یہ قافلہ جب اپنے وطن واپس پہنچا انہوں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کے والد کو حضرت زید رضی اللہ عنہ کا پیغام پہنچایا حارثہ اپنے بھائی کعب کو لے کر مکہ آیا حضور ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا اور عرض کی اے عبدالمطلب کے فرزند ! اے ہاشم کے نور نظر اے اپنی قوم کے سردار کے لخت جگر ۔ ہم اپنے بیٹے کے بارے میں آپﷺ کے پاس حاضر ہوئے ہیں ہم پر احسان کیجئے ہم فدیہ ادا کرنے کے لئے تیار ہیں آپﷺ اسے آزاد فرما دیجئے۔ حضور ﷺ نے اپنے من موہنے انداز میں فرمایا کہ اس کے علاوہ تمہاری اور بھی کوئی خواہش ہے؟ انہوں نے عرض کی نہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا اپنے بیٹے کو بلاؤ اور اس کو اختیار دے دو اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہے تو میں اسے فدیہ لئے بغیر تمہارے ساتھ جانے کی اجازت دے دوں گا۔ لیکن اگر وہ تمہارے ساتھ جانے کے بجائے میرے پاس رہنے کو پسند کرے پھر تمہیں بھی اسے مجبور نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا آپﷺ نے یہ فرما کر صرف ہمارے ساتھ انصاف ہی نہیں کیا بلکہ لطف و احسان کی انتہا کر دی ہے۔ ہمیں یہ تجویز منظور ہے۔ چنانچہ حضرت زید رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو پہچانتے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں یہ میرے والد ہیں اور یہ میرے چچا ہیں۔ پھر انہیں بتایا گیا کہ اب فیصلہ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہے اگر آپ رضی اللہ عنہ چاہیں تو اپنے والد کے ساتھ اپنے وطن واپس جا سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو ہمارے پاس رہ سکتے ہیں۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔
“مَا اَنَا بِالَّذِيۡ اَخْتَارُ عَلَيْكَ اَحَدًا اَنْتَ مِنِّىۡ مَكَانَ الْاَبِ وَالْعَمِّ”
ترجمہ: میں ایسا نادان نہیں ہوں کہ آپﷺ کو چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ چلا جاؤں آپﷺ ہی میرے والد ہیں، آپﷺ ہی میرے چچا ہیں۔
حضرت زید رضی اللہ عنہ کے والد کو یہ وہم بھی نہ تھا کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ ایسا فیصلہ کریں گے ان دونوں نے کہا۔
“وَيۡحَكَ يَا زَيْدُ اَتَخْتَارُ الْعَبُوۡدِيَّةَ عَلَى الْحُرِّيَّةِ وَعَلٰى اَبِيۡكَ وَ عَلٰى عَمِّكَ وَ اَهْلِ بَيْتِكَ”
ترجمہ: اے زید ! صد حیف تم آزادی کے بجائے غلامی کو اور اپنے ماں باپ کے بجائے ان کو پسند کر رہے ہو تمہیں کیا ہو گیا ہے۔
حضرت زید رضی اللہ عنہ تو خلق محمدیﷺ کے دام کے اسیر تھے کہنے لگے۔ تمہیں کیا معلوم کہ جس ہستی کی غلامی پر میں آزادی کو اور اپنے ماں باپ اور سارے خاندان کو قربان کر رہا ہوں وہ ہستی کتنی دلربا اور کتنی دلکش ہے۔ میں ان کو چھوڑ کر کہیں جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ خوش بخت حضرت زید رضی اللہ عنہ نے اپنے وطن واپس جانے پر نبی کریمﷺکی غلامی کو پسند کر لیا۔ حضورﷺ نے بھی از راہ بندہ پروری حضرت زید رضی اللہ عنہ کو اپنا متبنّی بنا لیا اور جب تک سورہ احزاب کی وہ آیات نازل نہیں ہوئیں حضرت زید رضی اللہ عنہ کو حضرت زید بن حارثہ کے بجائے حضرت زید بن محمدﷺ کہا جاتا رہا۔ اس ایک واقعہ سے ہی آپ حضورﷺ کے ان اخلاق عالیہ اور صفات جمیلہ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو حضورﷺ کی خدمت میں تحفہ پیش کیا حضورﷺ نے اسی وقت آپ رضی اللہ عنہ کو آزاد فرما دیا اور پھر ان کے ساتھ ایسا مشفقانہ برتاؤ کیا کہ جب انہیں یہ موقع ملا کہ وہ یا حضورﷺ کو اختیار کریں یا اپنے ماں باپ کو تو انہوں نے بلا جھجک یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ساری زندگی حضورﷺ کے قدموں میں بسر کریں گے۔ یہ واقعہ اعلان نبوت سے پہلے کا تھا۔ اس وقت حضور ﷺکے اخلاق کریمانہ اس بات کی صاف غمازی کر رہے تھے کہ یہ ہستی سارے عالم انسانیت کے لئے سراپا رحمت و ہدایت بن کر ظہور پذیر ہونے والی ہے۔
(الاصابہ، جلد اول، صفحہ545 – اسد الغابہ، جلد دوم، صفحہ235)
ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ خود حضرت زید رضی اللہ عنہ کے والد حارثہ انہیں ڈھونڈتے ہوئے مکہ مکرمہ آئے وہاں انہوں نے اپنے بیٹے کو دیکھا اور پہچان لیا پھر یہ واقعہ پیش آیا۔ بعثت سے پہلے ایک اور اہم واقعہ ہے جس سے حضور نبی کریم ﷺ کی سیاسی بصیرت اور قومی حمیت پر روشنی پڑتی ہے اس کا مطالعہ بھی قارئین کرام کے لئے ذات مصطفوی ﷺکے کمالات تک رسائی حاصل کرنے کے لئے از حد مفید ہو گا۔ جسٹس سید امیر علی نے اپنی سیرت کی کتاب میں یورپ کے مایہ ناز مورخین کے حوالہ سے یہ واقعہ قلمبند کیا ہے وہ لکھتے ہیں۔
حضورﷺ کی بعثت سے پہلے مکہ مکرمہ میں چند آدمی ایسے تھے جو بتوں کی پرستش سے بیزار تھے۔ اور اپنی قوم کی اخلاقی پستی پر از حد افسردہ رہا کرتے تھے انہوں نے ایک دن اکٹھے ہو کر فیصلہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل و خرد کی نعمت ارزانی فرمائی ہے۔ یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ ہم پتھر کی ان بے جان مورتیوں کو اپنا خدا بنائیں اور ان کو سجدہ کریں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم تلاش حق میں مختلف ممالک میں جائیں اور اگر کہیں ہمیں نور حق دستیاب ہو اس سے اپنے دلوں کو بھی منور کریں اور اپنے وطن واپس آ کر اپنی قوم کو بھی اس ذلت سے نکالنے کی سعی کریں اس گروہ کو “حنفاء ” کہا جاتا تھا۔ ان میں ورقہ بن نوفل ، عبید اللہ بن بخش، عثمان بن حویرث اور زید بن عمرو کے نام بہت مشہور ہیں۔ ان میں سے ایک شخص عثمان بن حویرث قسطنطنیہ پہنچا قیصر روم کے دربار میں اسے رسائی حاصل ہوئی اس نے عیسائی مذہب قبول کر لیا اور قیصر کے دربار میں بڑا مقام پیدا کر لیا قیصر نے بھی اپنے انعامات کی اس پر بارش کر دی اور جب قیصر کو یقین ہو گیا کہ عثمان اب ذہنی طور پر بھی اور مذہبی طور پر بھی پوری طرح اس کے زیر اثر آ گیا ہے تو اس نے اس کو اپنا آلہ کار بنا کر اپنی ایک دیرینہ خواہش پوری کرنے کا منصوبہ بنایا مکہ کو کعبہ شریف کی وجہ سے سارے جزیرہ عرب میں جو احترام ، جو مرکزیت اور جو اہمیت حاصل تھی اس سے سب باخبر تھے۔
روحانی عقیدت کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ مکہ کو کاروباری میدان میں بھی بڑی مرکزیت اور بالا دستی حاصل تھی مشرق اور مشرق بعید سے جتنا تجارتی سامان بادبانی کشتیوں کے ذریعہ یمن کی بندر گاہوں تک پہنچتا تھا اسے مکہ کے تجار ہی وہاں سے خرید کر اور اپنے اونٹوں پر لاد کر مصر، شام کے علاوہ بحر روم کی دوسری بندر گاہوں تک پہنچاتے وہاں کے تاجروں کے ہاتھ فروخت کرتے پھر اس رقم سے مغربی ممالک اور مصر وغیرہ سے آیا ہوا سامان خریدتے اپنے اونٹوں پر لادتے اور یمن کی بندر گاہوں تک پہنچاتے جس سے مکہ کے تاجر پیشہ لوگوں کی مالی حالت بڑی مستحکم ہو گئی تھی۔ قیصر کو اگرچہ شام، فلسطین، مصر وغیرہ پر سیاسی غلبہ حاصل تھا اور یمن میں بھی اس کا گورنر حکمران تھا لیکن اس کی یہ آرزو تھی کہ مکہ بھی اس کے زیر نگین ہو جائے تاکہ یہ تجارتی شاہراہ اس کے قبضہ میں آ جائے چنانچہ اس نے عثمان بن حویرث مذکور کو بہت سا سونا دے کر مکہ بھیجا کہ وہ سونے کے ان ذخائر کے ذریعہ مکہ کے امراء کے ضمیر خریدے اور ان کو قیصر کی سیاسی بالادستی قبول کرنے پر آمادہ کرے ۔ یہ ایک بڑی خطر ناک سازش تھی اور اس سازش کو کامیاب بنانے کے لیے قیصر روم نے اپنے شاہی خزانوں کے منہ کھول دیئے تھے اور عثمان مذکور کو کافی عرصہ تک اپنے پاس رکھا اس کو گونا گوں انعامات سے مالا مال کر تا رہا اس کو ذہنی طور پر تیار کرتا رہا اور جب اسے اس کی وفاداری پر پورا یقین ہو گیا تو اس نے خزانوں سے لدے ہوئے اونٹوں کی ہمراہی میں اسے مکہ بھیجا اس نے بڑی ہوشیاری اور راز داری سے مہم کا آغاز کیا اور لوگوں کے ضمیر خریدنے کے لیے داد و دہش کا بازار گرم کر دیا۔ لیکن جب اس سازش کا علم سرکار دو عالمﷺ کو ہوا تو حضورﷺ نے اس خطرناک سازش کو تہس نہس کرنے کا عزم مصمم کر کے اپنی قوم کی غیرت کو للکارا۔ حضور نبی کریمﷺ کی اس بر وقت اور جرأت مندانہ پیش قدمی سے ساری قوم کی آنکھیں کھل گئیں اس طرح اہل مکہ کی سیاسی آزادی کے افق پر غلامی کی جو کالی گھٹا گھر کر آ گئی تھی وہ چھٹ گئی اور مطلع صاف ہو گیا۔ اگر حضورﷺ بر وقت اقدام نہ کرتے اور اپنی قوم کو اس خطرناک سازش کے ہولناک انجام سے آگاہ نہ فرماتے تو معلوم نہیں مکہ بلکہ سارے جزیرہ عرب کا انجام کیا ہوتا۔ یہ واقعہ بھی اعلان نبوت سے پہلے کا ہے۔ اس قسم کے سارے واقعات اس بات کی نا قابل تردید گواہی دے رہے تھے کہ یہ ہستی ایک عظیم انقلاب کی داعی بن کر ابھرنے والی ہے۔ جو بنی نوع انسان کو صرف ظاہری غلامی کی زنجیروں سے ہی آزاد نہیں کرے گی بلکہ جسمانی روحانی، اخلاقی اور ذہنی جملہ قسم کی غلامیوں سے نجات کا مژدہ جان فزا ثابت ہوگی۔
(کتاب سیرت جسٹس امیر علی، صفحہ31 ، بزبان انگلش )
( کا زن ڈی پر سیوال CAUSSIN-DE-PERCEVAL جلد اول، صفحہ335)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲