Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 150کعبہ مشرفہ کی تعمیر نو: حصہ دوم)


جب قریش نے کعبہ کی اس شکستہ عمارت کو گرا کر نئی عمارت تعمیر کرنے کا عزم مصمم کر لیا تو ان میں سے ایک بزرگ ابو وہب نے کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا: “يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لَا تُدْخِلُوۡا فِيۡ بِنَآءِهَا مِنْ كَسْبِكُمۡ اِلَّا طَيِّبًا وَّلَا يُدْخَلُ فِيۡهَا مَهْرُ بَغِيٍّ وَلَا بَيْعُ رِبًا وَلَا مُظْلَمَةُ اَحَدٍ مِّنَ النَّاسِ”
ترجمہ:اے گروہ قریش! کان کھول کر سن لو۔ کعبہ کی تعمیر میں اپنی پاک اور حلال کمائی کے سوا کوئی چیز داخل نہ کرنا۔ کسی بدکارہ کی آمدنی، کوئی سود، کسی آدمی پر ظلم سے حاصل کی ہوئی دولت اس فنڈ میں ہرگز شامل نہ کرنا۔
(السيرة النبویہ ، ابن کثیر، جلد اول، صفحہ 277 و جملہ کتب سیرت)

“وَكَانَ خَالُ اَبِ النَّبِيِّ ﷺ وَكَانَ شَرِيۡفًا مَّمۡدَحًا”
ترجمہ:یہ ابو وہب، حضرت عبداللہ کے ماموں تھے۔ اور جو اپنی سخاوت اور شرافت میں اپنی مثال آپ تھے۔
ضرورت کا سارا سامان مہیا ہو گیا تھا دوسرے انتظامات بھی مکمل ہو گئے تھے لیکن قریش کو ابھی کئی رکاوٹوں کا سامنا تھا۔ کعبہ خدا کا گھر تھا۔ اس کا گرانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ابرہہ کا عبرتناک انجام انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ یہ خوف انہیں بار بار پریشان کر رہا تھا کہ کہیں کعبہ کو گرا کر وہ غضب الہیٰ کا شکار نہ ہو جائیں کعبہ کو نیا تعمیر کرتے کرتے کہیں ان کے گھروں کی اینٹ سے اینٹ نہ بجا دی جائے۔ نیز کعبہ کے اندر جو کنواں تھا۔ اس میں سے ایک خوفناک اژدھا کبھی کبھی نکلا کرتا اور کعبہ کی دیوار پر چڑھ کر دھوپ تاپا کرتا اس کا ڈر بھی انہیں کوئی اقدام کرنے سے روکتا تھا۔ ایک روز اژدها حسب عادت دیوار پر لیٹا ہوا تھا کہ فضا سے ایک پرندہ جھپٹا اور اس کو اچک کر لے گیا۔ یہ منظر دیکھ کر قریش کی ایک پریشانی دور ہو گئی اس کو انہوں نے تائید ایزدی سمجھا انہیں تسلی ہو گئی کہ جس کام کا انہوں نے ارادہ کیا ہے وہ منشائے خداوندی کے مطابق ہے۔ دوسری جھجک کو دور کرنے کے لئے ولید بن مغیرہ آگے بڑھا اور اس نے کہا۔ “اَنَا اَبْدَاَكُمْ فِيۡ هَدْمِهَا فَاَخَذَ الْمِعْوَلَ ثُمَّ قَامَ عَلَيْهَا وَهُوَ يَقُوۡلُ اَللّٰهُمَّ لَا تُرِعۡ : اَللّٰهُمَّ اِنَّا لَا نُرِيۡدُ اِلَّا الْخَيْرَ”
ترجمہ: میں اس عمارت کے گرانے کی ابتدا کرتا ہوں اس نے کدال لی اور جنوبی دیوار کے چند پتھر گرائے وہ پتھر بھی گرا رہا تھا اور یہ دعا بھی مانگ رہا تھا۔ اے اللہ ! ہمیں خوفزدہ نہ کرنا۔ اے اللہ ! ہم صرف خیر کا ارادہ رکھتے ہیں۔
(السيرة النبویہ ، ابن ہشام، جلد اول، صفہ211)

لوگوں نے کہا اگر رات بخیریت گزر گئی تو ہم سمجھیں گے کہ اس معاملہ میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہے۔ ورنہ ان گرے ہوئے پتھروں کو اٹھا کر ان کی جگہ پر رکھ دیں گے اور اپنے اس ارادہ کو فسخ کر دیں گے۔ چنانچہ رات خیر و عافیت سے گزر گئی۔ سب لوگوں نے مل کر کعبہ کی پہلی خسۃ عمارت کو منہدم کر دیا تعمیر کعبہ کے لئے انہوں نے تقسیم کار کے اصول پر عمل کیا مختلف قبائل کو ایک ایک دیوار کی تعمیر کی ذمہ داری تفویض کی گئی۔ مشرقی دیوار، جس میں خانہ کعبہ کا دروازہ شریف نصب ہے اس کی تعمیر بنو عبد مناف اور بنو زہرہ قبیلوں کے سپرد کی گئی۔ جنوبی دیوار حجر اسود سے لے کر رکن یمانی تک بنو مخزوم اور چند دوسرے قریشی قبائل کے حوالے کی گئی۔ مغربی دیوار یعنی پشت کعبہ کی تعمیر بنو جمح، بنو سہم جو عمرو بن ہصیص بن کعب بن لوئی کی ذمہ داری قرار پائی۔ شمالی دیوار، جس طرف حطیم ہے اس کو تعمیر کرنے کا کام بنو عبدالدار ، بنواسد ، بنو عدی کے سپرد ہوا ۔ اس کے بعد سارے قریش بڑے خلوص اور انہماک سے اللہ تعالیٰ کے اس مقدس گھر کی تعمیر میں مشغول ہو گئے۔ اپنے جد امجد سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی یاد کو بڑے ذوق شوق سے تعمیر کر رہے تھے۔ کیونکہ یہی گھر ان کی عزت ، معاشی خوشحالی اور سیاسی اقتدار کا عنوان تھا اور یہی ان کی اولین پہچان تھی۔ لیکن انہوں نے بہت جلد محسوس کر لیا کہ تعمیر کا جو ساز و سامان انہوں نے اکٹھا کیا ہے اس سے وہ ان بنیادوں پر کعبہ کی تعمیر نہیں کر سکیں گے جن بنیادوں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کو تعمیر کیا تھا۔ اور مزید سامان فراہم کرنے کی ان میں سکت نہیں تھی ان کے لئے اس کے بغیر چارہ نہ تھا کہ وہ اصلی رقبہ میں سے کچھ رقبہ نکال دیں اور جتنے طول و عرض پر چھت ڈالنے کا ان کے پاس سامان ہے اس پر چھت ڈال دیں اور بقیہ رقبہ کی چھوٹی دیوار سے حد بندی کر دیں تاکہ طواف کرنے والے کعبہ کے سارے رقبہ کا طواف کر سکیں۔ یہاں پر دل میں یہ خلش پیدا ہوتی ہے کہ مکہ میں تو بڑے بڑے رؤساء اور تجار موجود تھے ایک ایک شخص ایسا ایک مکان تو کیا بڑے سے بڑا محل بھی تعمیر کرنا چاہتا تو باآسانی کر سکتا تھا یہ کوئی ایسی کمی نہ تھی جسے سارے مکہ والے بھی مل کر پورا نہ کر سکتے تھے۔ نیز دوسرے عرب قبائل سے بھی مالی تعاون کی اپیل کی جا سکتی تھی اور سب کے سب حرم مکہ کے دلی عقیدت مند تھے۔

ان حالات میں یہ کیسے باور کر لیا جائے کہ سرمایہ کی کمی کے باعث کعبہ اپنی اصلی بنیادوں پر تعمیر نہ ہو سکا۔ اس کے لئے گزارش ہے کہ بے شک مکہ میں صاحب ثروت لوگ موجود تھے جن کے تجارتی کاروان یمن سے شام تک آتے جاتے تھے لیکن ان کی دولت کا بیشتر حصہ نا جائز ذرائع سے کمایا ہوا ہوتا تھا سود خوری، قمار بازی، ڈاکہ زنی، غصب، لوٹ مار کی کمائی سے ان کا سارا سرمایہ ملوث تھا اور تعمیر کعبہ کا کام شروع کرنے سے پہلے انہوں نے یہ طے کیا تھا کہ وہ اس میں صرف اور صرف حلال طیب مال خرچ کریں گے ۔ اس شرط نے ان کے دائرہ کو تنگ کر دیا تھا۔ جس دولت کے ان کے پاس انبار تھے یا وہ سراسر حرام تھی یا اس میں حرام ذریعہ سے کمائی ہوئی دولت کی ملاوٹ تھی اسے وہ کیسے خرچ کر سکتے تھے۔ چنانچہ تعمیر کعبہ کا کام زور شور سے شروع ہو گیا ہر کار خیر میں آگے آگے رہنے والا مصطفیٰ کریمﷺ اپنے خالق کریم کے گھر کی تعمیر سے کیونکر لا تعلق رہ سکتا تھا۔ حضور سرور عالمﷺ از اول تا آخر بڑے جوش و خلوص سے اس مقدس کام میں شامل رہے۔ حضور ﷺاپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے شریک کار تھے۔ دونوں مل کر پتھر اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ حضورﷺ کے مبارک کندھے پر پتھروں کی رگڑ سے خراشیں پڑ رہی ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ حضورﷺ اپنی چادر اپنے کندھوں پر رکھ لیں تو پتھر ڈھونے میں دقت نہ ہوگی۔ حضور ﷺنے تہہ بند اتار کر کندھے پر رکھ لیا ایسا کرتے ہی غشی کی کیفیت طاری ہو گئی جب ہوش آیا اس وقت اپنا تہہ بند باندھ لیا۔اس سے کسی کو یہ وسوسہ نہ ہو کہ پینتیس سال کی عمر میں چادر اتار کر کندھے پر ڈال لینے سے تو عریانی لازم آتی ہے اس کے بارے میں عرض ہے کہ عرب کا عام لباس یہ تھا کہ نیچے تہہ بند اوپر لمبی ٹخنوں تک لٹکی ہوئی قمیص۔ اگر کسی نے قمیص نہ پہنی ہو صرف تہبند باندھا ہو پھر تو تہبند کھولنے سے وہ ننگا ہو جاتا ہے۔ لیکن جس نے اتنی لمبی قمیص پہنی ہوئی ہو تو اگر وہ تہبند اتار بھی دے تو عام حالات میں ننگا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ اس حالت میں یہ امکان ضرور ہے کہ پتھر اٹھانے کے لئے انسان بیٹھے یا کھڑا ہو تو ستر عورت کا اہتمام نہ رہے اللہ تعالیٰ جو بچپن سے ہی اپنے محبوب بندےﷺ کا مربی اور مؤدب ہے اس کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ اس کا حبیبﷺ ایسے لباس میں ہو جہاں کسی صورت میں بھی عریانی کا امکان تک بھی پایا جاتا ہو۔ اس لئے فوراً تنبیہ کر دی گئی حضورﷺ نے تہبند کندھے سے اٹھا کر کمر سے باندھ لیا۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top