Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 151کعبہ مشرفہ کی تعمیر نو: حصہ سوم)


سارے قبائل اپنے اپنے مقررہ حصہ کی تعمیر میں مشغول ہو گئے کام کی رفتار تسلی بخش تھی محبت و پیار کی فضا میں ہر چیز حسن و خوبی سے سر انجام پا رہی تھی۔ لیکن جب حجر اسود رکھنے کا وقت آیا تو اچانک اندھی عصبیت کے سوئے ہوئے فتنے انگڑائی لینے لگے دیوار کعبہ میں حجر اسود نصب کرنا بہت بڑا اعزاز تھا۔ ہر قبیلہ کی یہ خواہش تھی کہ یہ اعزاز اُسے حاصل ہو دوسرے قبائل اگر خوشی سے اس کے حق میں دستبردار ہونے پر آمادہ نہ ہوں تو وہ بزور شمشیر بھی یہ اعزاز حاصل کر کے رہے گا۔ بنو عبدالدار نے اپنے قبیلہ کے قابل ذکر افراد اور اپنے حلفاء کو مشورہ کے لئے جمع کیا انہوں نے اجتماعی طور پر یہی فیصلہ کیا کہ حجر اسود، دیوار کعبہ میں وہی نصب کریں گے اس عہد و پیمان کو مزید پختہ کرنے کے لئے خون کا بھرا ہوا پیالہ محفل میں لایا گیا انہوں نے اور ان کے حلیفوں نے اس خون میں ہاتھ ڈبو کر اس عہد پر ثابت قدم رہنے کی قسمیں اٹھائیں کہ وہ جان دے دیں گے لیکن کسی دوسرے قبیلہ کو یہ اعزاز حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ مسلسل چار پانچ روز تک حالات بڑے کشیدہ رہے ہر لحظہ لڑائی چھڑ جانے کا خطرہ بڑھتا جا رہا تھا کسی وقت بھی کوئی دھماکہ ہو سکتا تھا۔ آخر ایک روز اس نزاع کا تصفیہ کرنے کے لئے سب مسجد حرام میں اکٹھے ہوئے۔ ابو امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمرو بن مخزوم جو ولید بن مغیرہ سابق الذکر کا بھائی اور عمر میں سب سے بڑا تھا کھڑا ہوا اور اس نے کہا۔
“يَا مَعْشَرَ قُرَيۡشٍ : اِجْعَلُوۡا بَيْنَكُمْ فِيۡمَا تَخْتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ اَوَّلُ مَنْ يَّدْخُلُ مِنْ بَابِ هٰذَا الْمَسْجِدِ يَقْضِيۡ بَيْنَكُمْ فِيۡهِ فَفَعَلُوۡا”
ترجمہ: اے گروہ قریش! جس معاملہ میں تمہارے درمیان اختلاف رونما ہو گیا ہے اس کا فیصلہ کرنے کے لئے اس شخص کو اپنا حکم بنا لو جو کل سب سے پہلے اس مسجد کے دروازہ سے داخل ہو اس کی بات پر سب متفق ہوں گے۔
(السيرة النبویہ ، ابن کثیر، جلد اول، صفحہ380 و جملہ کتب سیرت )

دوسری صبح سب سے پہلے حرم شریف کے اس دروازہ سے جسے باب بنی شیبہ کہا جاتا ہے حضور سرور کائنات ﷺ حرم مسجد میں داخل ہوئے۔ حضورﷺ کو دیکھ کر لوگوں کی مسرت کی کوئی حد نہ رہی۔ ان میں سے جو بزرگ ترین شخص تھا اس نے کہا۔ “هٰذَا الْاَمِيۡنُ رَضِيۡنَا بِهٖ حَكَمًا هٰذَا مُحَمَّدٌﷺ” ترجمہ: یہ محمد ﷺہیں، یہ امین ہیں، ہم سب ان کے فیصلہ پر راضی ہیں۔
(السيرة النبویہ ابن ہشام ، جلد اول، صفحہ214)

جب حضور ﷺ ان کے نزدیک پہنچے تو انہوں نے سارا ماجرا عرض کیا۔ حضورﷺ نے ان کی عرضداشت کو قبول کرتے ہوئے فرمایا : هَلُمَّ اِلَىَّ ثَوْبًا ترجمہ:میرے پاس ایک چادر لے آؤ ۔
وہ چادر لے آئے حضورﷺ نے اس چادر کو زمین پر بچھایا اور اپنے دست مبارک سے حجر اسود کو اٹھا کر چادر کے درمیان میں رکھ دیا۔ ہر قبیلہ کے ہر خاندان کے ایک ایک سردار کو بلایا اور فرمایا سب مل کر اس چادر کو پکڑ لو۔ اور پتھر کو اٹھا کر لے آؤ سب نے اس چادر کو تھام لیا جب وہ اس مقام پر پہنچے جہاں حجر اسود نصب کرنا تھا تو حضورﷺ نے اپنے یَمَن و برکت والے ہاتھوں سے اسے اٹھایا اور دیوار میں اس کے مقررہ مقام پر رکھ دیا۔ اس طرح اس مقدس کام میں شرکت کا فخر بھی سب کو حاصل ہو گیا فتنہ و فساد کے بھڑکنے والے شعلے اپنی موت آپ مر گئے اور سب کے دلوں میں مسرت و شادمانی کی لہر دوڑ گئی۔ اس طرح کعبہ کا کام جو کئی روز تک تعطل کا شکار رہا تھا ایک نئے ذوق شوق سے شروع ہو گیا کعبہ شریف کی جو عمارت اب تعمیر ہوئی اس کی بلندی اٹھارہ اذرع (ہاتھ ) تھی چھ یا سات ہاتھ رقبہ شمالی جانب سے داخل نہ کیا جا سکا جس کی وجہ پہلے بیان کی جا چکی ہے۔ صرف ایک دروازہ مشرقی سمت میں رکھا گیا اور وہ بھی سطح زمین سے کافی بلندی پر ۔ مقصد یہ تھا کہ کوئی آدمی ان کی اجازت کے بغیر کعبہ کےاندر داخل نہ ہو سکے ۔

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔
“اَنَّ رَسُوۡلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا اَلَمْ تَرَى اَنَّ قَوْمَكِ قَدْ قَصَرَتْ بِهِمُ النَّفْقَهُ وَلَوْلَا حُدۡثَانُ قَوْمِکِ بِكُفْرٍ لَنَقَضْتُ الۡكَعْبَةَ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابًا شَرْقِيًّا وَّبَابًا غَرْبِيَّا وَّ اَدْخَلْتُ فِيۡهَا الْحِجْرَ”
ترجمہ:آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اے عائشہ! تو نہیں دیکھتی کہ تیری قوم کا سرمایہ کم ہو گیا تو انہوں نے حجر کا رقبہ کعبہ سے باہر نکال دیا اگر تیری قوم کفر سے نئی نئی تائب نہ ہوئی ہوتی تو میں کعبہ کو گرا دیتا اور اس کے شرقا غربا دو دروازے رکھتا اور حجر کو کعبہ میں داخل کر دیتا۔ ( الصحيحين)
سب سے پہلے کعبہ پر قباطی کا غلاف چڑھایا گیا قباطی، ایک سفید رنگ کا کپڑا تھا جو مصر میں تیار ہوتا تھا۔ اس کے بعد برود یعنی یمنی چادروں کا غلاف بنا کر پہنایا گیا۔ سب سے پہلے حجاج بن یوسف نے دیباج کا غلاف بنا کر نذر کیا۔
(السيرة النبویہ ابن کثیر، جلد اول، صفحہ282)

حضور ﷺ کے اطوار و شمائل کو دیکھ کر لوگ پہلے بھی دیدہ و دل فرش راہ کئے رہتے تھے اہل مکہ حضور ﷺکے صدق مقال ، حسن معاشرت اور صفت دیانت وامانت سے اتنے متاثر تھے کہ حضورﷺ کو الصادق و الامین کے لقب سے یاد کرتے تھے لیکن اس جھگڑے کا حکیمانہ فیصلہ فرما کر تو حضورﷺ نے سب کے دل موہ لئے۔ اس وقت کے شعراء اپنے جذبات کے اظہار سے کیسے باز رہ سکتے تھے چنانچہ ایک قادر الکلام شاعر نے ایک طویل قصیدہ لکھا ہے۔ اس کے چند اشعار ہدیہ قارئین ہیں۔ اس سے قارئین ان جذبات احترام و عقیدت کا بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں جو اس وقت کے معاشرہ میں لوگوں کے دلوں میں حضور ﷺ کے بارے میں موجزن تھے۔ ہبیرہ بن وہب المخزومی اپنے قصیدہ میں اپنی عقیدت و محبت کا اظہار یوں کرتا ہے۔

تَشَاجَرَتِ الْاَحْيَاءُ فِيۡ فَصْلِ خُطَّةٍ
جَرَتْ بَيْنَهُمۡ بِالنَّحْسِ مِنْ بَعْدِ اَسْعَدٖ
ایک بات کے فیصلہ کرنے میں قبائل میں اختلاف رونما ہو گیا ایسا اختلاف جس نے سعادت کے بعد انہیں نحوست سے دوچار کر دیا۔

فَلَمَّا رَاَيْنَا الْاَمْرَ قَدَ جَدَّ جِدُّهٗ
وَلَمْ يَبْقَ شَیْئٌ غَيْرَ سَلِّ الْمُهَنَّدٖ
جب ہم نے دیکھا کہ معاملہ از حد سنگین ہو گیا ہے اور تیز تلوار کے میان سے نکالنے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں رہا۔

رَضِيۡنَا وَقُلْنَا الْعَدْلُ اَوَّلُ طَالِعٍ
يَجِیۡئُ مِنَ الْبَطْحَآءِ مِنْ غَيْرِ مَوْعِدٖ
ہم اس بات پر راضی ہو گئے کہ جو شخص کل صبح سب سے پہلے حرم میں داخل ہو گا وہی عدل کرے گا۔

فَفَاجَانَا هٰذَا الْاَمِيۡنُ مُحَمَّدٌﷺ
فَقُلْنَا رَضِيۡنَا بِالْاَمِيۡنِ مُحَمَّدٖ
پس اچانک یہ امین جس کا نام نامی محمدﷺ ہے وہ آتا ہوا نظر آیا اس کو دیکھ کر ہم نے کہا ہم راضی ہو گئے اس امین کے ساتھ اس محمدﷺ کے ساتھ ۔

بِخَيْرِ قُرَيۡشٍ كُلِّهَا اَمْسِ شِيۡمَةً
وَفِي الْيَوْمِ مَعَ مَا يُحْدِثُ اللهُ فِي ۡغَدٖ
وہ اپنے شمائل کریمہ کے طفیل کل بھی اور آج کے دن بھی تمام قریش سے بہترین ہیں۔ اور آئندہ کل بھی اللہ تعالیٰ اس پر جو مہربانیاں کرنے والا ہے اس کے بارے میں ہم اندازہ نہیں لگا سکتے۔

فَجَآءَ بِاَمْرٍ لَمْ يَرَى النَّاسُ مِثْلَهٗ
اَعَمُّ وَاَرْضٰی فِي الْعَوَاقِبِ وَالْبَدَءٖ
انہوں نے اس جھگڑے کا ایسا فیصلہ کیا جس کی مثال لوگوں نے آج تک نہیں دیکھی۔ اس کا فیض عام تھا جس کی ابتدا اور جس کا نتیجہ دونوں دلوں کو خوش کرنے والے تھے۔

وَكُلٌّ رَضِيۡنَا فِعْلَهٗ وَصَنِيۡعَهٗ
فَاَعْظَمُ بِهٖ مِنْ رَاَى هَادٍ وَ مُهۡتَدٖى
ہم سب اس کے اس کارنامے اور اس شاندار عمل پر راضی ہو گئے پس اس ھادی اور مہدی ﷺکی رائے کتنی عظیم الشان تھی۔

وَتِلْكَ يَدٌ مِنْهُ عَلَيْنَا عَظِيۡمَةٌ
يَرُوۡحُ لَهَا هٰذَا الزَّمَانُ وَيَغْتَدٖى
ہم پر آپﷺ کا یہ جلیل القدر احسان ہے جو آج بھی اور کل بھی ہمیشہ باقی رہے گا۔
(السيرة النبویہ ابن کثیر، جلد اول، صفحہ214)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top