ابو ہالہ، حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کے پہلے خاوند تھے حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کے بطن سے ابو ہالہ کے ایک لڑکے تولد ہوئے جن کا نام ”ہند“ تھا۔ انہوں نے عہد رسالتﷺ پایا اور نعمت ایمان سے مشرف ہوئے انہیں اللہ تعالیٰ نے گہرائی میں اتر جانے والی عقل اور حقیقت شناس آنکھ مرحمت فرمائی تھی جس چیز کو دیکھتے سطحی طور پر نہ دیکھتے بلکہ اس کے ظاہر و باطن میں اترتے چلے جاتے۔ انہوں نے جن واقعات جن شخصیات اور جن امور کے بارے میں اظہار خیال کیا وہ اس طرح سیر حاصل، جامع اور مبنی بر حقیقت ہوتا کہ پوچھنے والے کو اس کے بعد اس کے بارے میں مزید کسی استفسار کی حاجت نہ رہتی۔ جب عام واقعات و حالات کے بارے میں ان کے تجزیے اور تبصرے اس طرح بھر پور ہوا کرتے تو آپ خود اندازہ لگائیے کہ اپنے ہادی و مرشدﷺ کے بارے میں ان کا تبصرہ کتنا جامع اور مبنی بر حقیقت ہو گا۔ اختصار کا تقاضا تو یہ ہے کہ ان کے کلام کے صرف اردو ترجمے پر اکتفا کیا جائے لیکن ان کے کلام کی جاذبیت اور جامعیت مجبور کر رہی ہے کہ ان کی اصلی عربی عبارت بھی ناظرین کی خدمت میں پیش کی جائیں۔ ان کے حقیقی کمال کا اندازہ تو ان کی اپنی عبارت میں غور کرنے سے ہی لگایا جا سکتا ہے ۔اس کوشش سے ممکن ہے کہ قارئین کرام ان کے مقصد سے قریب تر پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں۔ حضرت ہند بن ابی ہالہ کی یہ روایت حضرت سیدنا امام حسن مجتبٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جو نوجوانان جنت کے دو سرداروں میں سے پہلے سردار ہیں آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
:سَاَلْتُ خَالِيْ هِنْدَ بْنَ اَبِيْ هَالَةَ عَنْ حُلْيَةِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ”
ترجمہ: میں نے اپنے ماموں حضرت ہند بن ابی ہالہ سے رسول اللہﷺ کے حلیہ مبارکہ کے بارے میں استفسار کیا۔
:كَانَ وَصَّافًا وَاَنَا اَرْجُوْا اَنْ يَّصِفَ لِيْ شَيْئًا مِّنْهُ اَ تَعَلَّقُ بِهٖ”
ترجمہ: آپ رضی اللہ عنہ کسی چیز کی حقیقت بیان کرنے میں مہارت رکھتے تھے مجھے یہ توقع تھی کہ وہ حضور ﷺکے بارے میں ایسی چیزیں بیان کریں گے جن کو میں ہمیشہ یاد رکھوں گا۔
فَقَالَ: ترجمہ: انہوں نے کہا۔
“كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَخْمًا مُّفَخَّمًا”
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ لوگوں کی نگاہوں میں بڑے جلیل القدر اور عظیم الشان دکھائی دیتے تھے۔
“يَتْلَاْلَاُ وَجْهُهٗ تَلَالَوُا الْقَمَرِ لَيْلَةِ الْبَدْرِ”
ترجمہ:حضورﷺ کا چہرہ اس طرح چمکتا تھا جس طرح چودہویں رات کا چاند۔
“اَطْوَلُ مِنَ الرَّبُوْعِ وَاَقْصَرُ مِنَ الشَّذْبِ عَظِيْمُ الْهَامَةِ رَجِلُ الشَّعْرِ”
ترجمہ: چھوٹے قد والے سے لانبے اور زیادہ طویل قد والے سے کم، سر مبارک بڑا تھا، گیسوئے مبارک زیادہ گھنگریالے نہ تھے۔
“اِنْ اِنْفَرَقَتْ عَقِيْقُهٗ فَرَقَ،وَاِلَّا لَا يُجَاوِزُ شَعْرُهٗ شَحْمَةَ اُذُنِهٖ، ذَا وَفْرَةٍ،اَزْهَرُ اللَّوْنِ”
ترجمہ:اگر موئے مبارک الجھ جاتے تو حضورﷺ مانگ نکال لیتے۔ ورنہ حضورﷺ کے گیسو کانوں کی لو سے نیچے نہ جاتے۔ کانوں کی لو تک آویزاں رہتے، چہرہ کا رنگ چمکدار تھا۔
“وَاسِعُ الْجَبِيْنِ، اَزَّجُ الْحَوَاجِبِ سَوَابِغُ فِيْ غَيْرِ قَرْنٍ، بَيْنَهُمَا عِرْقٌ يَدَرُّهُ الْغَضَبُ”
ترجمہ:پیشانی مبارک کشادہ تھی۔ ابرو مبارک باریک بھرے ہوئے لیکن باہم ملے ہوئے نہ تھے۔ دونوں ابروں کے درمیان ایک رگ تھی جو غصہ کے وقت پھول جاتی۔
“اَقْنَى الْعِرْنَيْنِ، لَهٗ نُوْرٌ يَعْلُوْهُ يَحْسِبُهٗ مَنْ لَّمْ يَتَاَمَّلْهٗ، اَشَمُّ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، سَهْلُ الْخَدَّيْنِ، ضَلِيْعُ الْفَمِ اَشْنَبُ”
ترجمہ: ناک مبارک اونچی تھی۔اس کے اوپر نور برس رہا ہوتا دیکھنے والا گمان کرتا کہ یہ بہت اونچی ہے۔ڈاڑھی مبارک گھنی تھی۔دونوں رخسار ہموار تھے۔دہن مبارک کشادہ اور دندان مبارک چمکدار اور شاداب تھے۔
“مُفْلِجُ الْاَسْنَانِ، دَقِيْقُ الْمَسْرَبَةِ، كَانَ عُنُقُهٗ جِیْدَ دُمْيَةٍ فِيْ صَفَآءِ فِضَّةٍ”
ترجمہ:دندان مبارک کھلے تھے۔بالوں کا خط جو سینہ سے ناف تک چلا گیا تھا وہ باریک تھا۔ گردن مبارک یوں تھی جیسے کسی چاندی کی گڑیا کی صاف گردن ہو۔
“مُعْتَدِلُ الْخَلْقِ بَادِيًا مُعْتَدِلًا، سَوَآءُ الْبَطْنِ وَالصَّدْرِ، فَصِيْحُ الصَّدْرِ، بَعِيْدٌ مَّا بَيْنَ الْمُنْكَبَيْنِ، ضَخْمُ الْكَرَادِيْسِ اَبْذَرُ الْمُتَجَرِّدِ”
ترجمہ: تمام اعضاء معتدل تھے اور ان کا اعتدال آشکارا تھا۔ شکم اور سینہ مبارک ہموار تھا۔ سینہ مبارک کشادہ تھا۔ دونوں کندھوں کے درمیان کافی فاصلہ تھا۔ ہڈیوں کے جوڑ نیم۔
“مَوْصُوْلٌ بَيْنَ اللُّبَةِ وَالصُّرَةِ بِشَعْرٍ، يَجْرِيْ كَالْخَطِّ، وَ عَارِيْ الثَّدْیَيْنِ وَ الْبَطْنِ مِمَّا سِوَى ذٰلِكَ، اَشْعَرِ الذِّرَاعَيْنِ وَالْمَنْكَبَيْنِ ، وَاَعَالِيْ الصَّدْرِ، طَوِيْلُ الزَّنْدَيْنِ”
ترجمہ: سینہ کی ہڈی اور ناف کے درمیان بالوں کا خط ملا ہوا تھا۔اس کے علاوہ سینہ اور شکم بالوں سے صاف تھا۔ دونوں بازوؤں، دونوں کندھوں اور سینہ کے اوپر والےحصے میں بال اگے ہوئے تھے۔دونوں بازوؤں کی ہڈی لمبی تھی۔
“رَحْبُ الرَّاحَةِ شَئْنُ الْكَفَّيْنِ، وَالْقَدَمَيْنِ، سَائِلُ الْاَطْرَافِ سَبْطُ العَضْبِ”
ترجمہ: ہاتھ مبارک کشادہ تھے دونوں ہتھیلیاں پُر گوشت تھیں اور دونوں پاؤں بھرے ہوئے تھے۔ تمام اندام ہموار تھے۔
“خَمْصَانُ الْاَخْمَصَيْنِ، اِذْ زَالَ تَقَلُّعًا وَّيَخْطُوْ تَكْفُؤًا، وَيَمْشِيْ هَوْنًا ذَرِيْعَ الْمِشْيَةِ اِذَا مَشٰى كَاَنَّمَا يَنْحِطُ مِنْ صَبَبٍ، وَاِذَا اِلْتَفَتَ اِلْتَفَتَ جَمِيْعًا، خَافِضُ الطَّرْفِ”
ترجمہ: دونوں پاؤں کا درمیانی حصہ اٹھا ہوا تھا۔جب قدم اٹھاتے تو قوت سے اٹھاتے، رکھتے تو جما کر رکھتے۔ آہستہ خرام مگر تیز رفتار ،جب چلتے تو یوں معلوم ہوتا کہ بلندی سے پستی کی طرف تشریف لے جا رہے ہیں۔جب کسی کی طرف التفات فرماتے تو ہمہ تن ملتفت ہوتے۔ نگاہیں جھکی ہوئی ہوتیں۔
“نَظْرُہٗ اِلَى الْاَرْضِ اَطْوَلُ مِنْ نَظْرِهٖ اِلَى السَّمَآءِ، جُلُّ نَظْرِهِ الْمُلَاحَظَةُ، يَسُوْقُ اَصْحَابَهٗ، وَيَبْدَاُ مَنْ لَقِيَہٗ بِالسَّلَامِ”
ترجمہ:آپﷺ کی نظر زمین کی طرف طویل ہوتی تھی بنسبت آسمان کی طرف آپﷺ کی نگاہ کے۔آپﷺ کا دیکھنا گہرا مشاہدہ ہوا کرتا تھا۔آپﷺ حسن تدبیر سے اپنے صحابہ کرام کو شاہراہ ہدایت پر چلاتے۔جس سے ملاقات فرماتے اسے پہلے خود سلام دیتے۔
(خاتم النبیین، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، صفحہ266)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲