Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 155جسد اطہرﷺ کی جمال آرائیاں: حصہ اول)


رحمت الہی، جس ہستی کے سر پر ختم نبوت کا تاج سجا کر ، رحمت للعالمینی کی خلعت فاخرہ پہنا کر ، آخری صحیفہ آسمانی کا امین بنا کر، کاروان انسانیت کا تا ابد خضر راہ بنا رہی ہے۔ آئیے دیکھیں۔ محمد رسول اللہﷺ سے پہلے حضرت محمد بن عبداللہﷺ کی حیثیت سے ان کے جمال ظاہری اور کمال باطنی کی شان کیا ہے۔ وہ جسد اطہر، جس نے حضورﷺ کے روح اقدس کا گہوارہ بننا ہے اس کی توانائیوں اور دلربائیوں کا عالم کیا ہے۔ وہ روح اقدس، جس نے انوار الہی اور اسرار ربانی کی جلوہ گاہ بننا ہے اس کی عظمتوں اور اس کی لطافتوں کی کیفیت کیا ہے ۔ اس قلب منیر کی ہمت و عزیمت کا مقام کیا ہے ۔جس نے اس امانت عظمی کا بار گراں اٹھانا ہے اور اس کا حق ادا کرنا ہے، جس کو اٹھانے سے آسمانوں نے، زمین نے اور فلک بوس کوہساروں نے اظہار عجز کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ اپنے ہر نبی اور رسول کو جسمانی عیوب سے منزہ پیدا فرماتا ہے تاکہ ان کا کوئی جسمانی نقص لوگوں کے لئے ان کے پیغام حق کو قبول کرنے میں حجاب نہ بنے اس کا کوئی فرستادہ لنگڑا ، لولا، اندھا، کانا، بدصورت اور قبیح المنظر نہیں آیا۔ سرور عالم ﷺ نے جن انبیاء و رسل کا حلیہ مبارک بیان فرمایا اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سب اپنے کمالات رسالت و نبوت کے ساتھ ساتھ بڑی من موہنی صورتیں لیکر اپنی قوموں کی راہنمائی کے لئے تشریف لائے تھے۔

ایک دو ارشادات نبویﷺ آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔
“فَقَدْ رَوَى سَعِيْدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ وَصَفَ لِاَصْحَابِهٖ اِبْرَاهِيْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِيْسٰى ، فَقَالَ اَمَّا اِبْرَاهِيْمُ فَلَمْ اَرَ رَجُلًا قَطُّ اَشْبَهَ بِصَاحِبِكُمْ وَ لَا صَاحِبُكُمْ اَشْبَهَ بِهٖ مِنْهُ ، وَ اَمَّا مُوْسٰى فَرَجُلٌ اٰدَمُ طَوِيْلُ ضَرْبٍ جَعْدُ اَقْنٰى كَاَنَّهٗ مِنْ رِّجَالِ شَنُوْءَةٍ وَّ اَمَّا عِيْسَى بْنُ مَرْيَمَ فَرَجُلٌ اَحْمَرَ بَيْنَ الْقَصِيْرِ وَالطَّوِيْلِ سَيْطُ الشَّعْرِ كَثِيْرُ خَيْلَانِ الْوَجْهِ كَاَنَّهٗ خَرَجَ مِنْ دِيْمَاسٍ تُخَالُ رَاسُهٗ نُقْطَةُ مَآءٍ وَّلَيْسَ بِهٖ مَآءٌ اَشْبَهُ رِجَالِكُمْ بِهٖ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُوْدٍ”
ترجمہ: حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے اپنے صحابہ کے سامنے حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کا حلیہ بیان کیا۔ فرمایا میں نے کوئی آدمی نہیں دیکھا جو تمہارے نبی کریم سے زیادہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مشابہت رکھتا ہو۔ اور نہ کوئی ایسا آدمی دیکھا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ تمہارے نبی کے ہم شکل ہو۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام گندم گوں سرخی مائل، طویل القامۃ، چھریرے بدن والے تھے ان کے بال گھنگریالے اور ناک اونچی تھی گویا وہ بنی ازد کے ایک قبیلہ شنوءہ کے ایک مرد تھے۔ رہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو آپ علیہ السلام کی رنگت سرخ تھی ،آپ علیہ السلام کا قد درمیانہ، آپ علیہ السلام کے بال سیدھے تھے، چہرے پر تل تھے گویا ابھی حمام سے باہر نکلے ہیں، سر پر پانی کے قطرے معلوم ہوتے تھے حالانکہ وہاں پانی کا نشان بھی نہ تھا۔ تمہارے مردوں میں سے حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ شکل و صورت میں ان کے مشابہ ہیں۔
(خاتم النبیین، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، صفحہ 264)

دوسری روایت کے راوی حضرت انس رضی اللہ عنہ ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ
“قَدْ رَوَى الدَّارُ قُطْنِيْ مِنْ حَدِيْثِ اَنَسِ بْنِ مَالِكٍ خَادِمِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ اَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَالَ مَا بَعَثَ اللَّهُ تَعَالٰى نَبِيًّا اِلَّا حَسَنَ الْوَجْهِ، حَسَنَ الصَّوْتِ وَكَانَ نَبِيُّكُمْ اَحْسَنَهُمْ وَجْهًا وَاَحْسَنَهُمْ صَوْتًا”
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ خادم رسول اللہﷺ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی مبعوث نہیں فرمایا مگر خوبصورت چہرے والا، دلکش آواز والا، اور تمہارے نبی کا چہرہ سب سے زیادہ خوبصورت اور ان کی آواز سب سے زیادہ دلکش ہے۔
(خاتم النبیین، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، صفحہ 264)

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ داعی کی جسمانی ساخت کی دلکشی، اعضاء کا تناسب، چہرہ کے خد و خال کی دلآویزی اور نگاہوں کی حیا آمیزی، اس کی دعوت کو دلوں کی گہرائیوں تک پہنچانے میں ایک فیصلہ کن کردار انجام دیتی ہے قسام ازل (ازل سے تقسیم کرنے والا) جو حکیم بھی ہے اور علیم بھی، جتنی بڑی دعوت کی ذمہ داری کسی کو تفویض کرتا ہے ظاہری حسن و جمال سے بھی اتنا حظ وافر اس داعی کو ارزانی فرما دیتا ہے۔ سیدنا محمد رسول اللہﷺ کی رسالت عالمگیر تھی اور ازل تا ابد تھی اس لئے حسن کی ساری رعنائیاں اور جمال و زیبائی کی جملہ دلربائیاں اس ذات اقدس و اطہرﷺ میں جمع کر دی گئی تھیں۔ تاکہ حسن کی کسی ادا کا متوالا ان کی بارگاہ جمالﷺ میں آئے تو سیر کام ہو کر ، شاد کام ہو کر واپس جائے۔ زمانہ کے بدلنے سے حسن و جمال کے معیار بدلتے رہیں، حالات کے تغیر کے ساتھ پسند و نا پسند کے پیمانوں میں تبدیلی آتی رہی۔ لیکن یہاں جو بھی حاضر ہو گا۔ جب بھی حاضر ہو گا اس کے حسرت زدہ دل کی ہر حسرت پوری کر دی جائے گی۔ کسی کو مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ صحابہ کرام نے بڑے مزے لے لے کر اپنے محبوبﷺ کے جمال جہاں آرا اور حسن دل افروز کے بارے میں اپنے قلبی تاثرات کا تذکرہ کیا ہے۔ جو تکلف اور تصنع سے بالکل منزہ ہے اس حسن سرمدی کی جلوہ سامانیاں تو رہیں اپنی جگہ ۔ ان پاکیزہ جلووں کے بارے میں ان کے بے لاگ تاثرات پڑھ کر ہی انسان پر مستی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے حضور پر نور سرور عالمﷺ کے حسن ظاہری کے بارے میں حضورﷺ کے عاشقان صادق کے دل میں اثر کر جانے والے تاثرات کا مطالعہ فرمائیے اور اپنے ایمان کو تازہ کیجئے۔ داعی حق ﷺ کی دعوت کا چرچا جزیرہ عرب کے گوشہ گوشہ میں گونجنے لگا۔ اس دعوت کے دشمنوں نے کون سا ایسا بہتان تھا جو اس نور مجسمﷺ پر نہیں لگایا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایک مہم تھی جو تند و تیز آندھی کی طرح دور افتادہ صحرا نشین قبائل کے قلوب و اذہان کو بھی پراگندہ کر رہی تھی۔ انہیں دنوں ایک اعرابی کی حضورﷺ سے اچانک ملاقات ہو گئی حضورﷺ کے دلکش اور پر نور چہرہ کو دیکھ کر وہ اعرابی مسحور ہو کر رہ گیا اسے یارائے ضبط نہ رہا۔ پوچھنے لگا آپﷺ کون ہیں؟ حضورﷺ نے جواب میں اپنا نام نامی لیا۔ بدو کہنے لگا اچھا آپ وہی محمدﷺ ہیں، جسے قریش کذاب کہتے ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا ہاں! میں وہی ہوں۔ وہ بدو بے ساختہ کہہ اٹھا “لَيْسَ هٰذَا بِوَجْہِ كَذَّابٌ” ترجمہ: یہ ضیاء بار چہرہ کسی جھوٹے کا تو ہرگز نہیں ہو سکتا۔
بھلا آپ یہ تو بتائیں کہ آپﷺ کسی چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ حضورﷺ نے دین اسلام کی حقیقت بیان فرمائی اس نورانی چہرہ کو دیکھ کر اور اس نورانی بیان کو سن کر وہ اعرابی مشرف بہ سلام ہو گیا۔
(خاتم النبیین، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، صفحہ 265)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top