Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 154کعبہ مشرفہ کی تعمیر نو: حصہ ششم آخری حصہ)


قریش مکہ کو بلا شبہ یہ شرف حاصل تھا کہ وہ کعبہ مقدسہ کے خادم اور ہمسائے تھے۔ لیکن اس خدا داد شرف نے ان میں غرور و نخوت اس حد تک پیدا کر دی تھی کہ وہ عرب کے دوسرے باشندوں سے اپنے آپ کو بالا تر مخلوق سمجھنے لگے تھے اپنی جھوٹی برتری کو برقرار رکھنے کے لئے انہوں نے دین ابراہیمی میں ایسے قبیح اور شرمناک امور کا اضافہ کر دیا تھا جن کے ذکر سے ہی جبین حیا عرق آلود ہو جاتی ہے۔ اپنے بارے میں ان کا کہنا یہ تھا کہ:
“نَحْنُ بَنُوۡ اِبْرَاهِيۡمَ وَاَهْلُ الْحُرۡمَةِ وُلَاةُ الْبَيْتِ وَقَطَّانُ مَكَّةَ وَسَاكِنُهَا وَلَيْسَ لِاَحَدٍ مِّنَ الْعَرَبِ مِثْلُ حَقِّنَا وَلَا مِثْلُ مَنْزِلَتِنَا”
ترجمہ: یعنی ہم ابراہیم علیہ السلام کے فرزند ہیں۔ ہم عزت و حرمت والے ہیں بیت اللہ کے نگران ہیں مکہ کے باشندے ہیں۔ جو ہمارے حقوق ہیں جزیرہ عرب کے کسی دوسرے آدمی کے وہ حقوق نہیں جو مقام و مرتبہ ہمیں حاصل ہے وہ اور کسی کو نصیب نہیں۔
(السيرة النبویہ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ216)

ایک دوسرے کو تاکید کرتے کہ:
“فَلَا تَعَظِّمُوۡا شَيْئًا مِّنَ الْحِلِّ كَمَا تُعَظِّمُوۡنَ الْحَرَمَ فَاِنَّكُمْ اِنۡ فَعَلْتُمْ ذٰلِكَ اِسْتَخَفَّتِ الْعَرَبُ بِحُرْمَتِكُمْ”
ترجمہ: حل یعنی بیرون حرم کی کسی چیز کی ایسی تعظیم مت کرو جس طرح تم حرم کی تعظیم کرتے ہو کیونکہ اگر تم نے ایسا کیا تو تمہاری شان اہل عرب کی نظروں میں گر جائے گی۔ (السيرة النبویہ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ216)

جن خرافات کا انہوں نے دین ابراہیمی میں اضافہ کیا تھا جن پر وہ خود بھی بڑی شدت سے عمل پیرا رہتے اور دوسرے لوگوں کو بھی سختی سے ان کی پابندی کا حکم دیتے ان میں چند ایک بدعات یہ ہیں۔
دین ابراہیمی میں سے جو احکام تحریف اور تبدیل کی دست برد سے بچے ہوئے تھے ان میں ایک فریضہ حج بھی تھا۔ 9 ذی الحجہ کو سارے لوگ عرفات میں جمع ہوتے وہاں سے طواف افاضہ میں جمع ہوتے وہاں سے طواف افاضہ کے لئے مکہ مکرمہ آتے۔ عرفات کا میدان حدود حرم سے باہر تھا اس لئے ان کے نئے طے شدہ اصول کے مطابق اس کی تعظیم بجا لانے میں ان کی جنگ تھی اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ قریش اور ان کے حلیف قبائل کنانہ اور خزاعہ میدان عرفات میں وقوف کے لئے نہیں جائیں گے بلکہ حدود حرم میں ہی حج کا یہ اہم رکن ادا کریں گے۔ اور طواف افاضہ بھی یہاں سے ہی کریں گے۔ انہیں اس بارے میں قطعاً کوئی شبہ نہ تھا کہ عرفات کا وقوف، حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا حکم ہے۔ عرب کے دوسرے قبائل کے لئے ضروری تھا کہ وقوف کے لئے وہ عرفات کے میدان کارخ کریں اور وہاں سے طواف کعبہ کے لئے مکہ مکرمہ آئیں ۔ لیکن از راہ غرور انہوں نے اپنے آپ کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔ نیز احرام کی حالت میں نہ وہ کسی مکان میں داخل ہوں گے اور نہ وہ عام خیموں میں داخل ہوں گے۔ اگر دھوپ کی شدت انہیں کسی سایہ میں پناہ لینے پر مجبور کرے تو وہ صرف ان خیموں کے سایہ میں بیٹھ سکتے ہیں جو چمڑے کے بنے ہوئے ہوں ۔ انہوں نے بیرون مکہ سے آنے والے حاجیوں پر یہ پابندی بھی عائد کر دی تھی کہ کوئی حاجی حالت احرام میں اپنے ساتھ لائے ہوئے سامان رسد سے کھانا پکا کر کھانے کا مجاز نہ تھا۔ اس پر ضروری تھا کہ وہ قریش کا پکا ہوا کھانا کھائے۔ نیز طواف کے وقت وہ قریشیوں سے کپڑے مانگ کر پہنے اور ان کپڑوں میں طواف کرے۔ اپنے لباس میں انہیں طواف کی اجازت نہ تھی۔ اگر کسی قریشی کا کپڑا انہیں میسر نہ آتا تو پھر برہنہ ہو کر انہیں طواف کرنا پڑتا۔ مردوں اور عورتوں کے لئے یہ ایک ہی حکم تھا۔ بامر مجبوری جو شخص اپنے لباس میں ملبوس ہو کر طواف کرتا تو طواف کے بعد اس پر لازم تھا کہ اس لباس کو اتار کر پھینک دے پھر اس کو نہ وہ خود استعمال کر سکتا تھا اور نہ کوئی دوسرا۔ ایسے پھینکے ہوئے لباس کو ان کے نزدیک “لقی” کہا جاتا وہ دودھ کو بلو کر نہ مکھن بنا سکتے تھے اور نہ پنیر۔ اپنے کھانے کو نہ چربی سے پکا سکتے تھے نہ گھی سے۔ اس قسم کی بیہودہ پابندیاں خود انہوں نے اپنے اوپر عائد کر رکھی تھیں اسلام نے ان تمام بدعات و خرافات کو یک قلم منسوخ کر دیا۔ ان تمام بدعات کو “الحمس” کہا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنے محبوب بندے محمد کریمﷺ کو عہد جاہلیت کی دیگر آلودگیوں سے محفوظ رکھا تھا ” الحمس” کی ان بدعات سیئہ سے بھی سرکار دو عالم ﷺکا دامن عصمت پاک اور منزہ رہا۔

حضرت عثمان بن ابی سلیمان ، اپنے چچا حضرت نافع سے حضرت نافع اپنے والد حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے جو جلیل القدر صحابی ہیں روایت کرتے ہیں۔
“لَقَدْ رَاَيْتُ رَسُوۡلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ اَنْ يَّنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحۡىُ وَ اِنَّهٗ لَوَاقِفٌ عَلٰى بَعِيۡرٍ لَّهٗ بِعَرَفَاتٍ مَعَ النَّاسِ مِنْ بَيْنِ قَوْمِهٖ حَتّٰى يَدْفَعَ مَعَهُمۡ مِنْهَا”
ترجمہ: میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا وحی نازل ہونے سے پہلے کہ حضورﷺ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر سب لوگوں کے ساتھ عرفات کے میدان میں موجود تھے اور اپنی قوم کے ہمراہ یہاں سے طواف افاضہ کے لئے جانے کا انتظار فرما رہے تھے۔
“تَوْفِيۡقًا مِّنَ اللهِ لَهٗ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيۡمًا كَثِيۡرًا”
اللہ جل شانہ کی توفیق کے ساتھ
اَلَمۡ یَجِدۡکَ یَتِیۡمًا فَاٰوٰی ۪﴿6﴾
ترجمہ: اے حبیبﷺ! کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر اس نے (آپ کو معزّز و مکرّم) ٹھکانا دیا۔ یا کیا اس نے آپ کو (مہربان) نہیں پایا پھر اس نے (آپ کے ذریعے) یتیموں کو ٹھکانا دیا۔
(سورہ الضحیٰ،آیۃ:6)
اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺ کو اپنی نبوت و رسالت کی صداقت پر یہ دلیل پیش کرنے کا حکم دیا۔
فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿16﴾
ترجمہ: میں تو گزار چکا ہوں تمہارے درمیان عمر کا ایک حصہ اس سے پہلے ۔ کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔
(سورہ یونس،آیۃ:16)

“اَللّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمۡ عَلٰى شَمْسِ الضُّحٰى وَبَدْرِ الدُّجٰى سَيِّدِنَا وَ مَوْلَانَا وَحَبِيۡبَنَا وَحَبِيۡبِ رَبِّنَا مُحَمَّدٍ اَلْمَبْعُوۡثِ رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيۡنَ وَعَلٰى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَمَنْ تَبِعَهٗ اِلٰى يَوْمِ الدِّيۡنِ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيۡعُ الْعَلِيۡمُ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ اَنْتَ وَلِيِّ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ تَوَفَّنِيۡ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيۡ بِالصّٰلِحِيۡنَ”

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top