجویز کیا جا سکتا ہے انسان کی انفرادی اور اجتماعی نشو و نما کے لئے جو ضابطہ اخلاق قرآن حکیم نے پیش کیا ہے کیا کوئی ماہر اخلاقیات و نفسیات اس کی گرد کو بھی پہنچ سکتا ہے سیاسی اور معاشی میدانوں میں افراط و تفریط سے بالا تر ہو کر جو حقیقت پسندانہ اصول اس کتاب مقدس نے بتائے ہیں کیا اس کی کوئی مثال پیش کی جا سکتی ہے۔ جب یہ ایسی حقیقتیں ہیں جو آفتاب و ماہتاب سے بھی تابندہ تر ہیں تو اس کے باوجود ذات پاک حبیب کبریاءﷺ کی وحی آسمانی کے بارے میں اس قسم کے خیالات کو بیہودگی کی انتہا نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top