(حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے عقد نکاح :حصہ اول)
اس سے پیشتر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی دو مرتبہ شادی ہو چکی تھی۔ اور آپ رضی اللہ عنہا کے دونوں شوہر فوت ہو گئے تھے۔ ان سے آپ رضی اللہ عنہا کی اولاد بھی تھی۔ اس کے بعد بڑے بڑے امراء اور رؤسا نے کوشش کی کہ وہ انہیں رشتہ ازدواج میں قبول کریں لیکن حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کسی کی طرف التفات نہ کیا۔ سرور عالمﷺ کے ظاہری اور باطنی کمالات کو دیکھ کر انہوں نے ایک زیرک اور دور اندیش خاتون کی طرح فیصلہ کیا کہ وہ حضورﷺ سے عقد کریں گی۔ حضورﷺ کی مرضی دریافت کرنے کے لئے اپنی ایک ہم راز سہیلی نفیسہ بنت منیہ کو کہا کہ وہ کسی طرح حضورﷺ کی رائے اس بارے میں معلوم کرے۔ یہ واقعہ نفیسہ کی زبانی سنئے۔ نفیسہ نے کہا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایک عقل مند، بہادر اور شریف النفس خاتون تھیں نسب میں اعلیٰ، شرافت میں ارفع ، مال و ثروت میں سب سے زیادہ ، ساری قوم کے شرفاء ان سے نکاح کرنے کے لئے بے قرار تھے، سب نے کوشش کی لیکن بے سود۔ نفیسہ کہتی ہے جب حضورﷺ سفر شام سے واپس تشریف لائے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے مجھے مامور کیا کہ میں حضورﷺ کی رائے دریافت کروں۔ چنانچہ میں آپﷺ کے پاس گئی اور پوچھا۔ آپﷺ شادی کیوں نہیں کرتے؟ آپﷺ نے فرمایا میرے پاس سرمایہ نہیں جس سے شادی کا فریضہ ادا کر سکوں۔ میں نے کہا آپﷺ اس کی پروا نہ کریں اس کی میں ذمہ دار ہوں ۔ اگر آپﷺ کو جمال، شرف اور خوش حالی کی طرف دعوت دی جائے تو کیا آپﷺ اسے قبول نہیں فرمائیں گے؟ پوچھا کون۔ میں نے کہا ” حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا “ حضورﷺ نے فرمایا میرے لئے یہ کیوں کر ممکن ہے؟ یہ جواب سن کر میں خوشی خوشی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور جا کر سارا ماجرا کہہ سنایا۔ انہوں نے حضورﷺ کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی حضورﷺ تشریف لے گئے بات چیت ہوئی جب انہیں یقین ہو گیا کہ حضورﷺ ان کی درخواست کو مسترد نہیں کریں گے تو کہنے لگیں۔ اے میرے چچا زادﷺ! میں اس لئے آپﷺ میں رغبت رکھتی ہوں کہ رشۃ میں آپﷺ میرے قریبی ہیں۔ اپنی قوم میں آپﷺ کی شان بلند ہے ۔ امانت، حسن خلق، صدق مقال آپﷺ کی خصوصی صفات ہیں جب انہوں نے ادب و احترام کے ساتھ اپنی خواہش کا اظہار کیا تو حضورﷺ نے اسے قبول کر لیا۔ یہ منگنی تھی عقد نکاح نہ تھا۔ اس باہمی رضامندی کے باعث حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ اب آپﷺ اپنے چچا جان کے پاس تشریف لے جائیں اور کل سویرے انہیں ہمارے ہاں بھیجیں۔ دوسرے روز حضرت ابو طالب، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ میرے چچا کے پاس جائیں اور اپنے بھتیجے کے لئے میرا رشتہ طلب کریں۔ حضرت ابو طالب نے اس پر اپنی خوشنودی کا اظہار کیا اور فرمایا: ہٰذَا صُنْعُ اللہ ترجمہ: یہ قدرت الہیٰ کا کرشمہ ہے۔
اس طرح دولہا اور دلہن کے بزرگوں کی منظوری سے منگنی انجام پذیر ہوئی اور نکاح کے لئے تاریخ مقرر ہوئی۔ مقررہ تاریخ پر قبیلہ مضر کے رؤساء مکہ کے شرفاء اور امراء اکٹھے ہوئے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے ان کے چچا عمرو بن اسد وکیل بنے حضرت ابو طالب نے حضورﷺ کی طرف سے وکالت کا فریضہ انجام دیا۔ آپ نے اس وقت ایک فصیح و بلیغ خطبہ نکاح ارشاد فرمایا۔
“اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِيْ جَعَلَنَا مِنْ ذُرِّيَّةِ اِبْرَاهِيْمَ وَزَرْعِ اِسْمَاعِيْلَ وَضِئْضَئِيْ مَعْدِِ وَ عُنْصُرِ مُضَرَ م، وَ جَعَلَنَا حَضَنَةَ بَيْتِهٖ وَ سَوَّاسَ حَرْمِهٖ- وَجَعَلَ لَنَا بَيْتًا مَّحْجُوْجًا وَّحَرَمًا اٰمِنًا وَّ جَعَلْنَا الْحُكَّامَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ اِنَّ ابْنَ اَخِيْ هٰذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُوْزَنُ بِرَجُلٍ اِلَّا رَجَحَ بِهٖ وَاِنْ كَانَ فِي الْمَالِ قُلًّا وَّاِنَّ الْمَالَ ظِلٌّ زَائِلٌ وَّاَمْرٌ حَائِلٌ وَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَدْ بَذَلَ لَهَا مِنَ الصِّدَاقِ مَا اٰجِلُهٗ وَعَاجِلُهٗ اِثْنَتَا عَشَرَةَ اَوْقِيَةً ذَهَبًا وَنَشَاَ وَهُوَ وَاللَّهِ بَعْدَ هٰذَا لَهٗ نَبَاٌ عَظِيْمٌ وَّخَطَرٌ جَلِيْلٌ”
ترجمہ: سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی کھیتی سے معد کی نسل سے اور مضر کے اصل سے پیدا فرمایا۔ نیز ہمیں اپنے گھر کا پاسبان اور اپنے حرم کا منتظم مقرر کیا ہمیں ایک ایسا گھر دیا جس کا حج کیا جاتا ہے اور ایسا حرم بخشا جہاں امن میسر آتا ہے نیز ہمیں لوگوں کا حکمران مقرر فرمایا۔حمد کے بعد میرا یہ بھتیجا جس کا نام حضرت محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے۔ اس کا دنیا کے جس بڑے سے بڑے آدمی کے ساتھ موازنہ کیا جائے گا اس کا پلڑا بھاری ہو گا۔ اگر یہ مالدار نہیں تو کیا ہوا مال تو ایک ڈھلنے والا سایہ ہے اور بدل جانے والی چیز ہے۔ اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جس کی قرابت کو تم خوب جانتے ہو اس نے حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کا رشتہ طلب کیا ہے اور ساڑھے بارہ اوقیہ سونا مہر مقرر کیا ہے۔ اور بخدا مستقبل میں اس کی شان بہت بلند ہو گی اس کی قدر و منزلت بہت جلیل ہو گی۔
(خاتم النبیین، امام محمد ابو زہرہ ، جلد اول، صفحہ162 و دیگر کتب سیرت)
حضرت ابو طالب کے اس خطبہ کے بعد ورقہ بن نوفل کھڑے ہوئے جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد بھائی تھے اور جوابی خطبہ دیا۔ جس کا ترجمہ درج ذیل ہے۔
سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے جس نے ہمیں ان عزتوں اور انعامات سے نوازا۔ جس کا آپ نے ذکر فرمایا ہے۔ اور ہمیں وہ فضیلتیں بخشیں جن کو آپ نے گنا ہے۔ پس ہم سارے عرب کے سردار اور راہبر ہیں۔ اور آپ بھی ان صفات سے متصف ہیں۔ قبیلہ کا کوئی فرد ان کا انکار نہیں کرتا اور کوئی شخص آپ کی فضیلت کو رد نہیں کرتا۔ ہم اپنا تعلق آپ سے استوار کرنے میں بڑا اشتیاق رکھتے ہیں۔ اے خاندانِ قریش کے سردارو! گواہ رہو میں نے حضرت خدیجہ دختر خویلد رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت محمد بن عبداللہﷺ کے ساتھ کر دیا ہے۔
حضرت ابو طالب گویا ہوئے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس کار خیر میں اے ورقہ ،حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا بھی شریک ہوں۔ چنانچہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا عمرو بولے۔
“اِشْهَدُوْا يَا مَعَاشِرَ قُرَيْشٍ اِنِّيْ قَدْ اَنْكَحْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيْجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدْ وَشَهِدَ عَلٰى ذٰلِكَ صَنَادِيْدُ قُرَيْشٍ”
ترجمہ: اے قبائل قریش! گواہ رہنا میں نے حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت محمد بن عبداللہﷺ کے ساتھ کر دیا ہے اور اس پر قریش کے سردار گواہ مقرر ہوئے ہیں۔
ہادی انس و جانﷺ کی یہ پہلی شادی مبارک تھی جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس اہتمام اور شان و شوکت کے ساتھ انجام پذیر ہوئی اور قیامت تک امت کے لئے ان گنت خیرات و برکات کا سرچشمہ بنی۔ اس وقت حضورﷺ کا عنفوان شباب تھا۔ عمر مبارک پچیس سال تھی۔ اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک چالیس سال اور اس سے پہلے وہ دو بار بیوہ ہو چکی تھیں۔ یہاں ایک روایت کا ذکر کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ اس سے جو غلط فہمی پیدا کی جا سکتی ہے اس کا ازالہ ہو جائے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲