(آثار بعثت کا ظہور: حصہ اول)
بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بے پایاں ہے۔ لمحہ بھر میں جو چاہے وہ ظہور پذیر ہو جاتا ہے لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی شان ربوبیت کا ظہور آہستہ آہستہ ہو۔ حیات طیبہ کے چالیس سال پورے ہونے والے ہیں۔ جسمانی نشو و نما معراج کمال کو پہنچ چکی ہے۔ ذہنی قوتوں پر شباب کا عالم ہے اخلاق کی بلندی، کردار کی پختگی اور سیرت کی پاکیزگی۔ اپنوں اور بیگانوں کو اپنا گرویدہ بنا رہی ہے جس معاشرہ میں حضورﷺ نے اپنی زندگی کی یہ منزلیں طے کی ہیں بڑا پُر آشوب ہے۔ سیاہ کاری، اخلاق باختگی، ذہنی آوارگی، اور کفر و شرک کی عفونتوں سے دماغ پھٹ رہا ہے اس نا گفتہ بہ اور شرمناک ماحول میں پروان چڑھنے والا یہ جوانِ رعنا، شبنم کی طرح پاکیزہ ، گلاب کے پھول کی طرح شگفتہ و شاداب اور چودہویں کے چاند کی طرح تابناک اور ضیاء بار ہے اب وہ ساعت ہمایوں قریب آ پہنچی ہے جب اسے وہ امانت عظمیٰ تفویض کی جائے گی جس کی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دینے کے لئے قدرت الہیٰ کی رافتوں اور رحمتوں نے اس در یتیم کو اتنے اہتمام سے اپنے آغوش لطف و کرم میں لیا اور اتنے پیار سے ایک عظیم ترین مقصد کی تکمیل کے لئے اس کی تربیت فرمائی ۔اس ساعت ہمایوں کی آمد سے پہلے اس کے با برکت آثار نمایاں ہونے لگے جن کا ذکر خود محبوب رب العالمین ﷺ ٰ نے فرمایا۔ آثار کے نمایاں ہونے سے نزول وحی تک جو مرحلے پیش آئے اس کے بیان کے لئے وہ روایت جو ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سے امام المحدثین حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاری قدس سرہ نے اپنی صحیح میں درج کی ہے وہ مضمون کے لحاظ سے جامع اور مفصل اور سند کے لحاظ سے اصح ہے۔ ہم اس کے ذکر پر اکتفا کریں گے کیونکہ یہ روایت بہت طویل ہے اس لئے ہم اسے مضمون کے مطابق مختلف حصوں میں تقسیم کر کے لکھیں گے تاکہ قارئین کو اس کی طوالت سے اکتاہٹ نہ ہو اور ہر مضمون آسانی سے ان کے ذہن نشین ہوتا جائے۔
“عَنْ عَائِشَةَ اُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنَّهَا قَالَتْ اَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهٖ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ فَكَانَ لَا يَرٰى رُؤْيًا اِلَّا جَآءَتْ مِثْلَ فَلْقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ اِلَيْهِ الْخَلَآءُ وَكَانَ يَخْلُوْا بِغَارِ حِرَاءَ وَ يَتَحَنَّثُ فِيْهِ وَهُوَ التَّعْبُدُ الْلَّيَالِيْ ذَوَاتَ الْعَدَدِ قَبْلَ اَنْ يَّنْزِعَ اِلٰى اَهْلِهٖ وَيَتَزَوَّدُ ذٰلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ اِلٰى خَدِيْجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتّٰى جَآءَهُ الْحَقُّ وَ هُوَ فِيْ غَارِ حِرَاءَ”
ترجمہ:ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ پر وحی کا آغاز سچی خوابوں سے ہوا جو خواب حضورﷺ رات کو دیکھتے اس کی تعبیر دن کو ہو بہو صبح کے اجالے کی مانند سامنے آ جاتی۔ پھر حضورﷺ کے دل میں خلوت گزینی کی محبت پیدا ہو گئی ۔ خلوت گزینی کے لئے حضورﷺ غار حرا میں تشریف لے جایا کرتے وہاں عبادت میں مصروف رہتے چند راتیں عبادت الہیٰ میں بسر فرماتے پھر اپنے اہل خانہ کی طرف واپس تشریف لے آتے کچھ عرصہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ گزار کر پھر خورد و نوش کا سامان لے کر غار میں واپس آتے اور عبادت الہیٰ میں مصروف ہو جاتے یہ آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ حق آ گیا۔ جب حضورﷺ غار حرا میں تھے۔
روایت کے اس حصہ میں چند امور غور طلب ہیں۔
“وَفَلْقُ الصُّبْحِ ، اَيْ ضِيَآءُ الصُّبْحِ” ترجمہ:صبح کا اجالا۔
(عمدة القاری )
یعنی رات کو نیند کی حالت میں حضورﷺ جو خواب دیکھتے دوسرے روز اس کی تعبیر یوں واضح صورت میں سامنے آ جاتی جیسے صبح کا اجالا ۔ اور اس خواب کے بارے میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہتا، سچے خواب دکھانے میں حکمت یہ ہے کہ منصب نبوت پر جب کسی ہستی کو فائز کیا جاتا ہے تو ان حقائق کو اس پر آشکارا کیا جاتا ہے جن کا تعلق عالم غیب سے ہوتا ہے اس سے پیشتر کہ عالم غیب کا دروازہ یکبارگی کھلے ۔ اور عالم غیب کے محیر العقول عجائبات آشکارا ہو کر نگاہوں کو خیرہ اور عقل کو دنگ کرنے کا سبب بنیں ۔ انبیاء کرام کو اللہ تعالیٰ اس سے پہلے سچے خواب دکھاتا ہے تاکہ عالم غیب کے حقائق سے کچھ اُنس اور مناسبت پیدا ہو جائے اور جب اس کا دروازہ کھلے تو وہ حیران و سراسیمہ ہو کر نہ رہ جائے بلکہ ان کا مشاہدہ کر کے اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق اور پھر اس پر ان کا توکل مزید پختہ اور مضبوط ہو جائے ۔ تبلیغ حق کا جو جہاد انبیاء کو در پیش ہوتا ہے اس میں یہی قوت ان کے کام آتی ہے۔ جب سچے خوابوں کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ دل جو پہلے ہی معرفت الہیٰ اور محبت الہیٰ کے نور سے منور تھا اس میں اپنے معبود برحق بلکہ مقصود حقیقی اور محبوب حقیقی کی یاد میں کھو جانے کا جذبہ، کار گاہ حیات کی مصروفیتوں سے نکال کر اس کنج تنہائی میں گوشہ نشین ہونے پر مجبور کرنے لگا۔ جہاں یاد محبوب کے سوا کسی اور بات کا تصور تک خلل انداز نہ ہو۔ چنانچہ محبت الہیٰ کا یہ طوفان حضورﷺ کو مکی زندگی کی مصروفیتوں سے نکال کر ایک غار میں لے آیا جس کا نام غار حرا ہے۔ یہ غار حرا، جس پہاڑ کی چوٹی پر ہے اس کا نام ”جبل النور“ ہے۔ یہ غار چار گز لمبی دو گز چوڑی ہے اس کی وسعت اتنی ہے کہ ایک آدمی اس میں لیٹ سکتا ہے۔ جبل النور اور اس کے اردگر دجتنے پہاڑ ہیں خشک اور بے آب و گیاہ ہیں راستہ اتنا کٹھن اور دشوار گزار ہے۔ کہ صحت مند اور طاقتور آدمی بھی وہاں بڑی مشکل سے پہنچنے میں کامیاب ہوتا ہے ( یہ پہاڑ مکہ مکرمہ سے تقریبا تین میل کے فاصلہ پر ہے ) اگرچہ دوسرے پہاڑوں کی چوٹیوں پر بھی اس قسم کے گوشہ عزلت کو تلاش کیا جا سکتا تھا۔ لیکن سرور عالمﷺ نے اپنی گوشہ نشینی کے لئے غار حرا کو اس لئے پسند فرمایا کہ یہاں بیٹھ کر بیت اللہ شریف کی زیارت بھی ہو سکتی تھی۔
(ارشاد الساری، جلد اول، صفحہ62)
اس وقت تو جبل النور مکہ مکرمہ سے تین میل کے فاصلہ پر تھا لیکن اب یہ شہر کافی وسیع ہو گیا ہے اور اس کی حدود جبل نور کو چھونے لگی ہیں۔ “عَمَرَهَا اللهُ تَعَالٰى وَحَفِظَهَا وَاَهْلَهَا مِنَ الْفِتَنِ وَالْبَلِيَّاتِ”
علامہ احمد بن زینی دحلان علیہ الرحمۃ نے تصریح کی ہے۔
“وَاَبْهَمَ الْعَدَدَ لِاِخْتِلَافِ بِالنِّسْبَةِ اِلَى الْمُدَدِ فَتَارَةً كَانَ ثَلَاثَ لَيَالٍ وَّتَارَةً كَانَتْ سَبْعَ لَيَالٍ وَّتَارَةً تِسْعَ لَيَالٍ وَّتَارَةً شَهْرًا رَمَضَانَ وَغَيْرِهٖ”
ترجمہ:یعنی قیام کی مدت کو مبہم رکھا کیونکہ یہ مدت متعین نہ تھی کبھی تین رات، کبھی پانچ ،کبھی سات راتیں، کبھی رمضان کا پورا مہینہ یہاں قیام فرمایا کرتے۔
(السيرة النبویہ ، احمد بن زینی دحلان، جلد اول صفحہ163)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲