سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمان الہیٰ کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور اپنے شیر خوار شہزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو شام کے لالہ زاروں سے لا کر حجاز کے بے آب و گیاہ ریگستان میں وہاں آ کر چھوڑ دیا جہاں اب حرم کعبہ ہے۔ جب کھجوروں کا تھیلا اور پانی کا مشکیزہ ختم ہو گیا اور بچہ پیاس کی شدت سے تڑپنے لگا تو حضرت ہاجرہ علیہا السلام بے تاب ہو گئیں۔ قریب ہی دو پہاڑیاں تھیں صفا اور مردہ ، کبھی وہ ایک پہاڑی پر چڑھ جاتیں اور کبھی دوسری پر اور وہاں کھڑی ہو کر دور دور تک نگاہ دوڑائیں ۔ شائد کہیں کوئی انسان نظر آ جائے یا کسی انسانی آبادی کا سراغ مل جائے اس اضطراب میں انہوں نے صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگائے اچانک اپنے بچے کی طرف مڑ کر دیکھا تو ان کی حیرت کی حد نہ رہی کہ قدرت الہیٰ سے وہاں ایک چشمہ ابل پڑا تھا یہ سارے واقعات بڑی تفصیل سے آپ پہلے پڑھ چکے ہیں۔ ہم نے وہاں یہ بھی بتایا ہے کہ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام جوان ہو گئے باپ بیٹے نے حکم الہیٰ سے اپنے رب کریم کا گھر تعمیر کیا اس کے بعد تین ہزار سال کا طویل عرصہ گزر گیا اس عرصہ میں کتنے طوفان آئے ہوں گے۔ کتنی موسلا دھار بارشیں برسی ہوں گی۔ کعبہ مشرفہ کی جو عمارت حضرت خلیل اللہ علیہ السلام نے تعمیر کی تھی اس میں اس وقت تک کتنے تغیرات رو پذیر ہو چکے ہوں گے۔ بعض روایات میں ہے کہ کچھ عرصہ بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر کردہ عمارت منہدم ہو گئی تو عمالقہ نے اسے دوبارہ تعمیر کیا۔ کسی سیلاب کی وجہ سے یہ عمارت پھر گر گئی تو قبیلہ جرہم نے اس کی تعمیر نو کی۔ بہر حال ان تفصیلات کا تذکرہ مطلوب نہیں۔ جس وقت کی ہم بات کر رہے ہیں اس وقت کعبہ کی کیفیت یہ تھی کہ پتھروں کی ایک چار دیواری تھی جس کی اونچائی انسان کے قد سے کچھ زیادہ تھی۔ پتھر جوڑ جوڑ کر یہ چار دیواری بنائی گئی تھی جنہیں آپس میں جوڑنے کے لئے گارا استعمال کرنے کا تکلف بھی نہیں کیا گیا تھا اور اس چار دیواری پر چھت بھی نہیں تھی۔ان حالات میں قریش کو خانہ کعبہ کی از سر نو تعمیر کا شدت سے احساس ہوا۔ بعض روایات میں ہے کہ کعبہ کی تعمیر سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے کی لیکن ان روایات کے بارے میں علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ کی تحقیق یہ ہے کہ یہ روایات صحیح نہیں ہیں۔
انہوں نے اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے قرآن و سنت سے استدلال کیا ہے فرماتے ہیں۔
وَلَا يَصِحُّ ذٰلِكَ فَاِنَّ ظَاهِرَ الْقُرْاٰنِ يَقْتَضِيۡ اَنَّ اِبْرَاهِيۡمَ اَوَّلُ مَنْ بَنَاهُ مُبْتَدِئًا وَّاَوَّلُ مَنْ اَسَّسَهٗ وَكَانَتْ بُقْعَتُهٗ مُعَظَّمَةً قَبْلَ ذٰلِكَ مُعْتَنًى بِهَا مُشَرَّفَةً فِيۡ سَائِرِ الْاَعْصَارِ وَالْاَوْقَاتِ قَالَ اللهُ تَعَالٰى:
اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیۡ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ہُدًی لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿96﴾ فِیۡہِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبۡرٰہِیۡمَ ۬ۚ وَ مَنۡ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا ؕ وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الۡبَیۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿97﴾
ترجمہ:یہ رائے کہ حضرت آدم علیہ السلام معمار اول ہیں درست نہیں کیونکہ قرآن کریم کی آیات کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کعبہ شریف کے پہلے معمار سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں ویسے یہ مقام جہاں کعبہ تعمیر کیا گیا اس سے پہلے بھی بڑا معزز اور محترم تھا اور اسے عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ ارشاد خداوندی ہے۔
ترجمہ: بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا وہی ہے جو مکہّ میں ہے، برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لئے (مرکزِ) ہدایت ہے۔ اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ان میں سے ایک) ابراہیم (علیہ السلام) کی جائے قیام ہے، اور جو اس میں داخل ہوگیا امان پا گیا، اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اور جو (اس کا) منکر ہو تو بیشک اللہ سب جہانوں سے بے نیاز ہے۔
(سورۃ آل عمران،آیۃ،97،96)
(السيرة النبویہ ، ابن کثیر، جلد اول، صفحہ271)
صحیح حدیث نبویﷺ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
“عَنْ اَبِيۡ ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُوۡلَ اللَّهِ اَيُّ مَسْجِدٍ وُّضِعَ اَوَّلُ ؟قَالَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ قُلْتُ ثُمَّ اَيُّ؟ قَالَ الْمَسْجِدُ الْاَقْصٰى قُلْتُ كَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ اَرْبَعُوۡنَ سَنَةً”
ترجمہ:حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہﷺ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ فرمایا مسجد حرام ۔ پھر عرض کی اس کے بعد فرمایا مسجد اقصیٰ پھر پوچھا ان کے درمیان کتنا عرصہ گزرا فرمایا چالیس سال ۔(بخاری مسلم)
کعبہ مشرفہ کی تعمیر نو کی فوری وجہ یہ تھی کہ کعبہ کے اندر ایک کنواں تھا زائرین کعبہ شریف کے لئے جو نذرانے اور تحائف پیش کرتے تھے وہ اس کنویں میں ڈال دیئے جاتے تھے وہاں قیمتی اشیاء اور سونے کے زیورات کا ایک گراں بہا خزانہ جمع ہو گیا کعبہ شریف کا کوئی دروازہ بھی نہ تھا۔ ایک رات چند چوروں نے اندر داخل ہو کر کچھ قیمتی اشیاء چوری کر لیں جب ان کی تلاش کی گئی تو دویک نامی ایک شخص کے پاس سے مل گئیں۔ دویک بنو ملیح بن عمرو خزاعی کا آزاد کردہ غلام تھا۔ مسروقہ اشیاء قبضہ میں لے لی گئیں اسے پکڑ کر قریش کے حوالے کر دیا گیا قریش نے سرقہ کے جرم میں اس کا ہاتھ کاٹ دیا بعض لوگوں کا خیال ہے چور دوسرے لوگ تھے وہ ان مسروقہ اشیاء کو دویک کے پاس رکھ گئے تھے۔
(السيرة النبویہ ، ابن ہشام، جلد اول، صفحہ209)
جب قریش نے اس کار خیر کا عزم کیا اور اس کے لئے تیاری شروع کی اس وقت رحمتﷺکی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کو دس سال گزر چکے تھے اور حضورﷺ اپنی حیات طیبہ کے پینتیسویں (35) سال میں تھے۔ ہر قبیلہ اپنے اپنے حصہ کے مطابق سامان فراہم کرنے میں مشغول ہو گیا۔ پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر پتھر تیار کئے جا رہے تھے انہیں دنوں اتفاق سے ایک بادبانی کشتی کو سمندر کی تند موجوں نے دھکیل کر جدہ کے ساحل پر پھینک دیا۔ وہ ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی تھی۔ بعض نے اس بندرگاہ کا نام شعیبیہ بتایا ہے جو بحر حجاز کے ساحل پر کشتیوں کی بندرگاہ تھی۔ اس کی قیمتی لکڑی بڑی کار آمد تھی۔ قریش کو معلوم ہوا تو انہوں نے اس کے تختے خرید لئے۔ شیخ ابراہیم عرجون اس کے بارے میں لکھتے ہیں قیصر روم نے حبشہ کے ایک گرجا کی مرمت کے لئے جسے ایرانیوں نے جلا دیا تھا اس کشتی میں تعمیر کا سامان بھیجا تھا۔ اب جب یہ کشتی شعیبیہ کی بندرگاہ پر پہنچی تو سمندری طوفان کی تند و تیز لہروں نے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
“وَتَسَامَعَتْ بِهَا قُرَيْشٌ فَتَبَاعُوۡا مَا فِيۡهَا وَكَلَّمُوۡا بِبَا قُوْمِ فَقَدَمَ مَعَهُمۡ اِلٰى مَكَّةَ”
ترجمہ:قریش کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس کے تختوں کو خرید لیا اور باقوم کے ساتھ کعبہ کی تعمیر کے بارے میں بات کی۔ وہ ان کے ساتھ مکہ مکرمہ آیا۔
(محمد رسول الله ، جلد اول، صفحہ187)
یہ با قوم کون تھا ؟بعض کے نزدیک یہ اس انجینئر کا نام ہے جسے قیصر روم نے سامان تعمیر سے بھری ہوئی اس کشتی کے ہمراہ بھیجا تھا تا کہ وہ اپنی نگرانی میں حبشہ میں اس کنیسہ کی تعمیر کرائے جسے ایرانیوں نے بھیجا تھا۔ اور ابن اسحاق علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ وہ ایک قبطی بڑھئی تھا اور مکہ میں اقامت گزیں تھا قریش نے اس کی خدمات حاصل کیں۔
(السيرة النبویہ، ابن کثیر، جلد اول، صفحہ 276)
امام ابن ہشام علیہ الرحمۃ نے بھی اس قول کو اپنی کتاب سیرت میں نقل کیا ہے۔
“وَكَانَ بِمَكَّةَ رَجُلٌ قِبْطِيٌ نَجَّارٌ”
ترجمہ: وہ لکڑی کا ماہر کاریگر تھا۔ کعبہ مشرفہ کے لئے دروازے، شہتیر، بالے وغیرہ بنانے کا کام اس کے سپرد کیا گیا۔
(السيرة النبویہ ، ابن ہشام، جلد اول، صفحہ209)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲