Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 143نبی کریمﷺ کا عہد شباب اور کسب معاش کا دور: حصہ ہشتم)

(حلف الفضول: حصہ اول)


جزیرہ عرب میں کوئی منظم حکومت نہ تھی نہ وہاں با قاعدہ عدالتیں تھیں تاکہ مظلوم داد رسی کے لئے ان کا دروازہ کھٹکھٹا سکے ۔ سارا عرب معاشرہ قبائلی نظام میں جکڑا ہوا تھا۔ اگر کسی قبیلے کا کوئی فرد دوسرے قبیلے کے کسی فرد کو قتل کر دیتا تو مقتول کا قبیلہ صرف اس قاتل سے باز پرس نہ کرتا بلکہ قاتل کے سارے قبیلہ کو اپنے انتقام کا ہدف بناتا لیکن کمزور قبائل کے لئے ممکن نہ تھا کہ وہ طاقتور قبیلہ سے اپنے مقتول کا بدلہ لے سکیں اسی طرح اگر کوئی مسافر کسی شہر میں آ جاتا اور اس شہر کا کوئی باشندہ اس پر ظلم اور زیادتی کرتا تو اس کی فریاد سننے والا وہاں کوئی نہ ہوتا۔ مکہ مکرمہ میں قریش کے دس قبائل آباد تھے جو دیگر عربی قبائل کے مقابلہ میں ایک دوسرے کے حلیف تھے۔ اگر کوئی عربی قبیلہ کسی ایک قریشی قبیلہ پر حملہ کرتا تو سارے قریشی قبائل اس قبیلہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر حملہ آور قبیلہ کا مقابلہ کرتے۔ یہ دریافت کرنے کی کوئی زحمت گوارا نہ کرتا کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون ۔ اس صورت حال سے مکہ کے وہ باشندے جن کو اللہ تعالیٰ نے دل درد مند عطا فرمایا تھا سخت نالاں تھے۔ انہیں ہر گز یہ پسند نہ تھا کہ کسی بے سہارا مسافر پر مکہ کا کوئی رئیس زیادتی کرے اور وہ بے بس تماشائی بنے رہیں۔ اسی اثناء میں ایک واقعہ پیش آیا کہ زبید (یمن) کا ایک تاجر اپنے سامان تجارت کے ساتھ مکہ آیا عاص بن وائل جو یہاں کا ایک رئیس تھا اس نے اس تاجر سے سامان خریدا پھر اس کی قیمت دینے سے انکار کر دیا۔ وہ بےچارا مسافر تھا یہاں اس کی جان نہ پہچان ، اس نے عاص بن وائل کے دوست قبائل عبد الدار ، مخزوم ، جبح، سہم، عدی بن کعب سے اس کی شکایت کی۔ اور ان سے درخواست کی کہ وہ اس سلسلہ میں اس کی مدد کریں۔ انہوں نے اُلٹا اسے جھڑک دیا۔ زبیدی نے ان سے مایوس ہو کر ایک اور حیلہ کیا۔ طلوع آفتاب کے بعد جب قریش حرم کعبہ میں حسب معمول اپنی اپنی مجلسیں جمائے بیٹھے تھے تو وہ جبل ابی قبیس کے اوپر چڑھ گیا اور وہاں کھڑے ہو کر بلند آواز سے فریاد کی۔

يَا اٰلَ فِهْرِ لِلِمَظْلُوۡمِ بِضَاعَتُہٗ
بِبَطْنِ مَكَّةَ نَائِیَ الدَّارِ وَالنَّفَرٖ
اے فہر کی اولاد اس مظلوم کی فریاد سنو ! جس کا مال و متاع مکہ شہر میں ظلماً چھین لیا گیا ہے۔ وہ غریب الدیار ہے اپنے وطن سے دور اپنے مدد گاروں سے دور ۔

وَمُحْرِمٍ اَشْعَثِ لَمْ يَقْضِ عُمۡرَتَهٗ
یَا لَلرِّجَالِ وَبَيْنَ الۡحِجۡرِ وَالۡحَجَرٖ
وہ ابھی احرام کی حالت میں ہے اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اس نے ابھی عمرہ بھی ادا نہیں کیا۔ اے مکہ کے رئیسو! میری فریاد سنو۔ مجھ پر حطیم اور حجر اسود کے درمیان ظلم کیا گیا ہے ۔

اِنَّ الۡحَرَامَ لِمَن تَمَّتْ كَرَامَتُہٗ
وَلَا حَرَامَ لِثَوۡبِ الْفَاجِرِ الْغَدَرٖ
عزت و حرمت تو اس کی ہے جس کی شرافت کامل ہو۔ جو فاجر اور دھوکا باز ہو اس کے لباس کی تو کوئی حرمت نہیں۔

حرم میں موجود سارے قریشیوں نے یہ فریاد سنی لیکن سب سے پہلے جس کو ایک مسافر اور بے یار و مدد گار کی فریاد پر لبیک کہنے کا حوصلہ ہوا وہ زبیر بن عبدالمطلب تھے۔ آپ کو یہ سن کر یارائے ضبط نہ رہا۔ اُٹھ کھڑے ہوئے اور اعلان کیا۔
“مَا لِهٰذَا مُتْرِكٌ” ترجمہ:یعنی اب اس فریاد کو نظر انداز کر دینا ہمارے بس کا روگ نہیں۔

چنانچہ عبداللہ بن جدعان کے گھر میں بنی ہاشم ، بنی زہرہ ، بنی تیم بن مرہ قبائل جمع ہوئے۔ ابن جدعان نے پر تکلف ضیافت کا اہتمام کیا۔ ان سب شرکاء نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ عہد کیا۔
“لَيَكُوۡنُنَّ يَدًا وَاحِدَةً مَعَ الْمَظْلُوۡمِ عَلَى الظَّالِمِ حَتّٰى يُؤَدِّيَ اِلَيْهِ حَقَّهٗ مَا بَلَّ بَحْرٌ صُوۡفَةً وَمَا رَسَا حِرَآءِ وَ ثَبِيۡرُ مَكَانَهُمَا وَعَلَى التَّاۡسِيۡ فِيۡ الۡمَعَاشِ”
ترجمہ: وہ سب متحد ہو کر ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کریں گے یہاں تک کہ ظالم، مظلوم کو اس کا حق ادا کر دے۔ اور ہم اس عہد پر پابند رہیں گے جب تک سمندر، صوف ( اون ) کو تر کرتا ہے اور جب تک حراء اور ثبیر کے پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہیں۔ اور معاش میں ہم ایک دوسرے کی ہمدردی کریں گے۔

اس معاہدہ کو حلف الفضول کے نام سے موسوم کیا گیا کیونکہ عہد قدیم میں بنو جرہم نے بھی اس قسم کا ایک معاہدہ کیا تھا۔ اور جن تین آدمیوں نے اس معاہدہ کی تحریک کی تھی اور اسے پروان چڑھایا تھا ان تینوں کا نام فضل تھا۔

(۱) فضل بن فضالہ
(۲) فضل بن وداعہ
(۳) فضیل بن حارث۔

بعض نے اس کا نام بھی فضل ہی بتایا ہے۔ کیونکہ اس معاہدہ کے بھی وہی مقاصد تھے اس لئے اس کو بھی حلف الفضول کے نام سے شہرت ملی ۔ جب یہ معاہدہ طے پا گیا تو سب مل کر عاص کے گھر گئے اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس تاجر کا مال واپس کر دے۔ اب اسے مجال انکار نہ رہی اور اس نے مجبوراً اس کا مال اس کو واپس کر دیا۔ اس موقع پر حضرت زبیر بن عبدالمطلب نے اپنی مسرت کا اظہار یوں کیا ہے۔

اِنَّ الْفُضُوۡلَ تَعَاقَدُوۡا وَ تَخَالَفُوا
اَلَّا يُقِيۡمَ بِبَطْنِ مَكَّةَ ظَالِمٗ
یہ معاہدہ کرنے والوں نے قسم اٹھائی ہے کہ سر زمین مکہ میں کوئی ظالم نہیں ٹھہر سکے گا۔

اَمْرٌ عَلَيْهِ تَعَاقَدُوۡا وَتَوَافَقُوۡا
فَالْجَارُ وَالْمُعْتَرُٗ فِيۡهِمْ سَالِمٗ
یہ ایسی بات ہے جس پر ان سب نے متفقہ معاہدہ کیا ہے پردیسی اور فقیر جوان کے ہاں ہو گا ہر قسم کے جور و ستم سے محفوظ ہو گا۔
(الروض الانف، جلد اول، صفحہ 157 وغيره من كتب السيرة)

رحمت عالمﷺکی عمر مبارک اس وقت بیس سال تھی ۔ حضورﷺ نے اس معاہدہ میں شرکت فرمائی بعثت کے بعد بھی حضورﷺ اس معاہدہ میں شرکت پر اظہار مسرت فرمایا کرتے تھے۔ ارشاد گرامی ہے۔
“لَقَدْ شَهِدْتُّ فِيۡ دَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَدْعَانِ حِلْفًا مَا اُحِبَّ اَنَّ لِيۡ بِهٖ حُمُرَ النَّعِيۡمِ، وَلَوۡ دُعِىَ بِهٖ فِي الْاِسْلَامِ لَاَجَبْتُ”
ترجمہ: کہ میں عبداللہ بن جدعان کے گھر میں حاضر تھا جب حلف فضول طے پائی اس کے بدلے میں اگر مجھے کوئی سرخ اونٹ دے تب بھی میں لینے کے لئے تیار نہیں۔ اور اس قسم کے معاہدہ کی دعوت اسلام میں بھی اگر کوئی مجھے دے تو میں اسے قبول کروں گا۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top