Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 146 نبی کریمﷺ کا عہد شباب اور کسب معاش کا دور: حصہ گیارہواں آخری حصہ)

(شام کی طرف دوسرا سفر :حصہ اول)


چند روز کی کٹھن مسافت طے کرنے کے بعد قافلہ شام کے شہر بصریٰ میں جا اترا۔ اور ایک خانقاہ کے قریب ایک سایہ دار درخت کے نیچے پڑاؤ کیا۔ حضورﷺ اپنے پہلے سفر شام میں بھی بصریٰ آئے تھے اور اسی صومعہ ( خانقاہ ) کے قریب قیام کیا تھا۔ اور یہاں ایک راہب سے ملاقات بھی ہوئی تھی جسکا نام بحیرہ تھا۔ اور موجودہ راہب جس سے ملاقات ہوئی یہ دوسرا شخص تھا جس کا نام “نسطورا ” تھا۔ دونوں سفروں کے درمیان میں تیرہ سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ حضورﷺ کی عمر مبارک اُس وقت بارہ سال اور اب پچیس سال تھی۔ ممکن ہے اس اثنا میں پہلا راہب فوت ہو گیا ہو۔ اور یہ بھی بعید نہیں کہ وہ یہاں سے نقل مکانی کر کے کسی دوسری خانقاہ میں چلا گیا ہو۔ نسطورا کی ملاقات جب میسرہ سے ہوئی تو اس نے پوچھا یہ شخص کون ہے ؟جو اس درخت کے نیچے تشریف فرما ہے۔ میسرہ نے بتایا کہ یہ مکہ کے ایک قریشی نوجوان ہیں۔ راہب نے جب حضورﷺ کی زیارت کی تو حضور ﷺکے اور قریب ہو گیا۔ سر مبارک اور قدمین شریفین کو بوسہ دیا اور کہا۔
“اٰمَنْتُ بِكَ وَاَشْهَدُ اَنَّكَ الَّذِيۡ ذَكَرَهُ اللهُ تَعَالٰى فِي التَّوْرٰةِ فَلَمَّا رَاَى الْخَاتِمَ قَبَّلَهٗ وَقَالَ اَشْهَدُ اَنَّكَ رَسُوۡلُ اللَّهِ النَّبِيُّ الْاُمِّىُّ الَّذِيۡ بَشَّرَ بِكَ عِيۡسٰى عَلَیۡہِ السَّلَامُ”
ترجمہ: میں آپﷺ پر ایمان لے آیا ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپﷺ وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے تورات میں کیا ہے۔ پھر جب اس نے مہر نبوت کو دیکھا تو چوم لیا اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی امی ہیں جس کی آمد کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی ہے۔
(خاتم النبیین، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، صفحہ 159)

میسرہ نے جب راہب کی یہ بات سنی ہو گی تو حیران رہ گیا ہو گا۔ راستہ میں اس نے یہ ایمان پرور منظر تو بار ہا دیکھا تھا کہ جب بھی دھوپ تیز ہو جاتی تھی تو دو فرشتے حضورﷺ پر سایہ کر دیتے تھے۔
(خاتم النبیین، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، صفحہ 159)

حضور ﷺ نے ملک شام میں قیام فرمایا یہاں تک کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سارا سامان تجارت جو مکہ سے ساتھ لائے تھے وہ فروخت کر دیا اور جو قیمت وصول ہوئی اس سے شام کی مصنوعات اور مغربی ممالک سے درآمد شدہ چیزیں خرید فرما لیں۔ پھر اپنے نئے خرید کردہ سامان کو اونٹوں پر لدوایا اور مکہ واپسی کی تیاری شروع کر دی۔ اس اثنا میں کسی گاہک سے کسی چیز کی خرید و فروخت پر اختلاف ہو گیا اس نے کہا آپﷺ لات و عزیٰ کی قسم کھائیں میں آپﷺ کی بات مان لوں گا۔ حضور ﷺنے فرمایا میں ان جھوٹے خداؤں کی قسم نہیں کھایا کرتا۔ وہ شخص ایسا متاثر ہوا کہنے لگا: “اَلۡقَوۡلُ قَوۡلُکَ” ترجمہ: اے امین اے صادق! جو آپﷺ کہتے ہیں وہی سچ ہے، قسم کی ضرورت نہیں۔

اس سفر میں دگنا نفع ہوا۔ جو توقع سے بھی بہت زیادہ تھا۔ یہ محض حضورﷺ کی امانت و دیانت اور کاروباری مہارت کا ثمر تھا۔ اور سب سے زیادہ اس برکت کا نتیجہ تھا جو اس ذات ستودہ صفات کے ساتھ وابستہ کر دی گئی تھی۔ نئے خرید کردہ سامان تجارت کو اونٹوں پر لادا اور حضور ﷺ قافلہ کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ جب مر الظہران کے مقام پر پہنچے تو حضورﷺ نے میسرہ کو حکم دیا کہ وہ آگے چلا جائے اور اپنی مالکہ رضی اللہ عنہا کو کامیاب تجارتی سفر کی خوشخبری سنائے۔ جب یہ قافلہ مکہ مکرمہ کے قریب پہنچا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنے مکان کی چھت پر چڑھ کر قافلہ کی آمد کا نظارہ کرنے لگیں انہوں نے حضورﷺ کو دیکھا اونٹ پر سوار ہیں سخت دھوپ ہے دو فرشتے حضورﷺ پر سایہ کئے ہوئے ہیں۔ حضورﷺ نے پہنچنے کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔ تو ان کی خوشی کی کوئی حد نہ رہی۔ میسرہ نے اس طویل سفر میں حضور سرور عالم ﷺکی عفت و دیانت، سیرت کی پختگی، کردار کی بلندی، اپنے ہمراہیوں کے ساتھ حسن سلوک، معاملہ فہمی اور کاروباری مہارت کے جو روح پرور مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے ان کا تذکرہ کیا۔ نسطورا راہب حضورﷺ کو دیکھ کر جس طرح فریفتہ ہو گیا تھا۔ اور حضور ﷺکے مستقبل کے بارے میں جو پیش گوئیاں کی تھیں وہ سنائیں۔ حضورﷺ اپنے حسب و نسب کے لحاظ سے پہلے ہی ارفع و اعلیٰ تھے ذاتی خصال حمیدہ کا ذکر جمیل سن کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے دل میں طے کر لیا کہ اگر ان کی رفیقہ حیات بننے کا شرف انہیں نصیب ہو جائے تو ان کی بڑی خوش قسمتی ہو گی۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top